03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف جنس کی کرنسیوں کے تبادلے میں ادھار اور قبضے کا حکم
92538خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

ایک کاروباری معاملے کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ معاملہ درج ذیل ہے:

فہیم اور راحیل کے درمیان چینی کرنسی یوان کی خرید و فروخت کا معاملہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات فہیم کے پاس یوان موجود ہوتا ہے اور راحیل کو چین میں کاروباری خریداری کے لیے یوان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ فہیم نے راحیل کو پاکستانی کرنسی کے بدلے یوان فروخت کیے اور یوان پر قبضہ بھی دے دیا، لیکن دو ماہ بعد جب پاکستانی کرنسی کی ادائیگی کا وقت آیا تو راحیل نے کچھ رقم (دس فیصد) فہیم کو ادا کردی اور باقی رقم راحیل کے ذمے دین رہی۔

اس کے بعد راحیل نے کہا کہ مجھے دوبارہ چینی یوان کی ضرورت ہے، اس لیے میں پہلے خود(آپ کی طرف سے ) یوان خرید لیتا ہوں۔ جب وہ یوان میرے قبضے میں آجائیں گے، اس کے بعد اگر دونوں کی رضامندی ہوئی تو میں وہ یوان آپ سے خرید لوں گا۔ اس صورت میں پہلے سے صرف اتنی بات طے ہوتی ہے کہ اگر بعد میں مناسب سمجھا گیا اور دونوں فریق راضی ہوئے تو یوان کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے۔ کوئی ایسا لازم اور پابند معاہدہ نہیں کیا جاتا کہ راحیل کے لیے یوان لینا ضروری ہوگا یا فہیم کے لیے یوان دینا ضروری ہوگا۔ اگر بعد میں کسی وجہ سے سودا نہ بنے تو دونوں فریق آزاد ہوتے ہیں اور کسی ایک پر خرید و فروخت لازم نہیں ہوتی۔

جب راحیل خود یوان خرید کر اس پر قبضہ کرلیتا ہے، اس کے بعد اگر فہیم اور راحیل باہمی رضامندی سے سودا کرنا چاہیں تو اسی وقت یوان کی مقدار، قیمت اور دیگر شرائط طے کرکے باقاعدہ خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ فہیم اور راحیل کے درمیان تقریباً تین یا چار مرتبہ اسی طریقے سے ہوچکا ہے۔

لہٰذا مفتیانِ کرام سے درج ذیل امور کے متعلق رہنمائی مطلوب ہے:

1۔ کیا مذکورہ بالا طریقے کے مطابق فہیم اور راحیل کے درمیان یوان کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے؟

2۔ کیا پہلے صرف وعدہ کرنا، یعنی یہ کہنا کہ بعد میں دونوں کی رضامندی ہوئی تو یوان کی خرید و فروخت کرلیں گے، جبکہ کسی فریق پر خریدنے یا بیچنے کی پابندی نہ ہو، شرعاً درست ہے؟

3۔ کیا یہ ضروری ہے کہ راحیل پہلے یوان خرید کر اپنے قبضے میں لے آئے، اس کے بعد فہیم کے ساتھ نیا اور مستقل عقدِ بیع کرے؟

4۔ اگر یوان راحیل کے قبضے میں آنے سے پہلے فہیم اور راحیل کے درمیان صرف آئندہ ممکنہ خرید و فروخت کی بات ہو، لیکن کوئی قطعی اور لازم بیع نہ ہوئی ہو، تو کیا یہ صورت  وعدۂ بیع کے حکم میں داخل ہوگی یا نہیں ؟

5۔ اگر یہ طریقہ تین یا چار مرتبہ پہلے بھی اختیار کیا جاچکا ہو، تو کیا صرف سابقہ معاملات کی تکرار کی وجہ سے کوئی شرعی خرابی لازم آتی ہے، یا ہر مرتبہ یہی شرائط پوری ہونے کی صورت میں معاملہ جائز رہے گا؟

براہِ کرم اس معاملے کے بارے میں فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح حکم، شرائط اور اگر کوئی احتیاط ضروری ہو تو وہ بھی بیان فرما دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ تمام معاملات مکمل طور پر شرعی طریقے کے مطابق کیے جائیں۔

تنقیح: سائل سے استفسار کے بعد معلوم ہوا کہ راحیل کے ذمے جو رقم باقی تھی (90 فیصد)، اس کے بدلے وہ فہیم کے لیے بطورِ وکیل یوان خریدے گا۔ یوان خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد، اگر باہمی رضامندی ہوئی  تو راحیل فہیم سے نئے عقد کے ذریعے  یوان اپنے لیے خریدے گا۔ اگر نئے عقد کے ذریعے یوان خریدنے پر باہمی رضامندی نہ ہوئی تو راحیل فہیم کو مقبوضہ یوان واپس کرنے کا پابند ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ موجودہ دور کی مختلف ملکی کرنسیاں باہمی تبادلے میں مختلف جنس کے ثمن کے حکم میں ہیں، اس لیے ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے عوض کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔ اسی طرح مختلف جنس کی کرنسیوں کے باہمی تبادلے میں ادھار کی بھی گنجائش ہے، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں جانب سے مکمل ادھار نہ ہو، بلکہ مجلسِ عقد میں کم از کم ایک جانب سے قبضہ ضرور پایا جائے۔ نیز کرنسی کی قیمت عقد کے وقت بازار میں رائج قیمت  (Market Rate)سے زیادہ مقرر نہ کی جائے، تاکہ ادھار کی وجہ سے اضافی رقم وصول کرنا سودی حیلے کا ذریعہ نہ بنے،اور  جہاں حکومت کی طرف سے کرنسیوں کے ادھار تبادلے کے متعلق کوئی قانونی پابندی یا اجازت مقرر ہو، وہاں ملکی قوانین کی پابندی بھی ضروری ہے۔

اس تمہید کی روشنی میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں پاکستانی روپے اور چینی یوان دو مختلف جنس کی کرنسیاں ہیں، اس لیے ان کا باہمی تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، اور ادھار کی بھی گنجائش ہے؛ البتہ عقد کے وقت کم از کم ایک جانب سے قبضہ ہونا اور قیمت کا بازار میں رائج نرخ کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر فہیم نے یوان راحیل کے قبضے میں دے دیے تھے اور پاکستانی کرنسی کی ادائیگی بعد میں مقرر ہوئی تھی، تو مذکورہ شرائط کی رعایت کی صورت میں یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا۔

2۔ یوان کے قبضے میں آنے سے پہلے صرف یہ وعدہ کرنا کہ یوان جب قبضے میں آجائیں گے تو اگر دونوں فریق باہمی رضامندی سے مناسب سمجھیں گے تو ان کی خرید و فروخت کرلیں گے، شرعاً جائز ہے؛ کیونکہ یہ حتمی عقدِ بیع نہیں بلکہ آئندہ بیع کا غیر ملزم وعدہ   ہے۔ لہٰذا اس وعدے سے کسی فریق پر خرید و فروخت لازم نہیں ہوگی، بلکہ یوان کے قبضے میں آنے کے بعد دونوں فریق اپنی رضامندی سے نیا عقد کریں گے۔ اگر بعد میں کسی وجہ سے سودا نہ بنے تو دونوں فریق اس سے دست بردار ہونے میں آزاد ہوں گے۔

3۔  مذکورہ صورت میں ضروری ہے کہ راحیل پہلے یوان خرید کر ان پر قبضہ کرے، اس کے بعد اگر باہمی رضامندی ہو تو فہیم سے ان یوان کو اپنے لیے نئے اور مستقل عقدِ بیع کے ذریعے خریدے۔ قبضے سے پہلے یوان کی حتمی اور لازم بیع نہ کی جائے ، کیونکہ بیع قبل القبض شرعاً جائز نہیں ۔

