| 92522 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیا زکوٰۃ کی رقم کی ادائیگی قسطوں میں کی جا سکتی ہے؟اگر تمام سالوں کی زکوٰۃ کا مجموعی حساب لگایا جائے تو وہ رقم کافی زیادہ بنتی ہے، جبکہ مالی طور پر ہمارے لیے ایک ساتھ اتنی بڑی رقم ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیا شرعاً جائز ہے کہ ہم زکوٰۃ کی کل رقم طے کر کے اسے قسطوں کی صورت میں ماہانہ، ہفتہ وار یا حسبِ توفیق تھوڑی تھوڑی کر کے مستحقین زکوٰۃ اور مساکین کو دیتے رہیں ،تا کہ زکوٰۃ ادا ہو جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی رقم یکمشت ادا کرنا مشکل ہو، توقسطوں میں تھوڑی تھوڑی کرکے بھی ادا کی جاسکتی ہے، تاہم زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ادا کی جانے والی رقم کا باقاعدہ حساب بھی لکھتے رہنا چاہیے، تاکہ بعدمیں حساب میں کسی قسم کی غلطی یا الجھن نہ ہو۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 3):
وذكر أبو عبد الله الثلجي عن أصحابنا أنها تجب وجوبا موسعا، وقال عامة مشايخنا: إنها على سبيل التراخي ومعنى التراخي عندهم أنها تجب مطلقا عن الوقت غير عين ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


