03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا اپنے وکیل کے ذریعے خریدا ہوا مال اسی وکیل کو نفع کے ساتھ بیچا جا سکتا ہے؟
92478خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر کسی شخص کو کچھ سامان چاہیے اور میں اسے کہوں کہ آپ بازار جائیں، دکاندار سے سامان کی رسید/بل بنوائیں اور مجھے بھیجیں، میں دکاندار کو آن لائن رقم ادا کر دیتا ہوں، پھر آپ دکاندار سے سامان لے لیں اور مجھے ماہانہ اقساط میں رقم ادا کریں۔

.1اب   اگر سامان کی قیمت 100,000 روپے ہو اور میں 40 فیصد منافع رکھ کر 140,000 روپے اقساط میں وصول کروں، تو کیا یہ جائز ہے؟

.2 اور  اگر درج بالا صورت ناجائز ہو تو  کیا کسٹمر کو اپنا وکیل/نمائندہ (وکیل بالشراء) بنا کر پہلے میری طرف سے

سامان خریدنا، پھر اس سامان کو کسٹمر کو فروخت کرنا شرعاً درست ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1اگر حاجت مند شخص خود اپنا مطلوبہ سامان خریدے اور آپ بل آن لائن ادا کرکے اقساط کی صورت میں زیادہ وصول کریں  ، تو یہ صورت جائز نہیں  ۔

.2اگر اب تک خریداری نہ ہوئی ہو تو کسٹمر سے مطلوبہ سامان کا آرڈر لے کر، خود سامان خریدا جائے  یا کسی تیسرے فریق کو وکیل بالشراء بنایا جائے اور پھر کسٹمر پر فروخت کیا جائے، تو یہ  صورت  شرعا درست ہوجائے گی ۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (7/ 204):

لأن قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب