03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ ،دوہ بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
92330میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

: میرے سسر صاحب کا انتقال 2024ء میں ہوا ہے۔ ان کی کراچی میں کل جائیداد کی مالیت 2 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔ ان کے ورثاء میں دو بیٹے، پانچ بیٹیاں اور ایک بیوہ موجود ہیں۔ شرعی لحاظ سے مذکورہ بالا 2 کروڑ 50 لاکھ روپے تقسیم کرکے ہماری رہنمائی فرمائیں۔

2: مندرجہ بالا پانچ بیٹیوں میں سے چار بیٹیوں کی شادیاں سسر صاحب نے اپنی حیات میں کروائی تھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق انہیں سامان بھی دیا تھا۔ اب چونکہ سسر صاحب حیات نہیں ہیں، لیکن ان کی ایک غیر شادی شدہ بیٹی گھر میں موجود ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ 2 کروڑ 50 لاکھ روپے میں سے اس بیٹی کی شادی کے لیے رقم الگ کی جا سکتی ہے؟ کیونکہ دیگر چار بہنوں کی شادی پر سسر صاحب نے خرچہ کیا تھا۔

3: جو بیوہ اس وقت موجود ہے، وہ سسر صاحب کی دوسری بیوی ہے۔ پہلی بیوی سے مذکورہ بالا دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ جس پلاٹ پر آبادی موجود ہے، وہ پلاٹ سسر صاحب کی پہلی مرحومہ بیوی کی ملکیت تھا۔ سسر صاحب نے اپنی سابقہ بیوی کے پلاٹ پر پانچ منزلہ عمارت تعمیر کی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ عمارت میں دوسری بیوی کا بھی حصہ ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ سسر صاحب نے دوسری شادی کے وقت اپنی دوسری بیوی کو دو کمرے مہر میں بھی دیے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۔مرحوم سسر کے ترکہ میں سے سب سے پہلےان کی  تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ( اگر  کسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ اس کے بعد مرحوم کاقرضہ(اگر ہو) ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (3/1) تک اسے نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ باقی بچے ، اسے مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء، یعنی ایک بیوہ،دو بیٹے اورپانچ بیٹیوں میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

صورتِ مسئولہ میں تمام قابلِ تقسیم ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے:

بیوہ کو 9 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 12.5% ہیں۔ اگر کل ترکہ دو کروڑ پچاس لاکھ روپے (2,50,00,000روپے) ہو تو بیوہ کو000, 31,25روپے ملیں گے۔ہر ایک بیٹے کو 14 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 19.4444%بنتے ہیں۔ ایک بیٹے کا حصہ 48,61,111.1111 روپے بنتا ہے ۔ ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 9.7222%بنتے ہیں۔ ایک بیٹی کا حصہ 24,30,555.5556 روپے بنتا ہے۔

مورثِ اعلیٰ کا چارٹ — کل ترکہ: 72عددی حصے

نمبر شمار

ورثاء8

عددی حصے  72

فیصدی حصے 100 

رقم 2,50,00,000روپے

1

بیوہ

9

%12.5

31,25,000,

2

بیٹا

14

19.4444%

48,61,111.1111

3

بیٹا

14

19.4444%

48,61,111.1111

4

بیٹی

7

9.7222%

24,30,555.5556

5

بیٹی

7

9.7222%

24,30,555.5556

6

بیٹی

7

9.7222%

24,30,555.5556

7

بیٹی

7

9.7222%

24,30,555.5556

8

بیٹی

7

9.7222%

24,30,555.5556

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

2۔ زندگی میں دیا گیا تحفہ میراث میں شمار نہیں ہوتا۔ لہٰذا بیٹیوں کی شادی پر جو اخراجات کیے گئے ہیں، وہ ان کے لیے تحفہ اور ہدیہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا میراث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا غیر شادی شدہ بیٹی بھی صرف اپنے شرعی حصے کی میراث کی مستحق ہوگی۔ البتہ اگر دیگر تمام ورثاء اپنی رضامندی اور خوشی سے اسے اپنے حصوں میں سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

3: جہاں تک پلاٹ کی زمین کا تعلق ہے تو چونکہ پلاٹ کی زمین سسر کی پہلی بیوی کی ملکیت تھی، اس لیے ان کی وفات کے وقت یہ زمین ان کے زندہ ورثاء، یعنی ان کے دو بیٹوں، تین بیٹیوں اور شوہر، یعنی سسر، اور اگر کوئی دوسرے شرعی وارث ہوں، ان کا حق ہے۔ البتہ جب سسر کا انتقال ہوا تو پلاٹ کی زمین میں ان کا جتنا حصہ تھا، اس میں سے دوسری بیوہ کو بھی حصہ ملے گا۔

رہی بلڈنگ کی بات تو چونکہ وہ سسر نے تعمیر کروائی تھی، اس لیے وہ ان کی ملکیت ہے۔ اس میں سے جو دو کمرے بطورِ مہر دوسری بیوی کو دیے گئے تھے، وہ دوسری بیوی کی ذاتی ملکیت ہیں، اس کی وجہ سے مکان میں سے اس کے حصے پر اثر نہیں پڑے گا۔ اب دیکھا جائے گا کہ اگر دوسری بیوی کا میراث میں حصہ اس زمین میں آ رہا ہو جو انہیں اپنے شوہر سے وراثت میں ملے گی تو ٹھیک ہے، ورنہ اگر وہ کسی دوسرے وارث کے حصے کی زمین میں آ رہا ہو تو پھر ان کے حصے کی قیمت انہیں دی جائے گی۔ جو دو کمرے انہیں مہر میں دیے گئے تھے، ان کے بارے میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 613):

وإن أقر المريض لوارثه) بمفرده أو مع أجنبي بعين أو دين (بطل) خلافا للشافعي - رضي الله تعالى عنه -: ولنا حديث «لا وصية لوارث ولا إقرار له بدين» (إلا أن يصدقه) بقية الورثة فلو لم يكن وارث آخر أو أوصى لزوجته أو هي له صحت الوصية وأما غيرهما فيرث الكل فرضا وردا فلا يحتاج لوصية شرنبلالية وفي شرحه للوهبانية أقر بوقف، ولا وارث له فلو على جهة عامة صح بتصديق السلطان أو نائبه وكذا لو وقف خلافا لما زعمه الطرسوسي فليحفظ

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 759):

«(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)»

اسداللہ بن قوت خان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  17/ ربیع الثانی /8144

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب