| 92553 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں گوادر فری زون کے ذریعے گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد کی اجازت دی ہے۔ حکومتی اعلانات کے مطابق اس منصوبے کے تحت گوادر فری زون میں گدھوں کی فارمنگ، بریڈنگ، ویٹرنری نگرانی، منظور شدہ سلاٹر ہاؤس، پراسیسنگ، کولڈ چین اور برآمدی سہولیات قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ متعلقہ ملکی قوانین، جانوروں کی صحت، قرنطینہ، ٹریس ایبلٹی، اور درآمد کرنے والے ملک کی سینیٹری و ویٹرنری شرائط کی پابندی لازمی ہوگی۔ مزید یہ کہ یہ سرگرمی صرف برآمد کے لیے ہوگی، پاکستان کے اندر اس گوشت کی خرید و فروخت یا سپلائی مقصود نہیں ہوگی، اور تمام برآمدات صرف گوادر فری زون/گوادر پورٹ کے مقررہ نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔
میرا تعلق شعبۂ لائیو اسٹاک سے ہے اور میں پیشے کے اعتبار سے حیوانات کی غذائیت (Animal Nutrition) کا ماہر ہوں۔ میرے چند دوست اس برآمدی کاروبار میں سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چونکہ میرا پیشہ ورانہ تجربہ لائیو اسٹاک، فارمنگ، بریڈنگ، جانوروں کی صحت اور مینجمنٹ سے متعلق ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اس منصوبے میں ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔
اس سلسلے میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے:
سوال نمبر 1:اگر میں اس کاروبار میں بطور پارٹنر (شریک) شامل ہوں اور کاروبار کے منافع میں اپنے حصے کے مطابق نفع وصول کروں، جبکہ کاروبار مذکورہ تمام حکومتی قوانین اور شرائط کے مطابق صرف برآمد کے لیے ہو اور پاکستان کے اندر گدھے کے گوشت کی تجارت نہ کی جائے، تو کیا ایسی شراکت اور اس سے حاصل ہونے والا منافع شرعاً جائز ہوگا؟
سوال نمبر 2:اگر میں کاروبار میں سرمایہ یا شراکت شامل نہ کروں بلکہ صرف اپنی پیشہ ورانہ حیثیت سے لائیو اسٹاک کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات فراہم کروں، مثلاً فارمنگ، بریڈنگ، جانوروں کی غذائیت، صحت، ویٹرنری مینجمنٹ، بائیو سیکیورٹی اور حکومتی ضوابط کی تعمیل کے حوالے سے مشاورت دوں، اور اس کے عوض مقررہ کنسلٹنسی فیس وصول کروں، تو کیا ایسی فیس شرعاً حلال اور جائز ہوگی؟
براہ کرم قرآن و سنت، فقہ حنفی اور اکابر علماء کے ارشادات کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- مذکورہ کاروباری نظم کا بنیادی کام گدھے کےتیار شدہ گوشت اور کھال کی برآمد ہے۔ باقی امور جیسے فارمنگ، بریڈنگ وغیرہ اسی مقصد کی حصولی کے لئے ہیں، بنفسہ مقصود نہیں ہیں۔چونکہ جو لوگ یہ کاروبار کرنے جارہے ہیں (یا کر رہے ہیں) انہیں یہ بات معلوم ہے کہ خریدار (چینی لوگ) ان کا فروخت کردہ گدھے کا گوشت کھانے میں استعمال کرتے ہیں اور اس کے کھال سے حاصل کردہ جیلاٹن (ای جیاؤ) دوائیوں میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ شرعاً گدھے کے گوشت کو کھانا حرام اور اس کے اجزاء کو بلا ضرورت (متبادل صورتوں کے ہوتے ہوئے) دوائیوں میں استعمال کرنا ناجائز ہے، لہذا سوال میں مذکور کاروبار اس حرام اور ناجائز کام کا براہِ راست سبب (سبب قریب) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ،سائل پر لازم ہےکہ اس میں سرمایہ کاری نہ کرے۔
- بغیر سرمایہ کاری کے کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات دینے اور مقررہ فیس لینے کےحکم میں درج ذیل تفصیل ہے:
