03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نذرشوہر کی اجازت نہ دینے کی صورت میں نذر کے روزوں کا حکم
92699روزے کا بیاننذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان

سوال

ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک ماہ کے روزے رکھوں گی۔ اب وہ کام ہو گیا ہے اور وہ روزے رکھنا چاہتی ہے، لیکن شوہر اجازت نہیں دے رہا۔ تو کیا وہ روزوں کے بجائے فدیہ دے سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں شرط پوری ہونے کے بعد نذر کے روزے عورت کے ذمے لازم ہوگئے ہیں، لہٰذا ان روزوں کو ادا کرنا ضروری ہے۔ صرف شوہر کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے روزوں کے بجائے فدیہ دینا جائز نہیں، بلکہ روزے اس کے ذمے باقی رہیں گے اور موقع ملنے پر انہیں ادا کرنا لازم ہوگا۔

البتہ اگر عورت مستقل بڑھاپے یا ایسی دائمی بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہوجائے جس میں آئندہ بھی روزہ رکھنے کی قدرت حاصل ہونے کی امید نہ ہو تو ایسی صورت میں روزوں کے بدلے فدیہ دینے کی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(3/ 741):

(نذر صوم شهر معين لزمه متتابعا لكن إن أفطر) فيه (يوما قضاه) وحده وإن قال متتابعا (بلا لزوم استقبال) لأنه معين ولو نذر صوم الأبد فأكل لعذر فدى.

البناية شرح الهداية(4/ 84):

ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء، لأن شرط الخلفية استمرار العجز... يعني لو قدر الشيخ الفاني م: على الصوم) ش: بعدما أدى الفدية م: (يبطل حكم الفداء) ش: ويجب عليه القضاء كالآيسة إذا اعتدت بالأشهر ثم حاضت بطل حكم اعتدادها بالشهور م: (لأن شرط الخلفية استمرار العجز) ش: أي لأن شرط كون الفدية خلفاً عن الصوم في حق الشيخ الفاني، دوام العجز، فلما قدر على الصوم انتفى شرط الخليفة، ومثل هذا لا يفعل في التيمم لئلا يلزم الحرج بتضاعف الصلاة.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(5/ 91):

ثم الوفاء بالمنذور به نفسه حقيقة، إنما يجب عند الإمكان، فأما عند التعذر فإنما يجب الوفاء به تقديرا بخلفه؛ لأن الخلف يقوم مقام الأصل، كأنه هو، كالتراب حال عدم الماء، والأشهر حال عدم الإقراء، حتى لو نذر الشيخ الفاني بالصوم، يصح نذره، وتلزمه الفدية؛ لأنه عاجز عن الوفاء بالصوم حقيقة فيلزمه الوفاء به تقديرا بخلفه، ويصير كأنه صام.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

09/جمادی الاولی/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب