03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میزان بینک اور دبئی اسلامک بینک کے سیونگ اکاؤنٹس میں سرمایہ پر نفع کاحکم
92466جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میزان بینک اور دبئی اسلامک بینک کے سیونگ  اکاؤنٹس میں سرمایہ پر نفع کاحکم

میری والدہ نے دبئی اسلامک بینک کے  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھی ہوئی ہے اور میرے والد نے میزان بینک میں رقم رکھی ہوئی ہے، جس پر وہ ہر ماہ نفع حاصل کرتے ہیں۔ میں نے اپنے والدین کی طرف سے ایف بی آر میں ان کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس وغیرہ کی تفصیلات درج کرکے انہیں فائلر بنوایا تھا۔مجھے معلوم ہے کہ سیونگ اکاؤنٹ کا سودی نفع شرعاً ناجائز ہے۔ فائلر بننے کے بعد بینک کے نفع پر حکومت کی طرف سے ٹیکس کی شرح کم ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے میرے والدین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم حاصل ہوتی ہے۔ میں نے اپنے والدین کا جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء تک کا ٹیکس گوشوارہ بھی جمع کروایا ہے۔

میرا آپ سے سوال یہ ہیں کہ:

1۔ اگر والدین سودی  بینک کے  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر نفع حاصل کرتے ہوں اور بیٹے نے ان کے کہنے پر ایف بی آر میں ان کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس وغیرہ کی تفصیلات درج کرکے انہیں فائلر بنایا، پھر ان کی طرف سے ٹیکس گوشوارہ بھی جمع کیا، جبکہ اسے معلوم تھا کہ فائلر بننے کے بعد سودی نفع پر ٹیکس کم ہونے کی وجہ سے انہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم حاصل ہوگی، تو کیا بیٹے کا والدین کے لیے یہ کام کرنا شرعاً ناجائز تھا؟ اگر ناجائز تھا تو اس پر توبہ کا کیا طریقہ ہے؟

2۔ اگر والدین آئندہ بھی اپنے سودی سیونگ اکاؤنٹس سے متعلق ٹیکس گوشوارہ جمع کروانے کے لیے بیٹے کو کہیں اور بیٹے کو غالب گمان ہو کہ انکار کرنے کی صورت میں والدین اس سے سخت رویہ اختیار کریں گے، تو کیا بیٹے کے لیے والدین کے حکم پر ٹیکس گوشوارہ جمع کرنا جائز ہوگا، یا اسے انکار کرنا لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہرسیونگ اکاونٹ میں  سرمایہ پر نفع سودی نہیں ہوتا  بلکہ   غیر سودی بینکوں کے سیونگ اکاونٹ مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں ،جس سے ملنے والانفع سودی نہیں بلکہ جائز اور حلال ہوتاہے ،لہذااگر آپ کی والدہ نے دبئی اسلامک بینک میں اور والد نے میزان بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رقم رکھوائی   ہے اور  اس پر انہیں نفع ملتاہے تو وہ سودی نہیں،بلکہ جائزاور حلال ہے۔

1۔سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ میں سرمایہ پر ملنے والانفع سودی ہوتاہے ،لیکن آپ کے والد اور والدہ  نے میزان اور دبئی اسلامک بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رقم رکھوائی ہے جو غیرسودی ہیں  اور اس کانفع حلال ہے  ،لہذاآپ کاانہیں  فائلر بنانا،نیز  میزان بینک اور دبئی اسلامک بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رقم رکھوانادرست اور جائز ہے ،اس پر آپ کوکوئی گناہ نہیں ۔

2۔اگر آئندہ والدین میزان یادبئی اسلامک بینک یااس کے علاوہ غیرسودی بینکوں کے  سیونگ اکاؤنٹس سے متعلق ٹیکس گوشوارہ جمع کروانے کوکہیں  تو آپ کو   جمع کرواناچاہیے ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (5/ 645):

عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200):

قال: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر.

بحوث في قضايافقهية معاصرة(347/01):

 أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإنَّ ما أُودع في حساباتها الجارية فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض ولكن يختلف تكييف الودائع الثَّابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية عن تكييفها في البنوك التَّقليدية، فإنَّ هذه الودائع قروض أيضاً في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربويَّة، بل إنّما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضاً وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحقُ حِصَّة مشاعة من ربح البنك، وتتحمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التَّعدي.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

25/ربیع الثانی   /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب