03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا بلاوجہ شوہرسے خلع کا مطالبہ کرنا
90035طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میرا نکاح نومبر کے مہینے میں ہوا۔ نکاح کے وقت حق مہر آٹھ لاکھ روپے مقرر ہوا جو شادی سے قبل مکمل طور پر ادا کر دیا گیا۔ شادی کے بعد، ازدواجی زندگی گزارنے کی پوری کوشش کی گئی اور ابتدا میں معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کی سعی کی گئی۔

شادی کے کچھ عرصے بعد میاں بیوی کے تعلقات میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔ بنیادی مسائل میں بار بار جھوٹ بولنا، باتیں چھپانا، خفیہ طور پر فون پر گفتگو کرنا، اولاد بند کرنے (حمل روکنے) والی گولیاں چھپ کر کھانا اور باہمی اعتماد کا ختم ہو جانا شامل تھا۔ میں نے بارہا اصلاح کی نیت سے نرمی اور سمجھانے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ گھر محفوظ رہے اور رشتہ قائم رہ سکے۔ بعد ازاں یہ بات بیوی کے اپنے اقرار سے معلوم ہوئی کہ شادی کے ابتدائی دو ماہ تک اولاد روکنے والی گولیاں استعمال کی گئیں۔ میں نے خود بھی شادی کے دنوں میں یہ گولیاں اس کے پاس دیکھیں اور منع بھی کیا کہ انہیں مت کھاؤ یہ گناہ ہے، جس سے مزید ذہنی اور ازدواجی اختلافات پیدا ہوئے۔ ان امور سے گھر والوں کو بھی آگاہ کیا گیا اور صلح کی کوششیں کی گئیں مگر حالات درست نہ ہو سکے۔ اصلاح کی نیت سے مجھ سے وقتی سختی بھی ہوئی جس پر مجھے افسوس ہے، تاہم اس کا مقصد کسی قسم کا ظلم نہیں تھا بلکہ گھر کو ٹوٹنے سے بچانا تھا۔

بعد میں میری بیوی کو میکے لے جایا گیا اور اب وہ خلع کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حق مہر کی رقم پہلے ہی مکمل طور پر ادا کی جا چکی ہے۔ اس وقت صلح کی تمام کوششوں کے باوجود علیحدگی کی بات کی جا رہی ہے۔

اس تمام صورتِ حال کے پیشِ نظر، میں آپ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل امور پر میری رہنمائی فرمائیں:

1۔ کیا اس صورت میں بیوی کا خلع کا مطالبہ شرعاً درست ہے؟

 2۔ حقِ مہر کی واپسی کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

3۔ اس صورتِ حال میں مجھ پر شرعی طور پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ اگر بیوی بغیر کسی معقول شرعی عذر کے خلع کا مطالبہ کرے، جبکہ شوہر اپنے حقوق (نفقہ، حسنِ سلوک وغیرہ) ادا کر رہا ہو اور ظلم و زیادتی کا مرتکب نہ ہو،توایسےمطالبہ کرنے والی عورت کے لیے احادیثِ مبارکہ میں سخت وعید اور مذمت بیان ہوئی ہے، جیسےکہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد کی حدیث کا مفہوم ہے کہ جو عورت بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبوبھی حرام ہے۔ایک دوسری روایت میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرعی وجہ کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو منافق قرار دیا ہے۔

بہر حال بہتر یہی ہے کہ سائل اور اس کی بیوی کے درمیان جو مسائل ہیں، جس کی بناء پر طلاق یا خلع تک نوبت پہنچ رہی ہے،ان وجوہات کو باہمی طور پر حل کرنے کی کوشش کریں، اگر میاں بیوی کےلیے ان مسائل کو حل کرنا ممکن نہ ہو، دونوں خاندانوں کے سمجھ دار، معاملہ فہم ثالث مقرر کرکے ان کے ذریعہ معاملہ کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے، ممکن ہے کہ وہ اس کی کوئی بہتر صورت نکال سکیں۔

اگرتمام کوششوں  کے باوجودنباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، اور علیحدگی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہواور باہمی نباہ ممکن نہ رہے اور حدودِ الٰہی کی پامالی کا اندیشہ ہو تو پھر تو ایسی صورت میں طلاق یا خلع دینے کی گنجائش ہے،سائل کوگناہ نہ ہوگا۔

2۔اگر خلع کا مطالبہ بیوی کی طرف سے ہو اور شوہر کا کوئی واضح قصور نہ ہو، تو شوہر کے لیے اپنے ادا کردہ حقِ مہر کی واپسی لینا شرعاً جائز ہے، البتہ مہر سے زائد لینا ناپسندیدہ ہے، اس لیے جتنا مہر دیا گیا ہو (مثلاً آٹھ لاکھ) اسی تک واپسی کا مطالبہ کرنا درست ہے۔

3۔ایسی صورت میں جب بیوی بلا عذر شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی جائے اور واپسی سے انکار کرے تو اس کا نفقہ ساقط ہو جاتا ہے، اور اگر علیحدگی ناگزیر ہو جائے تو شوہر "تسریح باحسان" کے اصول کے مطابق خوش اسلوبی سے خلع دے، بدزبانی اور اذیت سے بچے، راز داری قائم رکھے، اور باہمی طے شدہ شرائط (جیسے بدلِ خلع اور عدت کے اخراجات) کی پابندی کرے۔

حوالہ جات

قال اللہ:

"وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ  فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا  اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا."﴿النساء: 34﴾

سنن أبی داؤد :

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’أيما ‌امرأة ‌سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة‘‘."﴿باب في الخلع،  رقم: 2226، ج: 2، ص: 268، ط: المكتبة العصرية﴾

وفی المشکوة:

"عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’المنتزعات والمختلعات هن المنافقات‘‘ . رواه النسائي". (كتاب النكاح، باب الخلع و الطلاق، الفصل الثالث، رقم: 3290، ج: 2، ص: 980، ط: المكتب الإسلامي)

وفی الھندیة:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 216)

(وإن كان النشوز منها كرهنا له أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها) وفي رواية الجامع الصغير طاب الفضل أيضا لإطلاق ما تلونا بدءا. ووجه الأخرى قوله - صلى الله عليه وسلم - في امرأة ثابت بن قيس بن شماس «أما الزيادة فلا»

وفيه أیضاً:

"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه."

(کتاب الطلاق، الباب  السابع عشر، ج: 1، ص: 545،  ط: مکتبة ماجدیة کوئٹه)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/10/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب