03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین کی سخت مزاجی کی وجہ سے ان کو چھوڑکر گھر علیحدہ کرنا
92469جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

والدین کی سخت مزاجی کی وجہ سے ان کو چھوڑکر گھر علیحدہ کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  والدین کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے کافی عرصے سے ذہنی اور قلبی اذیت کا سامنا ہے۔ میری والدہ بہت سخت مزاج ہیں اور اکثر مجھ سے سخت لہجے میں بات کرتی ہیں، میری غلطیاں تلاش کرتی رہتی ہیں اور بعض معمولی کاموں سے انکار پر بھی بہت زیادہ غصہ کرتی ہے۔ میرے والد بھی میرے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور کبھی کبھار گالیاں بھی دیتے ہیں جس کی وجہ سے میرا گھر والوں سے بات کرنے کو بھی دل نہیں کرتا۔توکیااس وجہ سے اپنے لیے گھر لے کر ان کو چھوڑ کر جا سکتاہوں  یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدین اگرچہ طبعاً سخت مزاج ہوں، ان کا رویہ تکلیف دہ ہو، ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوں، تب بھی اولاد پر ان کا ادب و احترام لازم ہے۔ والدین کی سختی اور تلخ کلامی پر خندہ پیشانی سے صبر کرنا کوئی معمولی عمل نہیں، بلکہ  انسان کے لیے دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔

محض ان کی سخت مزاجی یا ڈانٹ ڈپٹ سے دل برداشتہ ہو کر انہیں تنہا چھوڑ دینا شرعاً و اخلاقاً کسی طور مناسب نہیں۔ آپ کا یوں الگ ہو جانا ان کے دلوں کے لیے شدید رنج و تکلیف اور ناراضگی کا باعث بنے گا، اور والدین کی ناراضگی سے  انسان   دنیا و آخرت میں فلاح نہیں پا سکتا،بلکہ یہ سراسر گھاٹے اور خسارے کا سودا ہے۔ لہٰذا آپ ان کی سختی کو برداشت کریں، ان سے نہ الجھیں اور اپنی خدمت اور نرم رویے سے ان کی دعائیں لینے کی کوشش کریں۔

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة(14/ 152 ):

عن سعد بن مسعود عن ابن عباس قال: ما من مسلم له أبوان فيصبح وهو محسن إليهما إلا فتح الله له بابين من الجنة، ولا يمسي وهو مسيء إليهما إلا فتح الله له بابين من النار، ولا سخط عليه واحد منهما فيرضى الله عنه حتى يرضى عنه، قال: (قلت): وإن كانا ظالمين؟ (قال: وإن كانا ظالمين).

 صحيح البخاري (5/ 2229):

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ألا أنبئكم بأكبر الكبائر). قلنا: بلى يا رسول الله، قال: (الإشراك بالله، وعقوق الوالدين.

تفسير الطبري (14/ 545):

وقوله: {فلا تقل لهما أف}. يقول: فلا تأفف من شيء تراه من أحدهما أو منهما مما يتأذى به الناس، ولكن اصبر على ذلك منهما، واحتسب الأجر في صبرك عليه منهما، كما صبرا عليك في صغرك.وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل...عن عطاء بن أبى رباح في قوله: {فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما}. قال: لا تنفض يدك على والديك.

الأدب المفرد للإمام البخاري (ص17):

قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَتَفْرَقُ النَّارَ، وَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ، قَالَ: أَحَيٌّ وَالِدُكَ؟ قُلْتُ: عِنْدِي أُمِّي، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلَامَ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَا اجْتَنَبْتَ الْكَبَائِرَ.

عزیزالرحمن

دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

24/ربیع الثانی1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب