| 92630 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک عورت کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ اس کا شوہر حیات ہے۔ مرحومہ کا مہر چار تولہ سونا مقرر ہوا تھا، جس میں سے شوہر نے تین تولہ سونا ادا کر دیا ہے، جبکہ ایک تولہ سونا اب بھی شوہر کے ذمے باقی ہے۔
مرحومہ کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے، ایک نابالغ بیٹا تھا جو کچھ عرصہ قبل فوت ہو چکا ہے۔ اور مرحومہ کے والدین بھی پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ اب دیگر ورثاء میں صرف ان کے شوہر، ایک بھائی اور ایک بہن موجود ہیں۔اب مطلوب امر یہ ہے کہ:
اگر مہر مکمل چار تولہ سونا تھا (جس میں سے تین تولہ ادا کر دیا گیا اور ایک تولہ شوہر کے ذمے باقی ہے)، تو اس چار تولہ سونے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟
نوٹ: سائل سے تنقیح کروانے کے بعد معلوم ہوا کہ میت کا نابالغ بیٹا اپنی والدہ کے انتقال کے بعد فوت ہو چکا ہے۔ اب سائل یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہے کہ اس مرحوم بیٹے کا حصہ کس طرح تقسیم ہوگا، جبکہ اس کے ورثا میں والد، ماموں اور خالہ موجود ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔والدہ کی میراث کی تقسیم
میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال جائیداد مکان، دکان، پلاٹ، نقد رقم، سونا، چاندی، زیورات، کپڑے، برتن، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہو اور مرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ ہوتا ہے۔
مرحومہ کی تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگر کسی اور نے بطور احسان نہیں کیا ہو) شوہر پر لازم ہے ۔ اس کے بعد ترکہ سے مرحومہ کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہو توترکہ کےایک تہائی(۳/۱) تک اس کواداکیاجائےگا ،اس کےبعدجومال بچ جائے،اس کومرحومہ کےانتقال کےوقت موجودورثاء میں تقسیم کیاجائےگا۔اسی طرح یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بیٹے کی موجودگی میں مرحومہ کے بھائی اور بہن وراثت سے مکمل طور پر محروم ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی بہن کی میراث سے کچھ نہیں ملے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کے ذمے باقی ماندہ ایک تولہ سونا مرحومہ کا شرعی قرض تھا، جو شوہر پر واجب الادا تھا۔ مرحومہ کی وفات کے ساتھ ہی یہ ایک تولہ سونا ان کے ترکے کا حصہ بن کر تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت میں شامل ہو جاےگا۔
اس کے بعد اگر مکمل ترکہ چار تولہ سونا ہو، تو اسے موجودہ ورثاء کے درمیان درج ذیل نقشہ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
مقدار |
|
1 |
شوہر |
1 |
25% |
1تولہ |
|
2 |
بیٹا |
3 |
75% |
3تولہ |
|
|
|
کل4= |
کل100= |
|
2۔بیٹے کی میراث کی تقسیم
والد کی موجودگی میں مرحوم کے ماموں اور خالہ وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں؛ اس لیے والد بطورِ عصبہ اپنے بیٹے کے کل ترکے (یعنی پورے تین تولہ سونے) کا تنہا مالک بن جائے گا۔ اور مجموعی طور پر والد کو ایک تولہ سونا اپنی بیوی کی وراثت سے مل جائے گا اور تین تولہ سونا بیٹے کی وراثت سے مل جائے گا؛ اسی طرح یوں کل چار تولہ سونا شرعاً والد کی ملکیت میں آ جائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 451):
"فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا،"
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 566):
"قال رحمه الله (وحجبن بالابن وابنه، وإن سفل وبالأب وبالجد) أي الأخوات كلهن يحجبن بهؤلاء المذكورين وهم الابن وابن الابن، وإن سفل"
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص764):
"ويسقط بنو الاعيان) وهم الاخوة والاخوات لاب وأم بثلاثة (بالابن) وابنه وإن سفل (وبالاب) اتفاقا"
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 581):
"ولا ميراث لأحد من ذوي الأرحام مع العصبة"
صادق محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
08 /جمادی الاولیٰ /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صادق محمد بن زرفروش | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


