03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے نام درج پلاٹ کی ملکیت اور وراثت کا حکم
92450ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

زیدنےایک پلاٹ قسطوں پر  اپنی بیوی کے نام سے بک کرایا، پھر خود اس کی تمام قسطیں ادا کیں۔ قسطیں مکمل ہونے کے بعد اس نے وہ پلاٹ بیچ دیا، لیکن پلاٹ کی رقم وصول ہونے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ زید نے اپنے ایک بیٹے سے یہ کہا تھا کہ اس پلاٹ کی رقم سب میں تقسیم کر دینا۔

زید کے انتقال کے بعد زید کی بیوی نے کہا کہ یہ پلاٹ میرے نام سے تھا، اس لیے اب میں اس کی رقم کی مالک ہوں۔ چنانچہ زید کی بیوی نے تمام رقم اسی بیٹے کو دے دی، جس سے زید نے رقم تقسیم کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس بیٹے نے رقم کو مناسب جگہ استعمال کرنے کے لیے اس سے ایک اور پلاٹ خرید لیا۔

اب جب اس نئے پلاٹ کو بیچنے کا ارادہ ہے تو بعض بچوں کا خیال ہے کہ چونکہ یہ پلاٹ زید کے بک کرائے گئے پلاٹ کی رقم سے خریدا گیا ہے، اس لیے نئے پلاٹ کو فروخت کرنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم میں زید کی وراثت کے مطابق حصے تقسیم ہونے چاہیے۔جبکہ بعض بچوں کا خیال ہے کہ پہلا پلاٹ شروع ہی سے زید کی بیوی کے نام تھا، اور نیا پلاٹ بھی زید کی بیوی کی طرف سے خریدا گیا ہے۔ نیز زید کی بیوی ابھی حیات ہیں، اس لیے نئے پلاٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم کی تنہا وارث زید کی بیوی ہی ہیں۔

اگر یہ پلاٹ زید کی بیوی کی ملکیت ہے تو براہِ کرم ارشاد فرمائیں کہ اگر زید کی بیوی اپنی زندگی میں اس پلاٹ کی رقم اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہیں تو اس کی کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ہبہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو جو چیز ہبہ کی جا رہی ہو، اسے اس چیز کا قبضہ بھی دے دیا جائے،تب ہی ہبہ مکمل ہوتا ہے اور وہ شخص اس کا مالک بنتا ہے۔ لہٰذا جب تک اس بات کا واضح ثبوت موجود نہ ہو کہ شوہر نے بیوی کو پلاٹ کا مالک بنا کر اس کا قبضہ بھی دے دیا تھا، محض کاغذات میں نام لکھ دینے کی وجہ سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کا پلاٹ بیچ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے بیوی کو اس کا مالک نہیں بنایا تھا۔ لہٰذا اس پلاٹ کی رقم سے جو نیا پلاٹ خریدا گیا ہے، وہ ترکہ میں شامل ہوگا اور میراث کے اصول کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 687):

«وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 374):

«ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض»

  عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

 25  /ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب