| 92449 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
وائس میسج کے ذریعےتین طلاقیں دینا
میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر بابا کے کہنے پر میں نے اسے چھوڑ دیا ۔میں نے بیوی کوپہلے دو طلاقیں دی یہ سمجھ کر کہ ہم کچھ ٹائم کے اندر رجوع کر لیں گے ،مگر اس نے مجھے مجبور کیا اور کہاکہ مجھے تیسری بھی دے دو، میں نے نہ چاہتے ہوئے دےدی ۔میں نے وائس میسج کے ذریعےدوطلاقیں دیں پھر ایک یادودن بعد تیسری طلاق دی ۔اب ہم دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،کیا اب رجوع کر سکتے ہیں؟ یا دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟
تنقیح :سائل نے پہلی وائس میسج میں بیوی کو کہاکہ "میں تمہیں ایک طلاق دے رہاہوں دوسری بھی دے رہاہوں"پھر ایک یادودن بعد بیوی نے کہاکہ تیسری بھی دے دو ،اگر نہیں دوگے تو میں تمہارے باباکے ساتھ بد تمیزی کروں گی،سائل نے آگے سےوائس میسج میں کہاکہ "میں تمہیں تیسری طلاق بھی دے رہاہوں"۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی ذکرکردہ تفصیل کے مطابق آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اب آ پ میاں بیوی نہیں رہے،لہذاآپ پر فوری علیحد گی اختیارکرناضروری ہے۔آپ کی بیوی عدت گزار کرکسی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
ﵟفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗﵞ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(3/ 187):
أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
فتح القدير للكمال بن الهمام (4/ 177):
(وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}.
الفتاوى الهندية (1/ 473):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
25/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


