| 92453 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
اگر شوہر تین طلاقیں دینے کے بعد بھی اس بات کا اقرار نہ کرے اور ساتھ رہنے پر مجبور کرے، تو عورت کو ایسے میں کیا کرنا چاہیے اور اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بارے میں اختلاف ہو تو اس صورت میں قضاء اور دیانت کا حکم الگ الگ ہوگا۔ قضاء کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ قاضی یا عدالت کے پاس چلا جائے تو عورت پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کرے۔ اگر وہ دعویٰ ثابت کر دے، تو پھر قاضی عورت کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے تین طلاقوں کے وقوع کا فیصلہ کرے گا۔ البتہ اگر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں، تو قضاء کی رو سے شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور اسے قانوناً عورت کو اپنے نکاح میں باقی رکھنے کا اختیار ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کے پاس تین طلاقوں کے وقوع پر دو شرعی گواہ موجود ہیں، تو قضاءً و قانوناً عورت پر تین طلاقوں کے وقوع کا فیصلہ کر دیا جائے گا، بصورتِ دیگر شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر مانی جائے گی۔
تاہم دیانت کے اعتبار سے اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت کو کامل یقین ہے کہ شوہر اسے واقعی تین طلاقیں دے چکا ہے، تو شرعاً ان کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور پہلے شوہر سے نکاح قطعی طور پر ختم ہو چکاہے۔لہٰذا ،اگر گواہوں کی عدم دستیابی اور شوہر کی قسم کی بنیاد پر عدالتی فیصلہ شوہر کے حق میں ہو بھی جائے، تب بھی عورت کے لیے اس شخص کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں ۔
ایسی صورت میں عورت اپنے علمِ یقینی کی پابند ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ ہرگز شوہر کے پاس نہ جائے، ا ولیاء پر لازم ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ اگرعدالت شوہر سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کردے تو عورت( خواہ کچھ مال دے کر ہی ہو) خلع یا کسی بھی ممکنہ صورت میں علیحدگی حاصل کرے۔ اس کے لیے شرعاً حرام ہے کہ وہ خود کو شوہر کے حوالے کرے یا اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات استوار کرے۔ ایسے میں وہ عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کروا کر بھی قانونی تحفط حاصل کر سکتی ہے، جو آج کل فیملی کورٹس سے حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/ 356):
"(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق، ومفاده أنه لو علق طلاقها بعدم وصول نفقتها أياما فادعى الوصول وأنكرت أن القول له وبه جزم في القنية، لكن صحح في الخلاصة والبزازية أن القول لها، وأقره في البحر والنهر، وهو يقتضي تخصيص المتون؛ لكن قال المصنف: وجزم شيخنا في فتواه بما تفيده المتون والشروح لأنها الموضوعة لنقل المذهب كما لا يخفى (إلا إذا برهنت) فإن البينة تقبل على الشرط وإن كان نفيا كإن لم تجئ صهرتي الليلة فامرأتي كذا فشهد أنها لم تجئه قبلت وطلقت منح"
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 36):
"الأصل في جنس هذه المسائل أن المرأة إذا أخبرت عما هو شرط الحنث في اليمين بطلاقها وكذبها الزوج في ذلك ينظر إن كان ذلك الشرط مما يطلع عليه غيرها لا يقبل قولها إلا بحجة لأنها تدعي طلاقا على الزوج والزوج ينكر"
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 277):
"والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.وهل لها أن تقتله إذا أراد جماعها بعد علمها بالبينونة فيه قولان، والفتوى أنه ليس لها أن تقتله وعلى القول بقتله تقتله بالدواء فإن قتلته بالسلاح وجب القصاص عليها وليس لها أن تقتل نفسها وعليها أن تفدي نفسها بمال أو تهرب وليس له أن يقتلها إذا حرمت عليه ولا يقدر أن يتخلص منها بسبب"
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