(الف) زندہ جانوروں کی فارمنگ، بریڈنگ، غذائیت (Animal Nutrition)، صحت، ویٹرنری مینجمنٹ اور بائیو سیکیورٹی میں مشاورت، اور حکومتی ضوابط کی وہ تعمیل جو زندہ جانوروں کی صحت، قرنطینہ اور ٹریس ایبلٹی سے متعلق ہو،اس پر مقررہ فیس لینا جائز اور حلال ہے؛ کیونکہ یہ جائز خدمات پر اجارہ ہےاور ان خدمات کا مذکورہ ناجائز کاروبار (گدھےکے گوشت کی تیاری اور اس کی فروختگی) کے ساتھ براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
(ب) ذبح، گوشت اور کھال کی پراسیسنگ، کولڈ چین اور ان کی برآمد کی تعمیل میں مشاورت چونکہ براہِ راست مذکورہ تجارت (گدھےکے گوشت کی تیاری اور اس کی فروختگی) سے متعلق ہیں، لہذا مذکورہ کاروبار کو یہ خدمات فراہم کرنا اور اس پر اجرت وصول کرنا ناجائز ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (5/ 131):
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: صبحنا خيبر بكرة، فخرج أهلها بالمساحي، فلما بصروا بالنبي صلى الله عليه وسلم قالوا: "محمد والله محمد والخميس"، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "الله أكبر خربت خيبر"، إنا إذا نزلنا بساحة قوم { فساء صباح المنذرين }، فأصبنا من لحوم الحمر، فنادى منادي النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر، فإنها رجس".
سنن أبى داود (4/ 328):
عن المقدام بن معديكرب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلمأنه قال: « ألا إنى أوتيت الكتاب ومثله معه، ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول: عليكم بهذا القرآن، فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه، وما وجدتم فيه من حرام فحرموه، ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي ولا كل ذى ناب من السبع، ولا لقطة معاهد إلا أن يستغنى عنها صاحبها، ومن نزل بقوم فعليهم أن يقروه، فإن لم يقروه فله أن يعقبهم بمثل قراه ».
الحجة على أهل المدينة (2/ 755):
وينبغي لمن أبطل بيع الكلب الضاري أن يبطل بيع الفهد وبيع البازي والصقر، قالوا: لأنا لانری بأكلها بأسا، قيل لهم: وإنما كرهتم بيع الكلاب والسباع كلها؛ لأن أكلها مكروه؟ قالوا: نعم ! قيل لهم: إن الشيء ربما كره أكله، فاشترى لمنفعة اخرى تكون فيه، أرأيتم بيع الحمار، أ ليس جائزا؟ قالوا: بلى! قيل لهم: فأنتم تكرهون أكله، قالوا: بيعه جائز؛ لأن فيه منفعة، کركوبه وغير ذلك من الحمل عليه، قيل لهم: فالكلب الضاري وكلب الماشية فيهما منفعة مثل ركوب الحمار، فكيف أبطلتم بيعهما؟
رد المحتار (5/ 69):
ونقل السائحاني عن الهندية: ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير، وهو المختار ا ه، وعليه مشى في الهداية وغيرها من باب المتفرقات، كما سيأتي.
الهداية (4/ 68):
قال: ولا يجوز أكل الحمر الأهلية والبغال؛ لما روي خالد بن الوليد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لحوم الخيل والبغال والحمير، وعن على رضي الله عنه أن النبي عليه الصلاة والسلام أهدر المتعة وحرم لحوم الحمر الأهلية يوم خيبر.
بدائع الصنائع (5/ 37):
ولا تحل البغال والحمير عند عامة العلماء رحمهم الله تعالى………. الخ
فقه البیوع (1/289):
الشرط الثاني لجواز البیع أن یکون المبیع متقوما، وهو شرط لانعقاد البیع، فما لیس متقوما بحکم العرف أو بحکم الشرع لاینعقد بیعه.
أما ما هو غیر متقوم في العرف فکل ما لاینتفع به، وقد ذکر الفقهاء جمیع حشرات الأرض، کالحیة والعقرب، والفأرة، والنمل، والدیدان، والحیوانات التي لاینتفع بها، مثل الأسد، والذئب، والحدأة والنعامة. ولکن صرح الفقهاء أن علة منع بیعها عدم الانتفاع بها، فإن وقع الانتفاع بها بصورة من الصور المباحة جاز بیعها؛ ولذلك جوزوا بیع الدیدان؛ لتکون طعمة للصید، حتی أفتی بعض العلماء بجواز بیع الدیدان التي تعامل الناس بالتجارة فیها لکونها جمیلة المنظر، ولم یعرف له استعمال آخر. وکذلك یجوز بیع الحیات لاستخدامها في الأدویة، وبیع الفیل وکل حیوان ینتفع بجلده أو عظمه، کما ذکره الحصکفي في الدر المختار، ثم قال: "والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع"……. فتبین أن التقوم العرفي یحصل بالانتفاع، فکل ما انتفع به فهو متقوم عرفا، ولکن یشترط لجواز بیعه أن یکون الانتفاع به مباحا شرعا.
فقه البیوع (1/ 324-316):
133- بیع ما لایتمحض لمحظور: أما الأشیاء التي لاتتمحض لمحظور، بل یمکن استعمالها في حلال أو حرام، فقد اختلفت أنظار الفقهاء في حکم بیعها. والذي تحصل لي بمراجعة ما ذکره الفقهاء في هذ الموضوع والتأمل في کلامهم أن هذه الأشیاء علی ثلاثة أقسام:
الأول: ما وضع في حالتها الموجودة لغرض محظور شرعا، ویحتاج استعمالها المباح إلی تغییر في حالتها الموجودة، مثل آلات اللهو….. فالقسم الأول: ما وضع لغرض محظور، ومادته مباحة، فلایستعمل في مباح إلا بتکلف أو إحداث تغییر فیه. وذکر فیه الفقهاء آلات الملاهي المحظورة، ویقصدون بها آلات الموسیقي الممنوعة في المذاهب الأربعة……. أما الحنفیة والشافعیة فبیع هذه الآلات صحیح منعقد عند هم؛ لأنه یمکن استعمالها في مباح، ولو بعد تغییرها، ولکن یکره البیع في حالتها الموجودة…….. والظاهر أن الکراهة التي ذکر ها الحنفیة في بیعها قبل فصلها تحریمیة؛ لما قال ابن الهمام في أول شرحه لِ " فصل في ما یکره " من الهدایة: "لما كان دون الفاسد أخره عنه، وليس المراد بكونه دونه في حكم المنع الشرعي، بل في عدم فسادالعقد، وإلا فهذه الكراهات كلها تحريمية، لا نعلم خلافا في الإثم. (6/476). ومقتضاه أن لایطیب الثمن للبائع…….…… الخ
القسم الثالث: ما وضع لأغراض عامة، ویمکن استعماله في حالتها الموجودة في مباح أو غیره………. الظاهر من مذهب الحنفیة أنهم یجیزون بیع هذا القسم، وإن کان معظم منافعه محرَّمًا، ولذلك أجازوا بیع الدهن المتنجس. قال الحصکفي في الدر المختار "ونجیز بیع الدهن المتنجس والانتفاع به في غیر الأکل، بخلاف الودك." وإنما حرموا بیع ودك المیتة؛ لأنه جزء من المیتة، فدخل في القسم الأول، ولحدیث جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:
"إن الله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام. قيل: يا رسول الله! أرأيت شحوم الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: لا، هو حرام. ولکن جواز البیع في هذه الأشیاء بمعنی صحة العقد. أما الإثم فیتأتی فیه ما ذکرناه في شروط العاقد من أنه إذا کان یقصد به معصیة، بائعًا أو مشتریًا، فالبیع یکره تحریما، وذلك إما بنیة في القلب، أو بالتصریح في العقد ان البیع یقصد به محظور. أما إذا خلا العقد من الأمرین، ولایعلم البائع بیقین أن المشتري یستعمله في محظور، فلا إثم في بیعه. وإن علم البائع أنه یستعمله في محظور وکان سببًا قریبًا داعیًا إلی المعصیة فیکره له البیع تحریما، وإن کان سببًا بعیدًا لایکره، مثل بیع الحدید من أهل الحرب أو أهل البغي.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28 /ربیع الاول /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


