03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی واپسی کا حکم
92739خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام! اس مسئلے کے بارے میں کہ ہندہ کی ساس نے اپنے گھر کی تعمیر کے سلسلے میں ، اپنی بہو  ہندہ سے دو تولہ سونے کی چوڑیاں لیں اور وعدہ کیا کہ بعد میں آپ کو بنوا کر دے دوں گی، لیکن واپس کرنے سے پہلے ہی ہندہ کی ساس کا انتقال ہو گیا۔ ساس کے انتقال کے بعد ان کی اولاد کے بعض افراد نے وقتاً فوقتاً اپنی بھابھی ہندہ سے ان سونے کی چوڑیوں کی واپسی کے بارے میں پوچھا، تو ہندہ نے کبھی خاموشی اختیار کی اور کبھی یہ کہا کہ یہ میرا اور میری ساس کا معاملہ ہے، میں نے نہیں لینا۔ اب جبکہ ہندہ کی ساس کو فوت ہوئے ایک سال گزر چکا ہے اور گھر فروخت کرکے مرحومہ کی اولاد کے درمیان رقم تقسیم کرنے کا وقت آیا ہے، تو ہندہ نے اپنی دو تولہ سونے کی چوڑیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ مرحومہ کے ذمے دیگر قرضے بہت پہلے ادا کیے جا چکے ہیں۔ ہندہ کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے اس لیے واپسی کا مطالبہ نہیں کیا کہ میں نے سوچا تھا کہ اگر گھر، جو مرحومہ کی اولاد کی مشترکہ رہائش گاہ ہے، فروخت ہوگا تو مطالبہ کروں گی، ورنہ نہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھ سے اس معاملے کے بارے میں صحیح انداز میں، یعنی صرف اس ادائیگی کو موضوعِ بحث بنا کر، گفتگو نہیں کی گئی۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں درج ذیل امور کے بارے میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:

 1۔ کیا اب ہندہ کا اپنی دو تولہ سونے کی چوڑیوں کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست ہے؟

 2۔ اگر ہندہ کا مطالبہ درست ہے، تو کیا اسے دو تولہ سونا واپس کیا جائے گا یا کسی اور طریقے سے ادائیگی کی جا سکتی ہے؟ کیا ہندہ کو دو تولہ سونے کی چوڑیاں بنوا کر دینا ضروری ہے، یا ان کی جگہ دو تولہ سونے کی قیمت ادا کرنا بھی جائز ہے، جبکہ ہندہ کا مطالبہ سونے کی چوڑیاں واپس لینے ہی کا ہے؟

3۔ اگر مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض باقی ہو، تو شرعی طور پر اس قرض کی ادائیگی کس مال سے کی جائے گی؟ کیا مرحومہ کی چھوڑی ہوئی جائیداد، مثلاً گھر فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم، میں سے قرض ادا کرنا ضروری ہے، یا مرحومہ نے اپنی زندگی میں جو رقم جمع کرکے چھوڑی ہو، اس میں سے بھی قرض ادا کیا جا سکتا ہے؟ نیز کیا مرحومہ کی اولاد اپنے ذاتی مال سے قرض ادا کرنے کی پابند ہے، یا قرض کی ادائیگی مرحومہ کے ترکے سے کی جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں :

1۔ شریعت میں دین یعنی قرض سے بری الذمہ ہونے کے لیے یا تو اس کی ادائیگی ضروری ہے یا پھر دائن (قرض دینے والے)  کا صریح الفاظ کے ساتھ معاف کر دینا  ۔محض خاموش رہنا، یا حالات و خاندانی مصلحت کے پیشِ نظر مطالبہ مؤخر رکھنا، یا یہ کہنا کہ "یہ میرا اور میری ساس کا معاملہ ہے" شرعاً اسقاطِ حق یا ابراء نہیں کہلاتا۔ چونکہ ہندہ نے اپنا حق صراحتاً معاف نہیں کیا تھا، لہٰذا اس کا قائم شدہ دین (قرض ) بدستور باقی ہے اورہندہ کا اپنی دو تولہ چوڑیوں کی واپسی کا مطالبہ  جائز اور درست ہے۔

2 ۔ چونکہ قرض میں جنس کی یکسانیت واجب ہوتی ہے ، اس لیے ورثاء کو ترکے سے دو تولہ سونا  یا اسی وزن کی چوڑیاں ہی فراہم کرنا ہوں گی۔ ہندہ کی رضامندی کے بغیر ورثاء   یک طرفہ طور پر اسے صرف قیمت قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ البتہ باہمی رضامندی سے اگر قیمت کی ادائیگی  کی جائے تو موجودہ ریٹ کے مطابق قیمت کی ادا ئیگی بھی جائز ہے ۔

3۔مرحومہ کا قرض ان کی چھوڑی ہوئی تمام جائیداد  و کل ترکہ پر متعلق ہوتا ہے۔ خواہ وہ ان کی زندگی کی جمع شدہ نقد رقم ہو یا ان کا فروخت شدہ گھر ہو، دونوں میں سے کسی بھی مال سے قرض ادا کیا جا سکتا ہے، کیونکہ تمام متروکہ اموال مل کر ہی میت کا ترکہ بنتے ہیں۔شرعاً میت کا قرض خود میت کے ترکے ہی سے ادا کیا جاتا ہے، اولاد پر اپنے ذاتی مال سے والدہ کا قرض ادا کرنا واجب نہیں ہے۔

حوالہ جات

«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 129):

«1 - إذا أبرأ الدائن المدين إبراء إسقاط بعد أن أوفاه المدين إياه فالإبراء صحيح ويحق للمدين استرداد المبلغ الذي دفعه للدائن أما إذا أبرأه إبراء استيفاء فلا يحق له استرداد ما دفعه؛ لأن إبراء الاستيفاء عبارة عن إقرار بقبض الحق واستيفائه (أشباه رد المحتار) .»

«العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (6/ 397):

«ولنا أن الإبراء إسقاط لا تمليك لأنه لا يصح تمليك العين بهذه اللفظة ويصح الإبراء بأسقطت عنك ديني، ولأنه يتم بلا قبول والتمليك لا يتم بدونه، والإسقاط لا تفضي الجهالة فيه إلى المنازعة لأن الجهالة إنما أبطلت التمليكات لفوات التسليم الواجب بالعقد وهو لا يتصور في الإسقاط فلا يكون مبطلا له،»

«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (2/ 82):

«القرض هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لرد مثله وصح في مثلي لا في غيره فصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض ولحم استقرض طعاما بالعراق فأخذه صاحب القرض بمكة فعليه قيمته بالعراق يوم اقترضه عند أبي يوسف وعند محمد يوم اختصما وليس عليه أن يرجع إلى العراق فيأخذ طعامه.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 177):

«وإن كان على الميت دين إن كان محيطا بالتركة أجمعوا أنه يبيع كل التركة وإن لم يكن مستغرقا يبيع بقدر الدين وفيما زاد على الدين يبيع عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أيضا وعندهما لا يبيع وإن لم يكن في التركة دين لكن الميت أوصى بوصايا إن كانت الوصية بالثلث أو دونه أنفذها وإن كانت أكثر من الثلث أنفذ بقدر الثلث وما بقي للورثة.»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

10/جمادی الاولی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب