| 92296 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !شرعی مسافت گھر سے شروع ہوتی ہے یا شہر کی حدود سے؟ کیا بڑے شہروںمثلاً: دہلی، لندن، نیویارک وغیرہ میں اس حکم میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے؟ اور کیا واپسی کا راستہ بھی شرعی مسافت میں شمار کیا جاتا ہے؟
اس عورت کے بارے میں کیا جواب ہوگا جو صنعاء سے یمن کا سفر کرے گی اور "لَا يَخَافُ إِلَّا اللّٰهَ" (اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں رکھتی)؟ نیز، موجودہ زمانے میں بہت زیادہ امن و امان ہونے کی صورت میں کیا حکم ہوگا؟
اور کیا عورت کے سفر کے لیے معیار مسافت (فاصلہ) کے بجائے سفر کا وقت نہیں ہونا چاہیے؟ جب کہ فقہاء نے "تین دن اور تین راتوں" والی حدیث کی بنیاد پر قیاس کیا ہے، تو ہم نے اسے فاصلے کے ساتھ کیوں منسلک کر دیا؟ اسی طرح کیا مسح کے حکم کے بارے میں بھی یہی اصول نہیں ہونا چاہیے؟ یعنی، اگر حالات بدل گئے ہیں، تو کیا مسح کی مدت کے حکم میں بھی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی مسافت شروع ہونے سے متعلق شرعی اصول یہ ہے ، کہ شرعی مسافت گھر یا محلہ سے نکلتے ہی شروع نہیں ہوتی،بلکہ جب مسافر شہر یا بستی کی آبادی سے باہر نکل جاتا ہے، تب سے سفر کے احکام شروع ہوجاتےہے۔اور جب تک انسان اپنے شہر کی حدود میں رہے گا، وہ مسافر نہیں بنے گا اور پوری نماز ہی پڑھے گا۔
دہلی، لندن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں بھی یہی حکم لاگو ہوتا ہے؛ کیونکہ پورا شہر ایک ہی آبادی شمار ہوتا ہے۔ لہٰذا جب تک مسافر شہر کی آبادی اور حدود سے باہر نہ نکل جائے، وہ مقیم ہی رہے گا؛ خواہ اس نے شہر کے اندر کتنا ہی فاصلہ طے کر لیا ہو۔
شرعی مسافت (تقریباً 48 میل / 77.24 کلومیٹر) کا تعین ایک طرف کے راستے (صرف جانے کے فاصلے) سے لگایا جاتا ہے۔ جانے اور آنے کے فاصلے کو ملا کر سفر کا فاصلہ طے نہیں کیا جاتا۔ اگر جانے کا فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہو، تو واپسی کا راستہ ملا کر نماز قصر کرنا جائز نہیں ہوگا۔
حدیث شریف میں عورت کے اکیلے سفر کرنے کا ذکر ایک پیشین گوئی ا ور خبر کے طور پر ہے، جس میں غلبہ اسلام کے
بعد قائم ہونے والے امن و امان کی خبر دی گئی ہے۔ اس حدیث کا مقصد اس دور کے بہترین امن کو بیان کرنا ہے، عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کو جائز قرار دینا مقصود نہیں ہے۔
موجودہ دور میں امن و امان، جدید سہولیات یا تیز رفتار سواریوں (مثلاً ہوائی جہاز) کے باوجود عورت کے لیے شرعی مسافت کا سفر بغیر محرم یا شوہر کے مطلقاً نا جائز ہی رہے گا۔ کیونکہ احادیث میں اس کی ممانعت بالکل واضح ہے، اور یہ حکم محرم کی موجودگی کے ساتھ جوڑا گیا ہے، کسی عارضی امن کے دعوے پر نہیں-
سفر کا معیار وقت یا رفتار کے بجائے زمین کا فاصلہ رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ شرعی احکام میں سب کے لیے ایک جیسا قاعدہ اور سہولت رہے۔ اگر صرف وقت کو معیار بنایا جاتا تو تیز رفتار سواریوں سے چند منٹوں میں لمبا فاصلہ طے کرنے والا مسافر نہ بنتا، جبکہ پیدل چلنے والا شخص تھوڑے سے فاصلے پر مسافر بن جاتا۔ اسی لیے فقہائے کرام نے حدیث میں مذکور "تین دن اور تین راتوں کی درمیانی چال" کو فاصلے (48 میل / 77.24کلومیٹر) کے ساتھ منضبط کر دیا تاکہ سواریوں کے بدلنے سے شرعی حکم نہ بدلے۔
موزوں پر مسح کی مدت (مقیم کے لیے ایک دن رات اور مسافر کے لیے تین دن رات) رسول اللہ ﷺ کے صریح ارشادات سے مقرر شدہ شرعی حکم ہے۔ عبادات کی یہ حدبندیاں حالات یا ٹیکنالوجی کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتیں۔ لہٰذا دور حاضر میں بھی مسح کی یہی مدت بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہے گی۔
حوالہ جات
عن عدي بن حاتم، قال: بينا أنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل فشكا إليه الفاقة، ثم أتاه آخر فشكا إليه قطع السبيل، فقال: «يا عدي، هل رأيت الحيرة؟» قلت: لم أرها، وقد أنبئت عنها، قال «فإن طالت بك حياة، لترين الظعينة ترتحل من الحيرة، حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا الله۔۔۔۔.
صحيح البخاري (4/ 197)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم عليها».
صحيح مسلم (2/ 977)
قال محمد - رحمه الله تعالى - يقصر حين يخرج من مصره ويخلف دور المصر، كذا في المحيط وفي الغياثيةهو المختار وعليه الفتوى، كذا في التتارخانية الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى بخلاف القرية التي تكون متصلة بفناء المصر فإنه يقصر الصلاة وإن لم يجاوز تلك القرية، كذا في المحيط. وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران ولا يصير مسافرا بالنية حتى يخرج ويصير مقيما بمجرد النية، كذا في محيط السرخسي.
ثم المعتبرة المجاوزة من الجانب الذي خرج منه حتى لو جاوز عمران المصر قصر وإن كان بحذائه من جانب آخر أبنية، كذا في التبيين.
وإن كان في الجانب الذي خرج منه محلة منفصلة عن المصر وفي القديم كانت متصلة بالمصر لا يقصر الصلاة حتى يجاوز تلك المحلة، كذا في الخلاصة.
(الفتاوى الهندية ،1/139)
والثالث: الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرا بمجرد نية السفر ما لم يخرج من عمران المصر وأصله ما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه لما خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه وقال: لو جاوزنا الخص صلينا ركعتين ولأن النية إنما تعتبر إذا كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر فما لم يخرج لا يتحقق قرآن النية بالفعل فلا يصير مسافرا.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،1/94 (
وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا: فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء: أحدها: مدة السفر۔۔۔(ولنا) ما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «يمسح المقيم يوما وليلة، والمسافر ثلاثة أيام ولياليها» جعل لكل مسافر أن يمسح ثلاثة أيام ولياليها ولن يتصور أن يمسح المسافر ثلاثة أيام ولياليها ومدة السفر أقل من هذه المدة.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،1/ 93)
" السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام " لقوله عليه الصلاة والسلام " يمسح المقيم كمال يوم وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها ۔۔۔.
(الهداية في شرح بداية المبتدي ،1/ 80)
(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر.وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته، وإلا فلا (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة، ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال، ولا اعتبار بالفراسخ على المذهب(بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر، ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الاول لا الثاني.(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس: إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعا والمسافر ركعتين، ولذا عدل المصنف عن قولهم قصر، لان الركعتين ليستا قصرا حقيقة عندنا بل هما تمام فرضه، والاكمال ليس رخصة في حقه بل إساءة.
(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار ،105)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
15/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


