| 92503 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
ہم آن لائن کام کے طور پر گیسٹ پوسٹنگ کرتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ نئی ویب سائٹ والے اپنی ویب سائٹ کو گوگل پر رینک کرانے کے لیے ایک آرٹیکل لکھواتے ہیں، جس میں اپنی سائٹ کا بیک لنک شامل کرتے ہیں، اور پھر یہ آرٹیکل کسی بڑی (ہائی رینکنگ) ویب سائٹ پر پیسے دے کر شائع کرواتے ہیں، اس عمل کے بدلے فری لانسر کو کمیشن ملتا ہے، اس سلسلے میں چند امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
۱۔ کیا جوئے اور قمار بازی، شراب اور منشیات، فحاشی، عریانی یا غیر شرعی لباس و تصاویر پر مشتمل ویب سائٹس، نیز فلمز، میوزک اور اس جیسی دیگر تفریحی ویب سائٹس کے لیے آرٹیکل لکھنا اور ان کے بیک لنکس لگانا شرعاً جائز ہے؟
۲۔کیا انشورنس سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے لیے بیک لنکس کا کام کرنا جائز ہے؟
۳۔کرپٹو کرنسی كی ویب سائٹس کی پروموشن اور ان کے لیے بیک لنکس لگانے کا کیا حکم ہے؟
۴۔عام جائز کاروباری ویب سائٹس (جیسے کپڑے، فیشن، یا فوٹوگرافی وغیرہ) کے لیے لنکس لگانے کا کیا حکم ہے؟
گیسٹ پوسٹنگ کے کام میں سب سے بنیادی چیز "Backlink" لگانا ہوتا ہے۔ بیک لنک کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک ویب سائٹ اپنے کسی آرٹیکل کے اندر دوسری ویب سائٹ کا لنک دیتی ہے، جسے گوگل کا سرچ انجن ایک طرح کی سفارش (Recommendation) سمجھتا ہے اور اس کی بنیاد پر دوسری ویب سائٹ کی ویلیو اور رینکنگ بڑھتی ہے۔
گوگل نے ان لنکس کے کام کرنے کا طریقہ کار جانچنے کے لیے الگ الگ ٹیگ مقرر کیے ہیں۔ ایک "Sponsored Link" (اسپانسرڈ لنک) ہوتا ہے، جب کوئی لنک پیسے دے کر خریدا جاتا ہے تو اصولاً اس پر یہ ٹیگ لگایا جاتا ہے، جس سے گوگل کا سسٹم یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ ایک خریدا ہوا اشتہار ہے، لہٰذا وہ "SEO" (ایس ای او) میں اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور نہ ہی اس کی وجہ سے ویب سائٹ کی رینکنگ بڑھاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا "Do-Follow Link" (ڈو فولو لنک) ہوتا ہے، اس پر کوئی اسپانسرڈ ٹیگ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے گوگل کا سسٹم اسے ایک خالص، قدرتی اور معتبر سفارش سمجھتا ہے اور جس ویب سائٹ کا لنک لگا ہو اسے ایس ای او میں بھرپور فائدہ دے کر اوپر لے آتا ہے۔
عملی طور پر مارکیٹ میں یہ ہوتا ہے کہ کلائنٹ ویب سائٹ کو رینک کرانے کے لیے پیسے دے کر لنک لگواتا ہے، لیکن زیادہ ایس ای او فائدہ حاصل کرنے کے لیے وہ ہم سے یہ لنک اسپانسرڈ کی بجائے’’ ڈو فولو‘‘ کی شکل میں لگواتا ہے۔ اس عمل سے گوگل کے خود کار سرچ انجن کو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ایک قدرتی سفارش ہے، جبکہ حقیقت میں یہ خریدا گیا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں کلائنٹ، ہم (فری لانسر) اور ویب سائٹ کا مالک سب اس حقیقت کو جانتے ہیں اور آپس میں راضی ہوتے ہیں۔
دوسری جانب زمینی حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر لوگ کھلے عام بیک لنکس خرید اور بیچ رہے ہیں، اگرچہ یہ گوگل کی پالیسی کے خلاف ہے لیکن وہ عملی طور پر کوئی مؤثر ایکشن نہیں لیتا۔ نیز، موجودہ دور میں کسی بھی نئی ویب سائٹ کو "Rank" (رینک یعنی گوگل کے پہلے پیج پر لانا) کرنے کے لیے بیک لنکس خریدنا لازم ہوچکا ہے، اس کے بغیر رینکنگ مشکل ہے، اور اگر کوئی ویب سائٹ قدرتی طور پر رینک ہو بھی جائے تو مدمقابل لوگ بیک لنکس خرید کر اسے دوبارہ ڈی رینک (پہلے پیج سے ہٹا) کر دیتے ہیں۔
۵۔ ان تمام تفصیلات کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیا گوگل کی پالیسی کے خلاف جا کر اور اس کے سسٹم کو بظاہر دھوکہ دے کر پیسے والے لنک کو ڈو فولو کی شکل میں لگانا شرعاً دھوکہ شمار ہوگا؟ یا چونکہ اس معاملے کے اصل فریقین آپس میں راضی ہیں اور مارکیٹ کی مجبوری بھی یہی ہے، اس لیے یہ عمل جائز ہوگا؟ اور اس مخصوص طریقے سے حاصل ہونے والی کمائی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ’’گیسٹ پوسٹنگ‘‘ (کسی بڑی اور معروف ویب سائٹ پر آرٹیکل شائع کرنا) اور ’’بیک لنکنگ‘‘ (اس آرٹیکل میں کلائنٹ کی ویب سائٹ کا لنک شامل کرنا) شرعی اعتبار سے اجارہ (سروسز کی فراہمی) کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں فری لانسر چھوٹی اور بڑی ویب سائٹ کے درمیان واسطہ بن کر کام کرتا ہے اور اپنی خدمات کے عوض نفع کماتا ہے۔
اس عمل کا بنیادی مقصد جہاں ایک طرف چھوٹی ویب سائٹ (کلائنٹ) کی رینکنگ بڑھانا ہے، وہیں دوسری طرف بڑی ویب سائٹ کو بھی معیاری مواد اور اجرت کی شکل میں مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ گویا اس معاملے میں دونوں ویب سائٹس کا مشترکہ فائدہ وابستہ ہوتا ہے اور فری لانسر اپنی خدمات کے ذریعے دونوں کے کاروبار کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔
لہذا، اس معاملہ اور اس سے حاصل ہونے والی اجرت حلال ہونے کا دارومدار کلائنٹ اور ہوسٹ دونوں کے کاروبار کی نوعیت ،آرٹیکل کے مواد،اور کام کے طریقہ کار پر ہے۔ اس تمہید کی روشنی میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
۱۔ جوئے، قمار بازی، شراب، منشیات، فحاشی، عریانی، فلمز، میوزک اور دیگر غیر شرعی تفریحی مواد پر مشتمل ویب سائٹس کے لیے آرٹیکل لکھنا اور بیک لنکس لگانا شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ کے کاموں میں کھلا تعاون ہے۔
۲۔ انشورنس کا کاروبار سود اور غرر پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لیے انشورنس سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے لیے بیک لنکس کا کام کرنا بھی شرعاً جائز نہیں۔
۳۔ کرپٹو کرنسی کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک حکومت اس کے بارے میں کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں کرتی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتی، تب تک اس میں سرمایہ کاری کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ اس بناء پر جب بنیادی کرپٹو میں ہی سرمایہ کاری کرنا درست نہیں، تو اس کی پروموشن کرنا اور اس کے لیے بیک لنکس لگانا بھی جائز نہیں۔
۴۔عام حلال کاروباری ویب سائٹس (جیسے عام لباس وغیرہ) کے لیے لنکس لگانا شرعاً جائز ہے۔ تاہم فیشن، ماڈلنگ اور فوٹوگرافی کی ویب سائٹس کے لیے کام کرتے وقت اس بات کی احتیاط لازم ہے کہ ان پر خواتین کی تصاویر یا غیر شرعی و نیم برہنہ لباس کی تشہیر نہ ہو، لیکن جب واضح طور پر معلوم ہو کہ خریدنے والا اسے ناجائز طریقہ سے استعمال کرے گا، تو ایسے لباس کا بیچنا چونکہ کراہت سے خالی نہیں، لہٰذا ایسی ویب سائٹ کے آرٹیکلز شائع کرانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ ایسی ویب سائٹ کے کام میں اس طرح تعاون کرنا معاشرے میں بے پردگی و بے حیائی کے پھیلنے کا سبب ہے۔
۵۔مذکورہ عمل میں "SEO" کی زیادہ اہمیت حاصل کرنے کے لیے خریدی گئی تشہیر یعنی "اسپانسرڈ لنک" (Sponsored Link) میں تکنیکی تبدیلی کر کے اسے "Do-Follow" لنک شمار کروانا—تاکہ صارفین اسے خالصتاً قدرتی سفارش سمجھ کر قابلِ اعتماد جانیں اور اس لنک کے سرِفہرست ہونے کی وجہ اس کا کثرتِ استعمال اور حقیقی مقبولیت کوسمجھیں، جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہو— دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
شرعی اصولوں کے مطابق، کسی چیز کو اس کی اصل صفات سے ہٹ کر ایسی خوبیوں کے ساتھ پیش کرنا جو اس میں موجود نہ ہوں، "تغریر" (دھوکہ دہی اور فریب) کہلاتا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی مصنوعی مقبولیت ظاہر کرنا، یا اس کی ایسی جھوٹی تعریف کرنا جس سے دوسرے لوگ دھوکے میں آکر اسے قابلِ قدر سمجھیں، فقہی اصطلاح میں "نجش" کہلاتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس طرح حقائق چھپا کر جھوٹا تاثر دینے اور مصنوعی کشش پیدا کرنے کی سختی سے ممانعت آئی ہے۔
لہٰذا، یہ عمل ایک خود کار سرچ انجن اور انٹرنیٹ کے عام صارفین کے ساتھ دھوکہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے، اور اس عمل کے عوض اجرت لینا یا اس سے حاصل شدہ آمدن حلال نہیں ہے۔ نیز، محض کلائنٹ اور ہوسٹ کے راضی ہونے کی وجہ سے اس ملمع سازی کے ناجائز ہونے کے شرعی حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ قرآن کریم میں گناہ اور دھوکے کے کاموں میں آپس کی رضامندی اور باہمی تعاون کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ جات
المائدة🙁 2)
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
ترجمہ:”نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“
صحيح مسلم(5/ 50):
باب لعن آكل الربا ومؤكله: 105- (1597) حدثنا عثمان بن أبي شيبة، وإسحاق بن إبراهيم ، (واللفظ لعثمان)، قال إسحاق: أخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن مغيرة قال: سأل شباك إبراهيم ، فحدثنا عن علقمة ، عن عبد الله قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله. قال: قلت: وكاتبه وشاهديه، قال: إنما نحدث بما سمعنا .
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238):
قال: "ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي"؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.
حاشية ابن عابدين (6/ 391):
(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.
وفي المحيط لا يكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي، لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ (قوله لا عصرها لقيام المعصية بعينه) فيه منافاة ظاهرة لقوله سابقا لأن المعصية لا تقوم بعينه ط وهو مناف أيضا لما قدمناه عن الزيلعي من جواز استئجاره لعصر العنب أو قطعه، ولعل المراد هنا عصر العنب على قصد الخمرية فإن عين هذا الفعل معصية بهذا القصد، ولذا أعاد الضمير على الخمر مع أن العصر للعنب حقيقة فلا ينافي ما مر من جواز بيع العصير واستئجاره على عصر العنب هذا ما ظهر لي فتأمل.
صحيح مسلم (5/ 3):
باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه وسومه على سومه وتحريم النجش وتحريم التصرية... 11 - (1515) حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأت على مالك ، عن أبي الزناد ، عن الأعرج ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « لا يتلقى الركبان لبيع، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، ولا تناجشوا، ولا يبع حاضر لباد، ولا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتاعها بعد ذلك فهو بخير النظرين، بعد أن يحلبها، فإن رضيها أمسكها، وإن سخطها ردها، وصاعا من تمر .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 107):
(قوله وكره النجش) شروع في مكروهات البيع، ولما كان المكروه دون الفاسد أخره، وليس المراد بكونه دونه في حكم المنع الشرعي بل في عدم فساد العقد، وإلا فهذه كلها تحريمية لا نعلم خلافا في الإثم كذا في فتح القدير، وقد بحث هنا بحثا لا طائل تحته تركته عمدا، وقد تقرر في الأصول أن كل منهي عنه قبيح فإن كان لعينه أفاد بطلانه، وإن كان لغيره فإن كان لوصف كبيع الربا والبيع بشرط مفسد أفاد فساده، وإن كان لمجاور كهذه البيوع المكروهة أفاد كراهة التحريم مع الصحة، والنجش بفتحتين، ويروى بالسكون أن تسام السلعة بأزيد من ثمنها، وأنت لا تريد شراءها ليراك الآخر فيقع فيه، وكذلك في النكاح وغيره، ولا تناجشوا لا تفعلوا ذلك، وأصله من نجش الصيد، وهو إثارته كذا في المغرب، وفي القاموس النجش أن تواطئ رجلا إذا أراد بيعا أن تمدحه أو أن يريد الإنسان أن يبيع بياعة فتساومه بها بثمن كثير لينظر إليك ناظر فيقع فيها أو أن تنفر الناس عن الشيء إلى غيره، وإثارة الصيد، والبحث عن الشيء وإثارته والجمع والاستخراج والإنقاذ والإسراع كالنجاشة بالكسر. اهـ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 233):
(ومنها) النجش وهو أن يمدح السلعة ويطلبها بثمن ثم لا يشتريه بنفسه ولكن ليسمع غيره فيزيد في ثمنه وإنه مكروه لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه ’نهى عن النجش‘؛ ولأنه احتيال للإضرار بأخيه المسلم.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 130):
[ (المادة 164) التغرير توصيف المبيع للمشتري بغير صفته الحقيقية]
تغرير، على وزن تفعيل وهو بمعنى الإخداع. ويقال للخادع غار وللمخدوع مغرور.
وذلك كأن يقول البائع للمشتري: إن مالي يساوي كذا وهو لا يساوي ذلك فخذه، أو يقول المشتري للبائع: إن مالك لا يساوي أكثر من كذا، وهو يساوي أكثر من ذلك، فبعه لي به.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار (5/ 101):
(و) كره (النجش) بفتحتين ويسكن: أن يزيد ولا يريد الشراء أو يمدحه بما ليس فيه ليروجه ويجري في النكاح وغيره.
لبیب بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24 /ربیع الثانی/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | لبیب بن طارق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