چونکہ اس مرحلے میں راحیل فہیم کی طرف سے یوان خریدنے کے لیے وکیل ہوگا، اس لیے پہلے مرحلے میں وکالت اور دوسرے مرحلے میں بیع کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ راحیل پہلے فہیم کے لیے بطورِ وکیل یوان خریدے اور ان پر قبضہ کرے۔ اس قبضے کے بعد یوان فہیم کی ملکیت اور ضمان میں ہوں گے۔ لہٰذا جب تک راحیل وکیل کی حیثیت سے ان یوان کو اپنے پاس رکھے گا، ان کے نفع و نقصان کا خطرہ فہیم کے ذمے ہوگا، بشرطیکہ راحیل کی طرف سے کوئی تعدی یا کوتاہی نہ ہو۔

اس کے بعد اگر راحیل وہی یوان اپنے لیے خریدنا چاہے تو فہیم کے ساتھ نیا اور مستقل عقدِ بیع کرے، جس میں باقاعدہ ایجاب و قبول کے ذریعے یوان کی مقدار، قیمت اور دیگر شرائط طے کی جائیں۔ اگر باہمی رضامندی سے نیا عقدِ بیع نہ ہوسکے تو راحیل مقبوضہ یوان فہیم کو واپس کردے۔

4۔ اگر یوان راحیل کے قبضے میں آنے سے پہلے فہیم اور راحیل کے درمیان صرف آئندہ ممکنہ خرید و فروخت کی بات ہوئی ہو، یعنی یہ طے کیا گیا ہو کہ قبضے کے بعد باہمی رضامندی ہوئی تو یوان خرید لیے جائیں گے، اور کسی فریق کو ابھی سے خریدنے یا بیچنے کا پابند نہ کیا گیا ہو، اس صورت کو وعدۂ بیع اس معنی میں نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی پابندی لازم ہو اور اس سے انحراف پر کوئی شرعی یا قانونی مواخذہ ہو۔ بلکہ اسے محض باہمی مفاہمت کہا جائے گا۔ لہٰذا قبضے سے پہلے اس مفاہمت کی بنیاد پر نہ ملکیت منتقل ہوگی اور نہ ثمن کسی فریق کے ذمے لازم ہوگا، ، بلکہ قبضے کے بعد اگر دونوں فریق راضی ہوں تو نیا عقدِ بیع کیا جائے گا۔

5۔ اگر یہی طریقہ تین یا چار مرتبہ پہلے بھی اختیار کیا جاچکا ہو تو محض سابقہ معاملات کی تکرار کی وجہ سے کوئی شرعی خرابی لازم نہیں آتی، بشرطیکہ ہر مرتبہ مذکورہ شرائط کی پابندی کی گئی ہو۔ یعنی پہلے راحیل فہیم کے لیے بطورِ وکیل یوان خریدے، ان پر قبضہ کرے، قبضے کے بعد یوان فہیم کی ملکیت اور ضمان میں رہیں، اور پھر باہمی رضامندی سے راحیل کا ان یوان کو اپنے لیے خریدنے کا نیا اور مستقل عقد کیا جائے۔ اسی طرح آئندہ بھی اگر ہر مرتبہ یہی طریقہ اختیار کیا جائے تو محض تکرار کی وجہ سے معاملہ ناجائز نہیں ہوگا۔

آئندہ بھی اگر اس نوعیت کے معاملات کرنے ہوں تو ہرمرتبہ اس امر کا لحاظ رکھا جائے کہ عقدِ بیع کے وقت کم از کم ایک جانب سے متعلقہ کرنسی پر قبضہ موجود ہو، اور  کرنسی کی قیمت عقد کے وقت بازار کے رائج نرخ کے مطابق مقرر ہو۔

