| 92544 | شرکت کے مسائل | شرکت متناقصہ کا بیان |
سوال
کیا وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت میزان بینک کی موجودہ فنانسنگ کا مکمل معاہدہ، بشمول حکومتی سبسڈی، ابتدائی مقررہ شرح اور بعد میں KIBOR سے منسلک شرح، آپ کے شرعی بورڈ نے الگ سے جانچا ہے؟ اگر ہاں، تو اس پر کیا فتوی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’میرا گھر، میرا آشیانہ ‘‘ہاؤسنگ اسکیم عوام کی سہولت کے لیے حکومتِ پاکستان کا ایک منصوبہ ہے۔یہ اسکیم روایتی اور اسلامی دونوں بینکوں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ روایتی بینکوں کا طریقۂ کار سودی قرض پر مبنی ہے، اس لیے ان کے ذریعے یہ اسکیم حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔
اس کے برعکس، اسلامی بینک اس اسکیم کوایک شرعی عقد ’’ شرکتِ متناقصہ‘‘کے تحت انجام دیتے ہیں اور یہ تمام تر عمل مستند مفتیانِ کرام کے شریعہ بورڈ کی نگرانی میں ہوتا ہے، اس لیے اسلامی بینکوں سے یہ سہولت حاصل کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
) المعايير الشرعية, المعيار رقم 12، بند (5/1:
المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة، وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
1/جمادی الاولی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


