| 92675 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں : میرے بیٹے عادل غفار والد غفار احمد کمبو کو کچھ رشتہ دار بہکا اور ورغلاکر کراچی لے گئےتھے، ایک ماہ گم رہا پھر میں بیٹے کو تلاش کرنے کراچی رشتہ دار کے پاس خالہ اور خالو کےگھرگیامیرے بیٹے کے خالہ اور خالو نے کہا ہمارے پاس نہیں ہے، حالانکہ حقیقتا ان ہی کے پاس موجود تھا، ایک ماہ بعد میرے بیٹے کا بدین میں ا ٓکر نکاح کر دیا ،نکاح میں والد اور والدہ موجود نہیں تھے اور نہ ہی کوئی اطلاع دی گئی ، میرے بیٹے کو گھر والوں سے چھپا کر نکاح کرایا گیا اور نکاح 30 لاکھ حق مہر رکھا گیا ہے،نیز بعد طلاق یا تنازعہ کی صورت ایک کروڑ حق مہر مقرر کیا گیا ہے اور غیر شرعی شرائط بھی لگائی گئی ہیں اب مذکورہ صورت میں کیا واقعی 30 لاکھ یا ایک کروڑ مہر درست ہے یا نہیں احادیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیے۔ جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حدیث مبارکہ میں بہترین مہر اس کو قرار دیا گیا ہے جس کی ادائیگی آسان ہو۔ تاہم ایجاب و قبول کے وقت فریقین کی رضامندی سے متعین کیا گیا مہر اگر چہ زیادہ کیوں نہ ہو شوہر پر لازم ہوتا ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعتا عقد نکاح میں ایجاب و قبول کے وقت مہر کی مقدار 30 لاکھ متعین کی گئی ہے اور فریقین اس پر راضی ہیں تو متعینہ مقدار ادا کرنا لازم ہوگا ۔اسی طرح بعد طلاق یا تنازعہ کی صورت میں اگر ایک کروڑ واضح طور پر مہر کا ایسا حصہ ہے جو طلاق تک مؤخر الادا ہے تو اس کا حکم بھی مہر کا ہوگا جو طلاق دینے پر واجب الادا ہوگا۔ تاہم اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ رقم میرے بیٹے پر دھوکے یا دباؤ کے ذریعہ لازم کی گئی ہے تو اس کے لیے آپ قانونی کاروائی کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
«سنن الترمذي» (2/ 585):
حدثنا ابن أبي عمر، قال: حدثنا سفيان بن عيينة، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن أبي العجفاء، قال:قال عمر بن الخطاب: ألا لا تغالوا صدقة النساء، فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا، أو تقوى عند الله، كان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم، ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه، ولا أنكح شيئا من بناته، على أكثر من ثنتي عشرة أوقية..هذا حديث حسن صحيح.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 290):
وتجوز الزيادة في المهر إذا تراضيا بها والحط عنه إذا رضيت به؛ لقوله تعالى: {ولا جناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضة} [النساء: 24] رفع الجناح فيما تراضيا به الزوجان بعد الفريضة وهو التسمية، وذلك هو الزيادة في المهر والحط عنه...
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 312):
الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق..
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10/ جمادی الاولی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


