| 92492 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک دکان میرے دادا نے میرے والد کے نام پر کی تھی۔ بعد میں میرے دادا کا انتقال ہوگیا، لیکن گھر کے تمام افراد کے لیے یہ بات واضح تھی کہ اگرچہ دکان کے کاغذات میرے والد کے نام پر ہیں، لیکن حقیقت میں یہ دکان میرے دادا کی ملکیت تھی۔ بہرحال، اپنے نام پر ہونے کے باوجود میرے والد اس دکان کو اپنے والد (یعنی ہمارے دادا) کی امانت سمجھتے ہیں، اور اس کی تقسیم بھی اسی طرح کر رہے ہیں جیسے دادا کی وفات کے بعد ان کی وراثت تقسیم ہوتی ہے۔ امانت ہونے کی کوئی لکھت پڑھت موجود نہیں ہے، لیکن میرے والد سمیت تمام ورثاء کو یہ معلوم ہے اور سب اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ دکان دادا ہی کی ہے۔
1) اس صورتِ حال میں شرعی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟ کیا صرف کاغذات والد کے نام پر ہونے کی وجہ سے شرعاً یہ دکان والد کی مکمل ملکیت شمار ہوگی، یا اگر حقیقتاً یہ دادا کی ملکیت تھی تو اسے دادا کے ترکے میں شامل کرکے شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا؟ نیز اگر شرعاً یہ والد کی ملکیت شمار ہوتی ہے، تو کیا وہ اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے اس دکان کو تقسیم، ہبہ یا کسی اور طریقے سے منتقل کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ ابھی حیات ہیں؟
اب تک یہ دکان کرائے پر تھی، اور اس سے حاصل ہونے والے کرائے سے دکان کی مرمت، دیکھ بھال، اور دیگر واجبات واخراجات ادا کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کرائے کی کوئی تقسیم کبھی نہیں کی گئی، بلکہ اس کو دکان کی مرمت اور بقایا جات کی ادائیگی کی مد میں استعمال میں رکھا گیا۔ لیکن اب اس کے کرائے کا بھی مکمل حساب موجود نہیں ہے، صرف ایک اندازے اور چند سالوں کا حساب ہے۔
2) ایسی صورت میں جبکہ دکان کے کاغذات مکمل نہیں ہیں، اس دکان سے حاصل ہونے والے کرائے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا موجودہ طریقے کے مطابق دکان کی ضروری مرمت اور واجبات وغیرہ میں کرائے کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟ اور اب ان سب اخراجات کی ادائیگی کے بعد جو کرایہ بچتا ہے، اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
3) مزید یہ کہ چونکہ دکان کے کاغذات مکمل نہیں ہیں اور اصل ملکیت اور کاغذات کے حوالے سے بھی مسئلہ موجود ہے، تو ایسی صورت میں شریعت کی روشنی میں آئندہ اس دکان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کیا اسے فروخت کیا جاسکتا ہے، کسی وارث کے حوالے کیا جاسکتا ہے، یا پہلے اس کے کاغذات اور ملکیت کا معاملہ شرعی وقانونی طور پر واضح کرنا ضروری ہوگا؟
مہربانی فرما کر قرآن وسنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں مکمل رہنمائی فرما دیں کہ ان تمام صورتوں میں ہمارے لیے درست اور جائز طریقہ کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1) شریعت میں اصل اعتبار حقیقی ملکیت کا ہوتا ہے، محض کاغذات کسی کے نام ہونے سے شرعی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے والد سمیت تمام ورثاء کو معلوم ہے اور سب اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ دکان دادا نے والد کو مالک بنانے کے لیے ہبہ (گفٹ) نہیں کی تھی بلکہ صرف کاغذات ان کے نام پر کروائے تھے، تو شرعاً یہ دکان آپ کے دادا مرحوم ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور ان کا ترکہ بنے گی۔ اسے دادا کے تمام ورثاء میں ان کے مقررہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا؛ آپ کے والد کے لیے اس دکان کو ہبہ کرنا یا کسی اور کے نام منتقل کرنا درست نہیں ہے۔
2) اس دکان سے حاصل ہونے والے کرائے کی رقم کو دکان کی ضروری مرمت، دیکھ بھال اور دیگر واجبات و اخراجات میں خرچ کرنا شرعاً درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ ان اخراجات کی ادائیگی کے بعد کرائے کی جو رقم بچ جائے، وہ تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔ البتہ گزشتہ سالوں کے کرائے اور اخراجات کا جتنا حساب یقینی طور پر معلوم ہو اس کے مطابق، اور جہاں مکمل حساب موجود نہ ہو وہاں غالب گمان اور باہمی رضامندی سے اندازہ لگا کر بقایا رقم تقسیم کر لی جائے۔
3) چونکہ شرعاً یہ دکان تمام ورثاء کی مشترکہ میراث ہے، اس لیے آئندہ اس کو فروخت کرنے میں بہتر اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی یا نزاع سے بچنے کے لیے پہلے دکان کے کاغذات قانونی طور پر مکمل اور درست کروائے جائیں، اور اس کے بعد باہمی رضامندی سے دکان فروخت کر کے اس کی قیمت ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر دی جائے۔
تاہم اگر کاغذات مکمل ہونے سے پہلے ہی کوئی شخص یہ دکان خریدنا چاہے، تو خریدار کو کاغذات کی کمی اور اصل صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ کر کے تمام ورثاء کی رضامندی سے اسے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔
نیز اگر ورثاء میں سے کوئی ایک وارث یہ دکان خود رکھنا چاہے، تو باہمی رضامندی سے دکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو طے کر کے وہ وارث اپنے شرعی حصے کے بقدر رقم منہا کر لے، اور باقی ماندہ قیمت دیگر تمام ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کے حساب سے ادا کر کے دکان کا مالک بن جائے، شرعاً یہ صورت بھی بالکل جائز ہے۔
حوالہ جات
فقه البيوع (219/1، دار القلم):
وعلى هذا الأساس أفتى علماءُ شِبه القارة الهنديّة: بأن مجرّدَ تسجيلِ الأرض باسم أحدٍ لا يستلزم أن يكون هو مالكاً لها، فلو اشتراها أحدٌ باسم رجلٍ آخرَ لم يدفع الثّمن، وإنما دُفع الثّمن من قِبَل الأوّل، فمجرّدُ هذا التّسجيل لا يَعني أنّه وهب له الأرض.
الدر المختار مع رد المحتار (6/ 79، بترقيم الشاملة):
(وعمارة الدار) المستأجرة (وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء على رب الدار) وكذا كل ما يخل بالسكنى (فإن أبى صاحبها) أن يفعل (كان للمستأجر أن يخرج منها إلا أن يكون) المستأجر (استأجرها وهي كذلك وقد رآها) لرضاه بالعيب.
محمد طیب جاویدبن محمد جاوید اختر
دار الافتاء، جامعۃ الرشید
24/ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طیب جاوید بن محمد جاوید اختر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


