03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق مغلظہ کا حکم
92452طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھ سے جھگڑا کیا اور مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ گئے۔ میں تقریباً 15، 20 دن اپنے والدین کے گھر رہی۔ اس دوران میرے شوہر نے فون کرکے کہا کہ اکیلی گھر آ جاؤ، میں تمہیں لینے نہیں آؤں گا۔ میں نے اکیلے جانے سے انکار کیا .اس کے بعد انہوں نے مجھے فون کیا۔ فون اسپیکر پر تھا اور میری فیملی کے لوگ بھی موجود تھے۔ میرے شوہر نے مجھ سے کہا: "آ جاؤ، اکیلی آ جاؤ۔" میں نے پھر بھی اکیلے جانے سے انکار کیا، تو انہوں نے مجھے ایک ہی سانس میں تقریباً چار، پانچ مرتبہ کہا: "میری طلاق ہے تمہیں، میں تمہیں لینے نہیں آؤں گا۔" یہ بات میرے گھر والوں نے بھی سنی۔جب میرے شوہر نے طلاق کے الفاظ کہے، تو اسی دن شام کو وہ مجھے لینے آ گئے اور میں واپس اپنے شوہر کے گھر آ گئی۔ پھر میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ ہماری طلاق ہو چکی ہے، آپ کسی مفتی صاحب سے مشورہ کر لیں۔ میرے شوہر نے کہا کہ میں نے معلوم کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی۔ انہوں نے مجھے بھی کہا کہ اس بات کو ختم کر دو اور کسی سے ذکر نہ کرنا کہ ایسا کچھ ہوا تھا۔میرا کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں میں جا سکوں۔ میرے والدین، بہن بھائی، کوئی بھی مجھے اپنے گھر رکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ میں نے ایک دو جگہ سے مسئلہ معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ طلاق ہو گئی ہے اور اب حلالہ کروانا پڑے گا۔جبکہ میرا دل مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں حلالہ کرواؤں۔ اور اگر میں حلالہ کروا بھی لوں تو میرے شوہر کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کہ طلاق ہوئی تھی، کیونکہ وہ تو طلاق ہونے ہی کو نہیں مانتے۔ اس صورت میں دوبارہ نکاح کا مسئلہ بھی پیدا ہوگا۔میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔ مجھے اس مسئلے کا کوئی شرعی حل بتائیں۔ میں کہیں جا نہیں سکتی، لیکن اس گھر میں رہنا بھی میرے لیے حرام ہو سکتا ہے، اور میں حلالہ بھی نہیں کروا سکتی۔

اس واقعے سے پہلے بھی جب ایک دو مرتبہ جھگڑا ہوا تھا، میرے شوہر یہ کہہ چکے ہیں کہ "میری طرف سے طلاق ہے۔ اس کے بعد پھر سے ہم ساتھ رہنے لگ گئے ۔میرے شوہر مجھ پر تشدد بھی کرتے ہیں اور ان کے غیر ازدواجی تعلقات بھی ہیں۔ میں نے ہر چیز برداشت کی ہے، لیکن اب میں یہ کیسے برداشت کروں کہ میں کسی ایسے کام پر مجبور ہو جاؤں جو شرعاً حرام ہو؟

2: اس واقعے کو ایک سال ہونے کو ہے۔ یہ بھی بتائیے کہ اس میں گناہگار کون ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں  سائلہ(بیوی)پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،اور وہ اپنے شوہر پر تین طلاقِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے،اب نا تو  رجوع  ہو سکتا ہے اور نا ہی دوبارہ نکاح  ہو سکتاہے۔ بیوی  کی   عدت بھی  گزر  چکی ہے ہے،لہذا،اب وہ آزاد ہے کہ وہ کسی دوسرےشخص سے نکاح کرے ۔

سائلہ کو چاہیے کہ وہ خاندان کے بڑوں، رشتہ داروں اور محلے کے  اعزاء کے تعاون سے جلد از جلد  اپنے لیے ایک مناسب رشتہ تلاش کرے اور جلد از جلد نکاح کر کے ایک نئے گھر بار کا آغاز کرے۔

2: تین طلاق کے بعد چونکہ میاں بیوی کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے نہ تو رجوع جائز تھا اور نہ ہی ان کا اکٹھا رہنا، اس لیے ایک سال تک ساتھ رہنے کی وجہ سے دونوں شدید گنہگار ہوئے ہیں۔ ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر سچی توبہ و استغفار کریں، آئندہ ایسا گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کریں اور فوراً ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔

حوالہ جات

(البقرہ:230)

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُ

(صحیح البخاري:7/47)

وقال الليث عن نافع كان ابن عمر ‌إذا ‌سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

(ردالمحتار:3/233)

(قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية: لا يقع بلفظ الثلاث...وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

(الفتاوی الھندیۃ:1/473)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.

(البنایۃ شرح الھدایۃ:5/335)

‌فلو ‌قال لها ‌أنت ‌طالق ‌ثلاثًا يقع الثلاث، فينبغي أن يقع الثلاث أيضًا إذا قال لها ‌أنت ‌طالق وطالق وطالق.

( الفتاوی الھندیۃ:1/526)

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.

 والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

27/ربیع الثانی /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب