03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیدرلینڈز میں ذاتی رہائش کے لیے مارگیج لینے کے بارے میں شرعی رہنمائی
92545سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میرا نام جہانگیر خان ہے، عمر 27 سال ہے، اصل تعلق پاکستان سے ہے اور اس وقت نیدرلینڈز میں رہائش پذیر اور ملازمت کرتا ہوں۔ میں نیدرلینڈز میں اپنے اور اپنے مستقبل کے خاندان کے لیے ایک ذاتی رہائشی گھر خریدنا چاہتا ہوں۔ یہاں عام طور پر گھر خریدنے کے لیے بینک سے Conventional Mortgage لیا جاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اسلام میں ربا (سود) حرام ہے اور میری خواہش بھی یہی ہے کہ حتی الامکان سودی معاملے سے بچوں۔ تاہم، اس مسئلے میں مختلف علماء کی مختلف آراء سننے کو ملی ہیں، اس لیے اپنی مکمل صورتحال بیان کرکے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔

1. Mortgage کا طریقہ: مثلاً اگر گھر کی قیمت €400,000 ہو اور میرے پاس €50,000 اپنی رقم ہو تو باقی تقریباً €350,000 بینک سے Mortgage کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔بینک یہ رقم قرض کی صورت میں دیتا ہے اور اسے مقررہ مدت میں واپس کرنا ہوتا ہے، جبکہ اصل قرض کے علاوہ Interest (سود) بھی ادا کیا جاتا ہے۔

نیدرلینڈز میں عام طور پر دو قسم کے repayment mortgages استعمال ہوتے ہیں:

* Annuity Mortgage: ماہانہ ادائیگی میں اصل قرض اور سود دونوں شامل ہوتے ہیں۔ شروع میں سود کا حصہ نسبتاً زیادہ اور principal repayment کم ہوتا ہے، پھر وقت کے ساتھ principal کم ہونے کی وجہ سے سود بھی کم ہوتا جاتا ہے۔

* Linear Mortgage: اصل قرض کا ایک مقررہ حصہ باقاعدگی سے واپس کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے باقی قرض اور اس پر ادا ہونے والا سود بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔

دونوں صورتوں میں سود کی ادائیگی شامل ہوتی ہے۔ عموماً مورگیج کو 30 سال تک کی مدت میں repay کیا جاتا ہے۔

یہ گھر صرف میری ذاتی اور مستقل رہائش کے لیے ہوگا۔ میرا مقصد اسے investment، business یا rent پر دینے کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے اور اپنے مستقبل کے خاندان کے لیے گھر حاصل کرنا ہے۔

اگر Mortgage نہ لیا جائے تو متبادل رہائش کی صورتحال نیدرلینڈز میں Social Housing موجود ہے، لیکن اس کے لیے آمدنی اور دیگر شرائط ہوتی ہیں۔ میری professional income کی وجہ سے ممکن ہے کہ میں کم کرائے والی social housing یا اس سے متعلق بعض benefits کا اہل نہ ہوں۔

اسی طرح Huurtoeslag (Housing Benefit) بھی ہر شخص کو خودکار طور پر نہیں ملتی بلکہ آمدنی، اثاثوں، کرائے اور گھر سے متعلق شرائط ہوتی ہیں۔

اس صورت میں مجھے Private Rental Market پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں مناسب family home کا کرایہ بعض شہروں میں تقریباً €1,800–€2,300 یا اس سے بھی زیادہ ماہانہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح سالانہ کرایہ تقریباً €21,600–€27,600 یا اس سے زیادہ بنتا ہے، اور اس ادائیگی سے گھر کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ زیادہ کرایہ خود بخود Mortgage کو جائز بنا دیتا ہے، بلکہ اپنی حقیقی مالی اور رہائشی صورتحال واضح کرنا چاہتا ہوں تاکہ شرعی حکم میں حاجت (Hajah) یا ضرورت کے اصول کا درست اطلاق سمجھا جا سکے۔

میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اپنی بنیادی رہائش خریدنے کے لیے مخصوص شرائط کے تحت conventional mortgage کی گنجائش ہو سکتی ہے، جبکہ بعض علماء اسے ہر صورت میں ناجائز قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں سود شامل ہے۔

لہٰذا براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

  1. کیا مذکورہ Conventional Mortgage، جس میں قرض کے عوض Interest ادا کیا جاتا ہے، شرعاً ربا کے زمرے میں آتا ہے؟ اور اگر یہ ربا کے زمرے میں آتا ہے تو کیا مذکورہ شخص کا غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش پذیر ہونا، Mortgage کا صرف اپنی بنیادی اور مستقل رہائش کے لیے استعمال کرنا، اسلامی متبادل فنانسنگ کا دستیاب نہ ہونا، Social Housing کے لیے نااہل یا اس کا عملاً دستیاب نہ ہونا، اور Private Rental کے غیر معمولی مہنگے ہونے کی وجہ سے طویل مدت تک کرایہ ادا کرنا شدید مالی دشواری کا باعث ہونا، ان میں سے کسی صورت کو فقہی اعتبار سے ایسی معتبر حاجت یا ضرورت قرار دیا جا سکتا ہے جس کی بنا پر Conventional Mortgage کے ذریعے اپنی رہائش کے لیے گھر خریدنے کی گنجائش پیدا ہو؟ نیز فقہِ اسلامی میں ایسی حاجت یا ضرورت کی وہ کیا حد ہے جو کسی ممنوع معاملے میں رخصت کا شرعی سبب بن سکتی ہے؟
  2.  اگر conventional mortgage جائز نہ ہو تو نیدرلینڈز میں رہنے والے مسلمان کے لیے حقیقی اور قابلِ عمل Shariah-compliant alternatives کیا ہیں؟

میں اپنی پسند کا جواب حاصل کرنے کے لیے سوال نہیں کر رہا، بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ جو فیصلہ بھی کروں وہ قرآن و سنت اور معتبر فقہی اصولوں کے مطابق ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. وہ تمام عقود جن میں اصل قرض کے علاوہ بینک کو زائد رقم ادا کرنا مشروط ہو، وہ شریعت میں صراحتاً ربا کے زمرے میں آتے ہیں اور قطعی طور پر حرام ہیں۔

فقہی قواعد میں ’’الضرورات تبيح المحظورات‘‘ یعنی ضرورت ممنوع چیز کو مباح کر دیتی ہے، ایک تسلیم شدہ قاعدہ ہے؛ لیکن اس کی حد وہ شدید مجبوری ہے جس میں انسان کی ذات، صحت یا بنیادی بقا کو خطرہ لاحق ہونے کا واقعی اندیشہ ہو۔

پرائیویٹ رینٹل مارکیٹ میں کرایہ کا غیر معمولی مہنگا ہونا یا سالانہ بڑی رقم خرچ ہونا اور اس رقم کا ملکیت میں تبدیل نہ ہونا ایک شدید مالی مشقت تو ہو سکتی ہے، لیکن فقہی اعتبار سے یہ اس حدِ اضطرار تک نہیں پہنچتی جو کسی گناہِ کبیرہ کو جائز کر دے؛ کیونکہ رہائش کا بنیادی مقصد کرائے پر مکان لے کر حاصل ہو رہا ہے اور جان یا صحت کو ہلاکت کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

  .2اس کے لیے درج ذیل متبادل صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں:

بینک یا مالیاتی اداروں سے گفت و شنید: بینک یا مالیاتی اداروں سے گفت و شنید کرکے انہیں اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ مورگیج کے معاملے کے بجائے خرید و فروخت کا معاملہ کریں؛ کہ بینک پہلے یہ گھر خرید لے، پھر اسے ادھار اقساط پر زائد قیمت کے ساتھ فروخت کر دے۔

مسلمان تاجروں کا یونین یا ویلفیئر ٹرسٹ قائم کرنا: وہاں کے مسلمان تاجر مل کر ایک یونین یا ویلفیئر ٹرسٹ بنائیں، جو مستقل شرعی و قانونی وجود رکھتا ہو۔ ادارے کے اصول و ضوابط طے کیے جائیں اور ادارے کے ممبران اس میں بطورِ مضاربت اپنی رقوم لگائیں۔ کچھ رقم کسی منافع بخش کاروبار میں لگائی جائے اور باقی کچھ رقم سے کسی حاجت مند مسلمان کو گھر خرید کر شرکتِ متناقصہ کے طریقے پر فروخت کیا جائے۔

اس کی صورت یہ ہو کہ مثلاً پورے گھر کے دس حصے بنا لیے جائیں، ایک حصہ ہر ماہ اسے فروخت کیا جائے اور باقی میں ٹرسٹ کی ملکیت رہے۔ بقیہ حصوں کا کرایہ وصول کیا جائے، یہاں تک کہ وہ تمام حصے اسے فروخت کر دیے جائیں۔

زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے تعاون: وہاں کے مسلمان اپنی زکوٰۃ و صدقات سے حاجت مند مسلمانوں کی گھر خریدنے میں مدد کریں، بشرطیکہ مذکورہ حاجت مند شخص مستحقِ زکوٰۃ ہو۔

مشترکہ ملکیت کے ذریعے گھر خریدنا: اگر کوئی شخص کچھ رقم ملا سکتا ہو تو اس کے ساتھ دوسرے مسلمان مل کر گھر خرید لیں۔ اس میں یہ سب شریک ہو جائیں، اور پھر ہر شریک اپنا حصہ ادھار اقساط پر مناسب زائد قیمت کے ساتھ فروخت کر دے۔

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار (2/ 30)

وهو في اللغة: الزيادة، ومنه الربوة للمكان الزائد على غيره في الارتفاع.وفي الشرع: الزيادة المشروطة في العقد، وهذا إنما يكون عند المقابلة بالجنس..... والأصل في تحريمه قوله تعالى:{وأحل الله البيع وحرم الربا} [البقرة: 275]... والحديث المشهور، وهو قوله - عليه الصلاة والسلام -: «الذهب بالذهب مثلا بمثل، وزنا بوزن، يدا بيد، والفضل ربا، .....»

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 137)

وفي القنية من الكراهية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اهـ.

الموسوعة الفقهية الكويتية (6/ 166)

وفي الأشباه لابن نجيم، ومثله في المنثور للزركشي: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه، كالربا ومهر البغي وحلوان الكاهن والرشوة للحاكم إذا بذلها ليحكم له بغير الحق، إلا في مسائل في الرشوة لخوف على نفسه أو ماله أو لفك أسير أو لمن يخاف هجوه. وينبغي أن يكون مثله إعطاء الربا للضرورة فيأثم المقرض دون المقترض.

موسوعة القواعد الفقهية (12/ 314)

القاعدة الثّلاثون [الضّرورة]

أولاً: لفظ ورود القاعدة:يجوز في الضّرورة ما لا يجوز في غيرها .

ثانياً: معنى هذه القاعدة ومدلولها:هذه القاعدة بمعنى القاعدة القائلة (الضّرورات تبيح المحظورات) تنظر ضمن قواعد حرف الضّاد رقم 10، 11.فالضّرورة هنا: المشقّة الزّائدة عن المعتاد، والتي يؤدي عدم مراعاتها إلى الهلاك أو قريباً منه. فهذه تفيد إباحة المحرم - عدا القتل والزّنا - بل قد يصبح المحرّم واجباً، فهذه الحالة تجيز ارتكاب ما لا يجوز في غيرها من الحالات.وقد سبق ذكر أمثال لها، وهي تندرج تحت قاعدة (المشقّة تجلب التّيسير) وأدلّتها من الكتاب والسّنّة والإجماع كثيرة معروفة .

   شفیع اللہ بن معروف خان

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

   تاریخ:۲۷،ربیع الثانی، ١٤٤۸

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شفیع اللّٰہ بن معروف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب