| 92523 | وقف کے مسائل | قبرستان کے مسائل |
سوال
ہمارے علاقے کی جامع مسجد کے پیچھے ایک قدیم قبرستان ہے، جو کم از کم 100 بلکہ غالبا 200 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے قبرستان کے طور پر چلا آرہا ہے ۔موجودہ لوگوں کی یادداشت سے بھی بہت پہلے سے یہ قبرستان موجود ہے، البتہ اس کے وقت کی تعیین کی کوئی تحریری دستاویز یا واضح ریکارڈ ہمارے پاس موجود نہیں۔ اس زمین کے اصل مالکان یا ان کے وارثین بھی معلوم نہیں اور عملا کوئی شخص اس زمین کی ملکیت کا دعوی بھی نہیں کرتا ۔گزشتہ تقریبا چار پانچ سال سے قبرستان کے قریب متعلقہ جگہ پر گاڑیوں کا ایک عمومی اڈا قائم ہے، جہاں گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔ یہ کسی فرد کا ذاتی اڈا نہیں بلکہ علاقے کا مرکزی اور عوامی اڈا ہے،جس سے عام لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس جگہ سے گزرنے کے لیے جو راستہ پہلے سے موجود تھا اب اسے ختم کر دیا گیا ہے اور وہاں آمد و رفت کا سابقہ راستہ باقی نہیں رہا۔اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں اس جگہ کو گاڑیوں کے اڈے یا عوامی راستے کے طور پر استعمال کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ خصوصا جبکہ یہ جگہ ایک قدیم قبرستان ہے، اگرچہ اس کے وقف ہونے کی کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں اور اصل مالکان اور وارثین بھی معلوم نہیں ۔برائےکرم اس صورتحال کا شرعی حکم واضح فرمائیں، نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ قدیم قبرستان ہونے کی وجہ سے اس زمین کے استعمال کی شرعی حیثیت کیا ہوگی اور سابقہ راستہ ختم کر کے اسے دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر قبرستان موقوفہ ہو، کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو اس کی زمین پر کسی کے لیے ملکیتی تصرف جیسےکہ تعمیر،زراعت یا گاڑیوں کااڈا وغیرہ بنانا شرعاً جائز نہیں ہوتا، بلکہ جس مقصد کے لیے وہ وقف ہو،اسی میں استعمال کرنا لازم ہے۔
لہذامذکورہ مقبرہ میں اگر قبروں کے نشانات مٹ چکے ہوں اور اس میں مدفون اَموات مٹی بن چکی ہوں تو اس میں جدید اَموات کی تدفین کی جائے ،مگر اس میں گاڑیوں کا اڈا بنانایا عوامی راستے کے طور پر استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔باقی اگراس قبرستان کے وقف ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہ ہوتو بھی جب قدیم زمانے سےیہ بطورقبرستان مشہورہے تو اس کے وقف ہونے کےلیے یہی قرینہ کافی ہے،ایک فقہی اصول ہے قدیم کو اپنی حالت پر برقراررکھاجائے گا،لہذا اس کو اپنی حالت پر قبرستان ہی رہنے دیاجائے اوراس میں جدیداموات کی تدفین شروع کی جائے۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني» (6/ 220):
«سئل القاضي الإمام شمس الإسلام محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا، وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق منها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زراعتها واستغلالها؟ قال: لا»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 490):
«ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 443):
«وقد صرحوا بأن شرط الواقف كنص الشارع فأشبه الإرث في عدم قبوله الإسقاط»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 412):
«مطلب في حكم الوقف القديم المجهولة شرائطه ومصارفه
(قوله: وقواه في الفتح بقولهم إلخ) حيث قال في كتاب الشهادات وأنت إذا عرفت قولهم ذلك لم تتوقف عن تحسين ما في المجتبى لأن ذلك هو معنى الثبوت بالتسامع اهـ أي لأن الشهادة بالتسامع هي أن يشهد بما لم يعاينه والعمل بما في دواوين القضاة عمل بما لم يعاين، وأيضا قولهم المجهولة شرائطه ومصارفه يفهم منه أن ما لم يجهل منها يعمل بما علم منها، وذلك العلم قد لا يكون بمشاهدة الواقف بل بالتصرف القديم، وبه صرح في الذخيرة حيث قال سئل شيخ الإسلام عن وقف مشهور اشتبهت مصارفه وقدر ما يصرف إلى مستحقيه قال: ينظر إلى المعهود من حاله فيم سبق من الزمان من أن قوامه كيف يعملون فيه وإلى من يصرفونه، فيبنى على ذلك لأن الظاهر أنهم كانوا يفعلون ذلك على موافقة شرط الواقف وهو المظنون بحال المسلمين فيعمل على ذلك اهـ»
محمد اسماعیل بن سید رحمان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
تاریخ:۲۷،ربیع الثانی، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن سید رحمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


