| 92470 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں دارالافتاء سے حقیقی آن لائن اسپاٹ فاریکس ٹریڈنگ، خصوصاً EUR/USD اور GBP/USD جیسے کرنسی پیئرز کے بارے میں تفصیلی شرعی حکم دریافت کرنا چاہتا ہوں۔
میں مکمل ٹرانزیکشن کو واضح کرنا چاہتا ہوں تاکہ حکم صرف عمومی اصطلاح ’’فاریکس ٹریڈنگ‘‘ پر نہیں بلکہ ٹرانزیکشن کی اصل ساخت پر دیا جائے۔
جس ٹرانزیکشن کے بارے میں میں پوچھ رہا ہوں، اس کا مقصد بروکر (ایکسنیس )کے ذریعے آن لائن حقیقی کرنسیوں کا حقیقی تبادلہ ہے۔یہ CFD(Contract for difference) ، فیوچرز کنٹریکٹ، آپشن، بائنری آپشن، اسپریڈ بیٹنگ یا کسی دوسرے ڈیریویٹو پر مشتمل نہیں ہے۔ٹرانزیکشن میری اپنی رقم سے کی جائے گی، بغیر سودی قرض یا فنانسنگ کے۔مطلوبہ انتظام میں: کوئی سود یا ربا نہیں، کوئی سواپ یا رول اوور سود نہیں، کوئی فنانسنگ سود نہیں۔صرف عام اسپریڈ یا حقیقی سروس/ٹرانزیکشن فیس ہوگی ، اگر لاگو ہو۔
سوالات:
- قبض کے درست ہونے کے لیے کیا کیا شرائط ہیں ؟ اگر خریدی گئی EUR الیکٹرانک طور پر میرے اپنے اکاؤنٹ میں کریڈٹ یا مختص کر دی جائے، اور مجھے EUR منتقل کرنے یا نکلوانے کی صلاحیت حاصل ہو، تو کیا یہ قبضِ حکمی شمار ہوگا؟ جدید بینکاری نظام میں ضروری نہیں کہ حقیقی کرنسی کسی شخص کے ہاتھ میں موجود ہو، بلکہ وہ اس کی ملکیت اور اختیار میں ہو سکتی ہے۔ تو کیا یہ اصول الیکٹرانک طریقے سے مکمل ہونے والے اس کرنسی ایکسچینج پر بھی لاگو ہوتا ہے؟
- بروکر اور STP: کیا بروکر کا وکیل ہونا اور STP کے ذریعے بینک/لیکویڈیٹی فراہم کنندہ سے تبادلہ ہونا ملکیت اور قبض کی شرط پوری کرتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ حقیقی کرنسی خریدی جائے اور ملکیت و اختیار کسٹمر کو منتقل ہو؟
- چونکہ کرنسی کا تبادلہ بیع الصرف ہے، اس لیے اگر کرنسیوں کی سیٹلمنٹ بینکاری/مالیاتی نظام کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے ہو، جس میں same-day settlement، T+1 یا T+2 جیسے طریقے شامل ہوں، تو کن حالات میں یہ شرعی قبض اور سیٹلمنٹ کی شرط پوری کرے گا؟
- اگر کوئی سود، سواپ یا سودی فنانسنگ نہ ہو تو کیا پھر بھی ربا کا کوئی مسئلہ ہوگا؟ کیا حقیقی سروس فیس جائز ہے؟
- اگر بروکر اکاؤنٹ کو "اسلامک" یا "Swap-Free" کہے تو کیا صرف یہ نام کافی ہے، یا پوری ٹرانزیکشن کا جائزہ ضروری ہے؟
- اگر ملکیت اور قبض درست طور پر حاصل ہو چکا ہو، تو بعد میں مختلف ریٹ پر دوسری کرنسی میں تبادلہ کرنے سے حاصل ہونے والا نفع یا نقصان جائز ہوگا؟
- اگر میں کرنسی ایکسچینج کا وقت طے کرنے کے لیے ٹیکنیکل اینالیسس، مارکیٹ اسٹرکچر، لیکویڈیٹی لیولز، ، پرائس ایکشن اور پہلے سے مقررہ انٹری، اسٹاپ لاس اور ٹیک پرافٹ لیولز استعمال کروں، تو کیا اس سے کوئی الگ شرعی مسئلہ پیدا ہوگا، جبکہ بنیادی ٹرانزیکشن حقیقی کرنسیوں کے تبادلے پر مشتمل ہو، نہ کہ کسی شرط یا ڈیریویٹو پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔قبض (خواہ حقیقی ہو یا حکمی) کے معتبر اور درست ہونے کے لیے درج ذیل چار بنیادی شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:
