| 92511 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
فائیور (Fiverr) ایک بین الاقوامی آن لائن مارکیٹ پلیس ہے جہاں کلائنٹس سروس فراہم کرنے والوں (سیلرز) کو کام کے لیے ہائر کرتے ہیں۔ ہماری کمپنی ایک سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ہے جو فائیور پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے کلائنٹس سے آرڈرز حاصل کرتی ہے۔ فائیور پر سیلر کی رینکنگ اور نمائش کا زیادہ تر دارومدار اس کی ریٹنگ، مکمل شدہ آرڈرز کی تعداد، اور خریداروں کے تاثرات (ریویوز) پر ہوتا ہے۔ جتنی بہتر ریٹنگ اور زیادہ آرڈرز ہوں، فائیور اتنا ہی زیادہ سیلر کو سرچ میں اوپر دکھاتا ہے۔
طریقہ کار یہ ہے کہ ہم ایک بیرونی ایجنسی کو معاوضہ دے کر اس سے جعلی خریدار بنواتے ہیں۔ ایجنسی کے لوگ امریکہ میں مقیم ہونے کا تاثر دیتے ہوئے فائیور اکاؤنٹس چلاتے ہیں، حالانکہ وہ حقیقت میں کسی اور جگہ بیٹھے ہوتے ہیں اور کسی ایسی شناخت کی نمائندگی کرتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں۔ ہم خود ایک جعلی گفتگو پہلے سے لکھ کر ایجنسی کو بھیجتے ہیں، جسے وہ فائیور کی میسجنگ پر بطور خریدار ہمارے ساتھ دہراتے ہیں تاکہ ایک حقیقی خریدار کی حقیقی انکوائری معلوم ہو۔ رقم خود ہم فراہم کرتے ہیں جو ایجنسی کے ذریعے واپس آرڈر کی مد میں ہمیں مل جاتی ہے، یعنی کوئی حقیقی خریدار اور کوئی حقیقی ضرورت موجود نہیں ہوتی۔ کچھ دن بعد ہم فائلیں ڈیلیور کر کے آرڈر مکمل قرار دیتے ہیں۔ ریویو کا متن بھی ہم خود لکھ کر بھیجتے ہیں، جسے آپریٹر بطور اپنے تاثرات کے، پانچ ستاروں کی ریٹنگ کے ساتھ پبلک پروفائل پر پوسٹ کرتا ہے، اور بعد میں پانچ ستاروں کی پرائیویٹ ریٹنگ بھی جمع کراتا ہے۔ نتیجتاً ہماری گِگ فائیور کی سرچ رینکنگ میں اوپر آ جاتی ہے، اور نئے حقیقی کلائنٹس کو ایک ایسی ریٹنگ اور تاثرات نظر آتے ہیں جو جزوی طور پر خود ساختہ ہیں۔ واضح رہے کہ فائیور کی رجسٹریشن کے وقت طے شدہ شرائط میں اس طریقہ کار کی ممانعت ہے۔
مذکورہ بالا طریقہ کار فرضی خریداروں کے ذریعے جعلی آرڈرز، جھوٹی گفتگو، خود رقم دے کر اپنے ہی آرڈر بذریعہ ایجنسی خریدنا، اور جھوٹی ریٹنگ اور ریویوز خود لکھ کر جمع کروانا شرعی اعتبار سے جائز ہے یا ناجائز؟ نیز اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی حدود میں رہتے ہوئے کاروبار کی تشہیر کرنا اور دیگر ایسا اقدارمات کرنا جن سے کاروبار کو ترقی ملے ایک جائز عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہے؛مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا (جس نے ہم سے دھوکہ دہی کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے)۔صورت مذکورہ میں فائیور پر ریٹنگ بڑھانے کے لیے خریداری کا فرضی معاملہ کرنا اور فیک ریوز ڈالنا دھوکہ دہی کا عمل ہے۔اس عمل سے خریداروں کے سامنے حقیقت مخفی رہتی ہے اور وہ محض ان مصنوعی ریویوز سے متاثر ہو کر سروسز خریدتے ہیں۔ اس طرح دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے ذریعے سروسز فروخت کرنا گناہ کا عمل ہے۔مزید یہ کہ ایسا کرنا ،رجسٹریشن کے وقت فائیور کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہونے کے سبب بھی جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ کی اصل سروسز اور کاروبار بذات خود شرعی اصولوں کے مطابق ہے تو محض اس عمل کی وجہ سےآمدنی ناجائز نہیں ہوگی ،لیکن دھوکہ دہی کے عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔
حوالہ جات
سورة البقرة: 198
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ
صحيح مسلم(1/ 99):
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: "مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا. وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 45):
والأجر يطيب وإن كان السبب حراما كما في المنية قهستاني، ونقل في المنح أن شمس الأئمة الحلواني قال تطيب الأجرة في الأجرة الفاسدة إذا كان أجر المثل،
فقہ البیوع ( (221,1
والحاصل أنَّ المرادَ من بيع التَّلجئة أو الهزل اصطلاحاً أن يعقدا البيع بتفاهم سابق أنهما لا يُريدان بذلك بيعاً حقيقياً، وإنّما يُظهران عقد البيع أمام غيرهما لسبب من الأسباب.
وحكم التَّلجئة أنّهما إن تواضعا قبل البيع أنَّ ما سيَعقِدانه من البيع، فإنّه هزل غير مقصود، ثمَّ عقدا البيع، فالبيع باطل غير منعقد، لأنّهما تكلَّما بصيغة البيع في الظاهر، ولم يقصدا البيع في الباطن، فانعدم التَّراضى الذى هو شرط لصحة البيع. وهذا ظاهر الرِّواية عن أبى حنيفة، وهو قول صاحبيه، وهو المشهور من مذهب الإمام أحمد، رحمهم الله تعالى جميعا.
احسن الفتاوی (ج8 ص192)
کسی کو ایک ملازمت مل رہی ہے مگر شرط یہ ہے کہ پانچویں جماعت کا سرٹیفکیٹ ہو، وہ ان کے پاس نہیں۔ مگر جعلی بن سکتا ہے تو اس صورت میں کوئی گناہ ہے یا نہیں؟ نیز اس کی اس معاملہ میں اعانت کرنے والوں پر گناہ ہوگا یا نہیں؟ اسی طرح ویلڈنگ وغیرہ کام کی مہارت کا جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے ملازمت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس پر ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواب:یہ جھوٹ اور دھوکا ہے لہٰذا جائز نہیں، اس کی اعانت کرنے والے بھی گنہگار ہوں گے، البتہ جو کام اس کے ذمہ ہے اگر وہ اسے بحسن وخوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تو تنخواہ حلال ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27/ربیع االثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