 وکالت کے ذریعے یوان کی خریداری اور قبضہ ہو، اور دوسرے مرحلے میں قبضے کے بعد باہمی رضامندی سے الگ اور مستقل عقدِ بیع کیا جائے۔ یوان کے قبضے سے پہلے حتمی بیع نہ کی جائے، بلکہ اس مرحلے میں صرف غیر ملزم وعدہ ہو۔ نیز وکالت کے دوران یوان کا ضمان موکل، یعنی فہیم کے ذمے رہے، اور اگر نئے عقدِ بیع پر باہمی رضامندی نہ ہو تو راحیل مقبوضہ  یوان فہیم کو واپس کردے۔

حوالہ جات

وفي الدر المختار ج ۵ ص : ۱۷۹

باع فلوسًا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فان نقد أحدهما جاز وان تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز.

بحوث في قضايا فقهية معاصرة ( ١١/١)

ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات المختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربا،فمثلا إذا أراد المقرض أن يطالب بعشر ربيات على المائة المقرضة فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوى مئة وعشر ربيات وسدا لهذا الباب فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر سوق السائد عند العقد۔

تکملۃ فتح الملہم (کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، حکم الأوراق النقدیۃ: ١/ ٥٨٩، ٥٩٠):

وأما الأوراق النقدیۃ وھي التي تسمی نوت......فالذین یعتبرونھا سندات دین، ینبغي أن لا یجوز عندھم مبادلۃ بعضھا ببعض أصلا، لاستلزام بیع الدین بالدین، ولکن قدمنا ھناک أن المختار عندنا قول من یجعلھا أثمانا، وحینئذ تجري علیھا أحکام الفلوس النافقۃ سواء بسواء وقدمنا آنفا أن مبادلۃ الفلوس بجنسھا لا یجوز بالتفاضل عند محمد رحمہ اللہ، ینبغي أن یفتی بھذا القول في ھذا الزمان سدا لباب الربا، وعلیہ فلا یجوز مبادلۃ الأوراق النقدیۃ بجنسھا متفاضلا، ویجوز إذا کانت متماثلا......وأما العملۃ الأجنبیۃ من الأوراق فھي جنس آخر، فیجوز بالتفاضل، فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودي‘‘.

وکذا فیہ : بيع الفلوس بمثلها، كالفلس الواحد بالفلس الواحد الآخر، وهذا انما يجوز اذا تحقق القبض في أحد البدلين في المجلس قبل أن يفترق المتبايعان فان تفرقا ولم يقبض أحد شيئًا فسد العقد.

 تبیین الحقائق: کتاب البیوع، باب الربا: ٤/ ٤٥١، ٤٥٢:دار الکتب العلمیۃ):

قال رحمہ اللہ: (فحرم الفضل والنساء بھما) أي بالجنس والقدر لما بینا أنھما علۃ الربا .قال رحمہ اللہ: (والنساء فقط بأحدھما) أي حرم النساء وحل التفاضل بوجود أحدھما إما القدر دون الجنس کالحنطۃ بالشعیر أو الجنس دون القدر کالھروي بالھروي لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام (الذھب بالذھب والفضۃ بالفضۃ والبر بالبر والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء فإذا اختلفت ھذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم إذا کان یدا بید‘‘.

مجلة مجمع الفقه الإسلامي: "(ج:12,ص:652,المكتبة الشاملة):

فقرار المجمع يقول: الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر، وهو - أي الوعد - ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد، وأثر الإلزام يتحدد بصورتين: إما الوفاء بالوعد وتنفيذه.وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر."

المعايير الشرعية: (ص:95):

2/2/3 الغرض من اشتراط قبض السلعة هو تحمل المؤسسة تبعة هلاكها، وذلك يعني أن تخرج السلعة من ذمة البائع وتدخل في ذمة المؤسسة، وتجب أن تتضح نقطة الفصل التي ينتقل فيها ضمان السلعة من المؤسسة إلى العميل المشتري وذلك من خلال مراحل انتقال السلعة من طرف لآخر.

محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی         

  24/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب