| 92685 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک ونیلا فلیور/ایسنس ہے جسے میٹھی اشیاء، مثلاً کسٹرڈ وغیرہ میں ذائقے اور خوشبو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بوتل پر درج اجزاء یہ ہیں:
پانی، ونیلا فلیور، پروپیلین گلائیکول، الکوحل، رنگ (E150a)، تیزابیت کو کنٹرول کرنے والا مادہ (E330)۔
بوتل پر درج ہے کہ اس میں 5.4 فیصد الکوحل شامل ہے۔
اس فلیور کو عموماً میٹھی چیز میں تقریباً ایک چائے کا چمچ (5 ملی لیٹر) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حساب سے ایک چائے کے چمچ میں تقریباً 0.27 ملی لیٹر الکوحل بنتی ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ:
کیا مذکورہ الکوحل والے ونیلا فلیور کو ایک چائے کے چمچ کے قریب مقدار میں کسٹرڈ یا دیگر میٹھی اشیاء میں شامل کرکے استعمال کرنا شرعاً جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ الکوحل کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:
(1) ایک قسم وہ الکوحل ہے جو انگور، منقیٰ، کشمش یا کھجور سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ بالاتفاق ناپاک اور حرام ہے، لہٰذا اس کا داخلی و خارجی استعمال اور اس کی خرید و فروخت جائز نہیں۔
(2) دوسری قسم وہ الکوحل ہے جو مذکورہ اشیاء کے علاوہ کسی دوسری چیز، مثلاً جو، آلو، شہد، گنا یا سبزی وغیرہ سے حاصل کی جاتی ہے۔
(3) تیسری قسم وہ الکوحل ہے جو کیمیائی طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔
دوسری اور تیسری قسم کی الکوحل فی نفسہٖ پاک ہے، اور اس کا استعمال اور خرید و فروخت بھی جائز ہے، بشرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو۔
البتہ کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور فلیورز میں اگر انگور یا کھجور سے حاصل شدہ ایتھائل الکوحل شامل ہو تو اس کا استعمال کسی بھی مقدار میں جائز نہیں، خواہ اس کی مقدار کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
اور اگر ایتھائل الکوحل انگور یا کھجور کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ سے حاصل شدہ ہو تو ایسی الکوحل کا کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال اس مقدار میں جائز نہیں جس سے نشہ پیدا ہوتا ہو یا نشہ ہونے کا امکان ہو۔ تاہم ایسی معمولی مقدار جس سے نشہ پیدا نہ ہوتا ہو، اس کا استعمال جائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ فلیور میں شامل ایتھائل الکوحل انگور، منقیٰ، کشمش یا کھجور سے حاصل شدہ ہو تو اس فلیور کا استعمال، خواہ اس میں الکوحل کی مقدار معمولی ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر اس میں شامل الکوحل مذکورہ اشیاء کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ سے حاصل شدہ ہو تواس کا استعمال جائز ہے ؛ کیوں کہ اس میں شامل مقدار سے نشہ نہیں آتا ۔
واضح رہے کہ عام طور پر پرفیوم، ادویات اور دیگر مرکبات، مثلاً چاکلیٹ وغیرہ میں استعمال ہونے والی الکوحل انگور یا کھجور سے حاصل نہیں کی جاتی بلکہ دیگر ذرائع سے تیار کی جاتی ہے۔ اس لیے محض کسی چیز میں الکوحل شامل ہونے کی بنا پر اسے ناجائز یا حرام قرار نہیں دیا جائے گا، جب تک تحقیق سے یہ ثابت نہ ہو کہ اس میں انگور، منقیٰ، کشمش یا کھجور سے حاصل شدہ الکوحل استعمال کی گئی ہے۔ تاہم احتیاط کی بنا پر ایسی اشیاء سے اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ جات
«تکملہ فتح الملہم»(3/ 506):
"«و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة ( Alcohols ) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."»
«تکملہ فتح الملہم»(3/ 551):
"«وإنما نبهت علی هذا لأن الکحول المسکرة الیوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض کیمیاوية أخری ولاتستغنی عنها کثیر من الصناعات الحدیثة، وقد عمت بها البلوی واشتدت إليها الحاجة، والحکم فيها علی قول أبي حنیفة سهل؛ لأنها إن لم تکن مصنوعةً من النئي من ماء العنب فلا یحرم بیعها عنده، والذي یظهر لي أن معظم هذه الکحول لاتصنع من العنب، بل تصنع من غیرها، وراجعت له دائرة المعارف البریطانیة المطبوعة 1950م (1/544) فوجدت فیها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الکحول، فذکر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعیر، والجودار،وعصیرأناناس (التفاح الصوبری)، والسلفات، والکبریتات، ولم یذکر فیه العنب والتمر، فالحاصل أن هذه الکحول لو لم تکن مصنوعةً من العنب والتمر فبیعها للأغراض الکیمیاویة جائز باتفاق بین أبي حنیفة وصاحبیه، وإن کانت مصنوعةً من التمر أو من المطبوخ من عصیر العنب فکذلک عند أبي حنیفة، خلافاً لصاحبیه، ولو کانت مصنوعةً من العنب النئي فبیعها حرام عندهم جمیعاً، والظاهر أن معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا تمر، فینبغي أن یجوز بیعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفیة جمیعاً." »
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 459):
«الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


