| 92460 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
کیا ایام حیض میں خون کا بہنا شرط ہے؟ ایک لڑکی کی عادت چند سالوں سے یہ ہے، کہ دو سے تین دن تک کالا دھبہ نظر آتا ہے اور تیسرےدن میں بہاؤ ہوتا ہے ،پھر پانچویں دن سے آٹھویں یا نویں دن تک ہلکا سا دھبہ لکیر کی طرح نظر آتا ہے۔تو کیا حکم ہے یہ حیض شمار ہوگا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایامِ حیض کے دوران خون کا مسلسل جاری رہنا یا باقاعدہ سیلان شرط نہیں ہے،لہٰذا مذکورہ صورت میں کالے دھبے کے ظاہر ہونے سے لے کر آٹھویں یا نویں دن تک کا تمام دورانیہ، چونکہ حیض کی اکثر مدت (دس دن) کے اندر ہے اور سائلہ کی عادت بھی یہی ہے، اس لیے یہ پورا دورانیہ حیض شمار ہوگا۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي:(1/ 32)
وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض حتى ترى البياض خالصا وقال أبو يوسف رحمه الله: لا تكون الكدرة حيضا إلا بعد الدم لأنه لو كان من الرحم لتأخر خروج الكدر عن الصافي ولهما ما روي أن عائشةرضي الله عنه جعلت ما سوى البياض الخالص حيضا وهذا لا يعرف إلا سماعا.
المبسوط لسرخسی (150/3، دار المعرفة)
"(فصل ألوان ما تراه المرأة في أيام الحيض) ستة السواد والحمرة والصفرة والكدرة والخضرة والتربية أما السواد فغير مشكل أنه حيض لقوله صلى الله عليه وسلم «دم الحيض أسود عبيط»
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


