| 92582 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
مفتی صاحب! میری اس بات کی وضاحت فرما دیجیے: اگر کسی شخص نے اپنے ماضی میں بہت سارے کفریہ اور شرکیہ گناہ کیے ہوں، تو کیا اس شخص کو ہر ہر کفریہ گناہ کے لیے اور ہر ہر شرکیہ گناہ کے لیے نام لے لے کر الگ الگ سے توبہ کرنا ضروری ہے، یا سب کی ایک ساتھ ایک بار میں توبہ کر سکتے ہیں؟
جیسا کہ وہ اس طرح توبہ کر لے: اے اللہ! میں نے آج تک جتنے بھی کفریہ اور شرکیہ گناہ کیے تھے، ان سب کے لیے میں دل سے مانتا ہوں کہ میں نے بہت غلط کیا اور ان تمام کفریہ اور شرکیہ گناہوں کے لیے میں سچے دل سے تجھ سے توبہ کرتا ہوں۔ اے اللہ! مجھے معاف کر دیجیے۔ یا اللہ! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کفر و شرک جیسا گناہ نہیں کروں گا، پھر کلمہ پڑھے؛ تو کیا مفتی صاحب! اس شخص کی توبہ قبول ہو جائے گی؟ یہ شخص مسلمان ہو جائے گا؟ اس کے ماضی کے تمام گناہ، کفر اور شرک معاف ہو جائیں گے؟ تھوڑا اس بات کی وضاحت فرما دیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر ہر گناہ کا الگ الگ نام لے کر توبہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ تمام سابقہ گناہوں سے ایک ساتھ عمومی توبہ کر لینا کافی ہے۔ علماء کرام نے توبہ کے لیے تین شرائط بیان کی ہیں:گناہ کو فوری طور پرچھوڑ دینا،جو گناہ ہوگئے ہیں ان پر نادم اور شرمندہ ہونا،آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ کرنا۔
چونکہ توبہ کی یہ شرائط ہیں، لہٰذا سابقہ شرکیہ کاموں سے براءت اور آئندہ صحیح عقیدے پر مستقل مزاجی ضروری ہوگی۔ اگر کوئی شخص ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے سچے دل سے عمومی توبہ اور تجدیدایمان کر لے تو ان شاء اللہ اس کے ماضی کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔
البتہ آئندہ کفر و شرک سے بچنا اس کی پہچان کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ وہ کسی مستند و باشرع عالم دین سے ضروری اسلامی عقائد اور کفر و شرک کی بنیادی باتوں کا علم حاصل کرے، تاکہ آئندہ ان سے بچ سکے، نیز اپنے سابقہ احوال بھی ان کے سامنے واضح کرے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان میں کون سے افعال شرکیہ تھے۔اور آئندہ ان سے بچا جاسکے۔
حوالہ جات
المعلم بفوائد مسلم (3/ 332):
والتوبة من الذنب هي الندم عليه رعايَةً لحقً الله سبحانه ويجب على التائب أن يضيف إلى الندم عن الذنب العزمَ على أن لا يعود إليه إذا كان متأتيا منه العودة إليه وتعجيل التوبة عند الذنب هو المَأمور به وتأخيرها عنه مَنهيّ عنه .
شرح سنن ابن ماجه للهرري = مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه (26/ 113):
عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "التائب من الذنب كمن لا ذنب له".
شرح صحيح البخاري لابن بطال (10/ 80):
وقال النبى صلى الله عليه وسلم : (الندم توبة) . وقال: (إن العبد ليذنب الذنب فيدخل به الجنة. قيل: كيف ذلك يا رسول الله؟ قال: يكون نصب عينيه تائبا منه فارا حتى يدخل الجنة) . وقال سفيان بن عيينة: التوبة نعمة من الله أنعم بها على هذه الأمة دون غيرهم من الأمم، وكانت توبة بنى إسرائيل القتل....قال تعالى: (إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين) [البقرة: 222] ، وقال صلى الله عليه وسلم : (التائب من الذنب كمن لا ذنب له) .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 283):
ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط.إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 688):
من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
27/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