- التخلية ورفع الموانع:بائع اور خریدار کے درمیان تمام حسی، قانونی اور تکنیکی رکاوٹیں ختم ہو جائیں اور خریدار کے لیے مبیع/رقم کا تخلیہ کر دیا جائے۔
- التعيين والامتياز:فروخت شدہ کرنسی خریدار کے لیے بالکل الگ اور ممتاز ہو، یا کھاتے میں قطعی طور پر متعین ہو کر اس کے نام رجسٹر ہو جائے۔
- انتقال الضمان:مبیع کا مالکانہ رسک خریدار پر منتقل ہو جائے، کہ اگر وہ بلا تعدی ضائع ہو تو نقصان خریدار کا سمجھا جائے۔
- التمكن من التصرف:خریدار کو اپنے آزادانہ اختیار سے اس مال کو بیچنے، منتقل کرنے یا استعمال میں لانے کا واقعی اور عرفی اختیار حاصل ہو جائے۔
لہذا ان شرائط کی بنیاد پر اگر کسی الیکٹرانک کھاتے میں کرنسی کا کریڈٹ ہو، اور خریدار کو بغیر کسی مانع کے رقم نکلوانے، منتقل کرنے یا کسی اور معاشی تصرف کا بلا رکاوٹ قانونی و عملی اختیار حاصل ہو جائے، نیز رقم کا تمام تر مالکانہ رسک اور ضمان گاہک کی طرف منتقل ہو جائے،(جیسے بینکنگ یا عام کرنسی ایکسچینج میں ہوتا ہے) تو فقہائے کرام کے نزدیک اسے قبضِ حکمی تسلیم کیا جاتا ہے۔البتہ اگر یہ کریڈٹ محض سکرین پر فرضی اعداد و شمار کا اندراج ہو، خارج میں نقد رقم یا اس پر واقعی تصرف و منتقلی کا امکان موجود نہ ہو، تو محض کمپیوٹر سکرین کے اندراج سے شرعی قبضہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر کرنسی کے خرید و فروخت سے محض نفع و نقصان کے تفاوت کا حساب کیا جائے اور مبیع و ثمن کا واقعی تبادلہ مقصود نہ ہو، تو یہ صریح سٹا ہے جو کہ قطعی حرام ہے۔ اور فاریکس ٹریڈنگ میں یہ ہوتا ہے اس لئے فاریکس میں کرنسی کی ٹریڈنگ کرنا ناجائز ہے۔
۲۔بروکر، STP اور حقیقی کرنسی کی ملکیت
وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہوتا ہے، لہٰذا اگر وکیل خرید و فروخت کے معاملے میں مبیع یا ثمن پر قبضہ کرتا ہے تو وہ موکل ہی کا قبضہ شمار ہوتا ہے، اور اس سے معاملہ درست ہو جاتا ہے۔ البتہ ایک ضابطہ یہ بھی ہے: الواحد لا يتولى طرفي العقد، یعنی ایک ہی شخص بیک وقت خریدار کی جانب سے بھی وکیل اور فروخت کنندہ کی جانب سے بھی وکیل نہیں بن سکتا۔
مذکورہ صورت میں جو STP نظام ہے، وہ ایک خودکار نظام ہے جو صرف خریداروں اور فروخت کرنے والوں کو آپس میں ملاتا ہے، اور اس کی بنیاد پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا بروکر ہمارے لیے وکیل ہوتا ہے؛ کیونکہ اگر ہم اسے وکیل مان لیں تو ظاہر سی بات ہے کہ جب بھی ہم کوئی چیز یا کوئی کرنسی فروخت کرتے ہیں تو آگے جو اس کا خریدار ہوتا ہے، اس خریدار کے لیے بھی یہی بروکر اس کا آرڈر پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اپنی طرف سے فروخت کرنے کے لیے اسے اپنا وکیل مانیں تو پھر آگے خریدار کا وکیل بھی یہی بروکر ہوگا۔
اس وجہ سے یہ عقد بھی جائز نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہم یہ توجیہ نہیں کر سکتے کہ چونکہ ایکسنس ہمارا بروکر ہے، اس لیے اسے ہمارا وکیل قرار دے کر یہ مان لیا جائے کہ ہمارے وکیل نے چونکہ قبضہ کیا ہے، اس لیے یہ قبضہ ہمارے قبضے کے قائم مقام شمار ہوگا اور معاملہ درست ہو جائے گا۔
۳۔دو مختلف ممالک کی کرنسیوں کا تبادلہ بیع الصرف نہیں ہوتا ہے، اس لئے ان کے باہمی تبادلے میں دونوں کرنسیوں پر مجلسِ عقد ہی میں قبضہ ضروری نہیں ہوتا، البتہ کم از کم کسی ایک عوض پر قبضہ ہونا ضروری ہے، تاکہ بیع الکالی بالکالی (دونوں عوضوں کا ادھار ہونا) لازم نہ آئے۔
البتہ اگر کرنسی کا سودا فوری طور پر طے پا جائے، دونوں فریقوں پر متعین نرخ لازم ہو جائے اور ادائیگی یا سٹلمنٹ میں ایک دو دن کی تاخیر صرف بینکنگ کلیئرنگ، تکنیکی اندراج یا انتظامی کارروائی کی وجہ سے ہو، تو معاصر فقہاء، AAOIFI اور مجمع الفقه الإسلامي کے ہاں ایسی تاخیر کو عرفی طور پر قبضہ میں تاخیر شمار نہ کرنے کی گنجائش موجود ہے اور اس کو بھی قبضہ حکمی شمار کرتے ہیں ۔
یہ حکم حقیقی کرنسی کے خرید و فروخت کے معاملات سے متعلق ہے۔ جہاں تک موجودہ مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کا تعلق ہے، اس کا حکم اس سے مختلف ہے؛ کیونکہ اس میں عموماً حقیقی طور پر کرنسی کی خرید و فروخت اور ملکیت حاصل نہیں ہوتی بلکہ محض قیمت کے اتار چڑھاؤ پر معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے مروجہ فاریکس ٹریڈنگ میں شرعی قبض اور حقیقی خریداری کے تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس کا حکم عدمِ جواز کا ہے۔
۴۔اگر معاہدے میں سواپ فیس اور سودی فنانسنگ بالکل نہ ہو، تو صریح ربا کا بڑا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بروکر کی طرف سے فراہم کردہ واقعی انتظامی خدمات اور ٹیکنالوجی کی سہولت کے عوض معین، غیر سودی فیس وصول کرنا جائز ہے ۔ لیکن چونکہ فاریکس ٹریڈنگ کا یہ کاروبار ہی ناجائز ہے اس لئے ایسے کاروبار کےلئے سروسز فراہم کرکے اس پر اجرت لینا بھی ناجائز ہے۔
۵۔شریعت کا طے شدہ اصولی قاعدہ ہے: "العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني" (معاہدات میں اصل اعتبار حقیقت، معانی اور مقاصد کا ہوتا ہے، محض الفاظ اور ناموں کا نہیں)۔ اس لیے کسی اکاؤنٹ کو صرف "اسلامک" یا "Swap-Free" کہہ دینے سے وہ خود بخود حلال نہیں ہو جاتا۔ بسا اوقات سواپ ختم کر کے اس کی جگہ سودی کمیشن یا گاہک پر فاسد شرائط نافذ کر دی جاتی ہیں، یا لیوریج میں سودی عنصر باقی رہتا ہے، یا حقیقی قبض کا وجود نہیں ہوتا۔ اس لیے پورے ٹرانزیکشن کے تمام مراحلی ضوابط کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
۶۔اگر کسی کرنسی پر شرعی ضوابط کے مطابق صحیح ملکیت اور قبض حاصل ہو چکا ہو، تو اس کے بعد مارکیٹ میں ریٹ کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر اس کرنسی کو کسی دوسری کرنسی کے عوض نفع یا نقصان پر فروخت کرنا شرعاً بالکل جائز اور حلال تجارت ہے۔کیونکہ جب انسان کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے اور اس کا ضمان و رسک قبول کر لیتا ہے، تو "الخرج بالضمان"اور "ربح ما يضمن" کی رو سے اس کی فروخت سے حاصل ہونے والا نفع اس کے لیے حلال و طیب ہوتا ہے۔
۷۔ٹیکنیکل اینالیسس یعنی مارکیٹ کے سابقہ ڈیٹا، رجحانات اور چارٹس کا جائزہ لینا محض ایک مباح تجارتی مہارت اور تجزیاتی طریقہ (Market Analysis Tool) ہے۔ اس میں بذاتِ خود کوئی شرعی ممانعت یا جوئے کا عنصر نہیں ہے۔ اس سے نہ کوئی شرعی قباحت پیدا ہوتی ہے اور نہ غرر، بشرطیکہ اصل معاملہ تمام شرعی شرائط پر پورا اترتا ہو۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 54)
(المادة 263) تسليم المبيع يحصل بالتخلية وهو أن يأذن البائع للمشتري بقبض المبيع مع عدم وجود مانع من تسليم المشتري إياه.
الفقه الميسر (6/ 32)
القبض الحكمي: وهو التخلية بين المبيع والمشتري ليتصرف فيه.
ويقوم القبض الحكمي مقام القبض الحقيقي في أحوال كثيرة وإن لم يكن متحققًا حسًا في الواقع؛ وذلك لأسباب تقتضي اعتباره تقديرًا وحكمًا، جاء في المغني لابن قدامة: "وقبض كل شيء بِحَسْبِه ... "، وقال أبو حنيفة: "التخلية في ذلك قبض"، وجاء فيه: "ولأن القبض مطلق في الشرعِ فيجب الرجوع فيه إلى العرف، كالإحراز، والتفرق"، وجاء في المهذب (1/ 270): "لأن الشارعَ أطلق القبض وأناط به أحكامًا، ولم يبينه، ولا حدَّ له في اللغة، فرجع فيه إلى العرف"، وجاء في فتاوى شيخ الإِسلام ابن تيمية: وما لم يكن له حَدٌّ في اللغة ولا في الشرع، فالمرجع فيه إلى عرف الناس كالقبض المذكور في قوله - صلى الله عليه وسلم -: "مَنِ ابتاعَ طعامًا فلا يَبِعْهُ حتى يقبضَه" .
الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 134)
ولم يفصل الحنفية - وهي رواية ابن الخطاب عن أحمد - هذا التفصيل في القبض، بل اعتبروا التخلية - وهي: رفع الموانع والتمكين من القبض - قبضا حكما على ظاهر الرواية، وروى أبو الخطاب مثل ذلك عن أحمد وشرط مع التخلية التمييز . نص الحنفية على مذهبهم هذا في الرهن، في التخلية بينه وبين المرتهن، وقالوا: إن التخلية فيه قبض، كما هي في البيع، فإنها فيه أيضا قبض ... وعلى هذا لو باع ما اشتراه قبل أن يقبضه فربح، فهذا هو ربح ما لم يضمن، الذي ورد فيه حديث عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم {لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك} .
موسوعة الفقه الإسلامي (3/ 408)
1 - البيوع المحرمة بسبب الغرر والجهالة
الغرر: هو كل ما كان مجهول العاقبة، لا يُدرى أيحصل أم لا يحصل.
الجهالة: هي الجهالة الفاحشة التي تفضي إلى نزاع يتعذر حله كأن يبيع شاة من قطيع، وقد نهى النبي - صلى الله عليه وسلم - عن هذه البيوع؛ تحصيناً للأموال أن تضيع .. وقطعاً للخصومة والنزاع بين الناس .. وحفظاً للمودة والأخوة بين المسلمين.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ بَيْعِ الحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الغَرَرِ. أخرجه مسلم .
الموسوعة الفقهية الكويتية (34/ 146)
التعريف:
1 - الكالئ في اللغة: النسيئة والسلف، يقال: كلأ الدين يكلأ: تأخر فهو كالئ.
وفي الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم: نهى عن بيع الكالئ بالكالئ ، قال أبو عبيدة: يعني النسيئة بالنسيئة .
والمراد به في اصطلاح الفقهاء: الدين.
ويذكرون لفظ الكالئ في الكلام على بيع الدين بالدين مستدلين بالنهي الوارد عن النبي صلى الله عليه وسلم.
ففي منح الجليل أثناء الكلام على ذكر البيوع الممنوعة قال: وكالئ بمثله ثم قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكالئ بالكالئ، أي الدين بالدين .
موسوعة القواعد الفقهية (12/ 152)
لقاعدة السّابعة والعشرون: [العاقد من الجانبين]
أولاً: ألفاظ ورود القاعدة:
الواحد لا يتولّى طرفي العقد - أو - لا يتولّى العقد من الجانبين .
وفي لفظ: الواحد في المعاوضات الماليّة لا يصلح عاقداً من الجانبين .
ثانياً: معنى هذه القاعدة ومدلولها:....وكون الواحد لا يتولّى طرفي العقد أمر متّفق عليه بين المذاهب؛ لأنّه إذا كان قابضاً لنفسه احتاط لها، وإذا كان مقبّضاً وجب عليه وفاء الحقّ من غير زيادة، فلمّا تخالف الفرضان، والطّباع لا تنضبط امتنع الجمع .
فقه السنة (3/ 182)
أن تكون المنفعة مباحة لا محرمة ولا واجبة. فلا تصح الاجارة على المعاصي، لان المعصية يجب اجتنابها. فمن استأجر رجلا ليقتل رجلا ظلما أو رجلا ليحمل له الخمر أو أجر داره لمن يبيع بها الخمر أو ليلعب فيها القمار أو ليجعلها كنيسة فإنها تكون إجارة فاسدة.
شرح القواعد الفقهية (ص: 55)
" الْعبْرَة فِي الْعُقُود للمقاصد والمعاني لَا للألفاظ والمباني " كَمَا فِي الْبَاب الموفي أَرْبَعِينَ من معِين الْحُكَّام، لَكِن بِلَفْظ فِي التَّصَرُّفَات بدل الْعُقُود، وَهُوَ أَعم من التَّعْبِير بِالْعُقُودِ، فَيشْمَل الدَّعَاوَى كَمَا سَيَأْتِي عَن أصُول الْكَرْخِي: " وَلذَا يجْرِي حكم الرَّهْن فِي بيع الْوَفَاء ".
هَذِه الْقَاعِدَة بِالنِّسْبَةِ للَّتِي قبلهَا كالجزئي من الْكُلِّي، فَتلك عَامَّة وَهَذِه خَاصَّة فتصلح أَن تكون فرعا مِنْهَا.
وَالْمرَاد بالمقاصد والمعاني: مَا يَشْمَل الْمَقَاصِد الَّتِي تعينها الْقَرَائِن اللفظية الَّتِي تُوجد فِي عقد فتكسبه حكم عقد آخر كَمَا سَيَأْتِي قَرِيبا فِي انْعِقَاد الْكفَالَة بِلَفْظ الْحِوَالَة، وانعقاد الْحِوَالَة بِلَفْظ الْكفَالَة، إِذا اشْترط فِيهَا بَرَاءَة الْمَدْيُون عَن الْمُطَالبَة، أَو عدم بَرَاءَته.
شفیع اللہ بن معروف خان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
تاریخ:۲۵،ربیع الثانی، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شفیع اللّٰہ بن معروف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


