| 92740 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
گزارش ہے کہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (CA) ہوں اور گزشتہ 10 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہوں۔ گزشتہ سال میری ملازمت ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد اپریل میں مجھے ایک عارضی ملازمت ملی، جو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے تھی، تاہم بعد میں اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی گئی اور اب یہ ملازمت دسمبر تک ہے۔ اس کے بعد اس ملازمت کے جاری رہنے کے بارے میں فی الحال کچھ معلوم نہیں۔ اسی دوران مجھے المثل فنانس کمپنی کی جانب سےآپریشنل رسک مینیجر کے عہدے کی ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے۔ چونکہ میرا ایک دوست اسی کمپنی کےفائنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا ہے، اس لیے میں نے کمپنی کے کاروباری طریقۂ کار اور شرعی معاملات کے حوالے سے اس سے مزید معلومات حاصل کیں۔ اس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ،کمپنی کا 90 فیصد سے زائد کاروبار تورق پر مبنی ہے ،کمپنی میں باقاعدہ شرعی کمیٹی موجود ہے جو کمپنی کے تمام مالیاتی پروڈکٹس کی منظوری دیتی ہے، اور کمپنی کا شرعی آڈٹ بھی باقاعدگی سے ہوتا ہے ، کمپنی سعودی سینٹرل بینک (SAMA) اور AAOIFI کے متعلقہ ضوابط کے تحت کام کرتی ہے ، ہر ٹرانزیکشن کے لیے شرعی تقاضوں کی تکمیل اور مکمل آڈٹ ٹریل موجود ہے، مثلاً: حقیقی اشیاء/کموڈٹیز کی خرید و فروخت کی تصدیق ، ہر گاہک کے لیے الگ کموڈٹی کی تخصیص ، ملکیت کی منتقلی کا ریکارڈ ، بروکر کی جانب سے تصدیق ، مکمل آڈٹ ٹریل اور پروسیس فلو۔ ان تمام تفصیلات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لیے مذکورہ کمپنی میں بطورآپریشنل رسک مینیجر ملازمت کرنا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کمپنی تورق کی یہ صورت اختیار کرتی ہے کہ وہ بازار سے کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں اپنا نفع رکھ کر گاہک کو آگے ادھار پر فروخت کرے، اور گاہک اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد کمپنی کو شامل کیے بغیر بازار میں کسی تیسرے فریق کو نقد فروخت کر دے، یا کسی آزاد اور غیر جانبدار بروکر کو اپنا وکیل بنا کر آگے بیچ دے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔ لیکن اگر کمپنی گاہک کو ادھار سامان فروخت کرنے کے بعد خود ہی اس کی طرف سے وکیل بن کر وہی سامان آگے بازار میں بیچتی ہو اور حاصل شدہ رقم گاہک کو منتقل کرتی ہو، تو یہ صورت شدید کراہت سے خالی نہیں ۔ جہاں تک اس کمپنی میں بطور آپریشنل رسک مینیجرملازمت کا تعلق ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری ادارے کے عملی و انتظامی خطرات، پروسیسنگ اور آئی ٹی سسٹمز کی خامیوں، اور اندرونی کنٹرول کے نقائص کی نگرانی و اصلاح ہے، جو کہ فی نفسہٖ ایک مباح اور جائز انتظامی عمل ہے، تو اس کا شرعی حکم یہ ہےکہ اگر کمپنی کا غالب کاروبار پہلی (جائز) صورت پر مبنی ہو، تو اس عہدے پر ملازمت کرنا بلاشبہہ جائز اور حلال ہے۔اگر کمپنی کا غالب کاروبار دوسری (شدیدمکروہ) صورت پر مبنی ہو، تو چونکہ اس عہدے کا تعلق براہِ راست فاسد عقود لکھنے یا ان پر دستخط وگواہی دینے سے نہیں بلکہ عمومی سسٹمز اور انتظامی امور کی دیکھ بھال سے ہے، اس لیے ایسی ملازمت کو مکمل ناجائز تو نہیں کہا جائے گا، تاہم شریعت کے خلاف معاملات پر مشتمل ادارے کا حصہ بننے کی وجہ سے ایسی ملازمت شرعاً مکروہ و ناپسندیدہ ہوگی۔
حوالہ جات
«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 243):
«وفي الأصل في آخر باب العيب شرى ما باع بأقل مما باع من الذي اشتراه أو من وارثه قبل نقد الثمن لنفسه أو لغيره بالوكالة والمبيع بحاله لم يزد ولم ينقص بعيب والثمن الثاني من جنس الثمن الأول أو كان هو باع بألف نسيئة سنة ثم اشتراه نسيئة سنتين فهو فاسد فلو باع بالدراهم فاشترى بالدنانير لم يجز استحسانا وإذا انتقل إلى آخر ببيع أو هبة فاشتراه من ذلك الرجل بأقل جاز ولو اشترى بأكثر من الثمن الأول قبل نقد الثمن أو بعده جاز. اهـ. خلاصة من الفصل الرابع في البيع الفاسد.»
«العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (6/ 476):
«ولعل تحقيق ذلك ما ذكر في أصول الفقه أن القبح إذا كان لأمر مجاور كان مكروها، وإذا كان بوصف متصل كان فاسدا وقد قررناه في التقرير (ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النجش) بفتحتين (وهو أن يزيد الرجل في الثمن ولا يريد الشراء ليرغب غيره)»
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (2/67-46):
التورق فی اصطلاح الفقهاء: أن یشتری المرء سلعة نسیئة، ثم یبیعها نقدًا لغیر البائع بأقل مما اشتراها به؛ لیحصل علی النقد………….. و حاصل ما ذکر نا أن التورق عملیة جائزة فی نفسها، و غاية ما فی الباب -کما قال ابن الهمام ؒ - أنه خلاف الأولی إن کان البائع یعلم أن المشتری محتاج إلی نقود لأغراضه الشخصية، ولا یشتری السلعة بثمن غال إلا بسبب حاجته إلیها، فلو کان فی مکنة البائع أن یقرضه النقود التی یحتاج إلیها فلا شك أنه الأفضل والأکثر أجرا، فترک الإقراض فی هذه الحالة واللجوء إلي بيع السلعة بثمن أکثر خلاف الأفضل........ …و کذلك إن کان البائع یعرف أن المشتری المتورق یحتاج إلی سیولة نقدیة لأغراضه التجاریة، و مقصوده الحصول علی التمویل؛ فالأفضل للبائع أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة لکونهما طریقین مفضلین للتمویل، فالعدول عنهما إلی التورق خلاف الأولی کلما کان الطریق المفضل میسرًا، و لکن لا سبیل إلی القول بأنه یجب علیه أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة و لا یدخل فی التورق.
ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء انما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین: إحداهما شراء السلعة بالأجل، و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا. و التورق الذی تصوره الفقهاء و حکموا بجوازه هو أن السلعة موجودة عند البائع مملوکة له ملکًا حقیقیًا، ثم تنتقل ملکیتها إلی المشتری بحکم البیع الحقیقی الذی تتبعه جمیع أحکام البیع. و لکن إذا اقترنت بهذه العملیة ملابسات أخری، فلا یبعد أن یتغیر الحکم، إما إلی عدم الجواز بتاتًا، أو إلی الکراهة، أو إلی ازدیاد بعدها عن العملیات المفضلة. ………… فإن اشتری المتورق البضاعة نیابة عن المصرف، ثم اشتراه لنفسه بدون أن یرجع إلی المصرف و ینشئ معه البیع بعقد مستقل، فإن هذه العملیة لا تجوز أصلا؛ لأن الوکیل لا یتولی طرفی البیع، و لأنه یجب الفصل بین الضمانین فی البضاعة. و أما إذا رجع الوکیل المتورق إلی المصرف بعد شراء البضاعة، ثم عقد معه البیع بإیجاب و قبول، فالعقد لیس باطلًا، ولکنه لا یخلو من کراهة؛ لأنه یقرب العقد إلی الصوریة……….. و هناك صورة أخری للتوکیل، و هی أن المشتری المتورق بعد شراء البضاعة من البائع یوکل نفس البائع بأن یبیع البضاعة فی السوق نیابة عن المتورق…… و إن هذا التوکیل إن کان مشروطًا فی البیع الأول، بأن زیدًا اشتری البضاعة من المصرف بشرط أن یقوم ببیعها فی السوق، فإن هذا البیع فاسد؛ لأنه بیع بشرط التوکیل، و مثل ذلك العقد المشروط فاسد عند جمهور الفقهاء. أما إذا کان عقد البیع خالیا من هذا الشرط ثم وکل زید المصرف بعقد مستقل فلیس العقد فاسدا، و لکنه لا یخلو من کراهة…… الخ .
المعاییر الشرعیة (767)::
.2تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة:التورق: شراء سلعة بثمن آجل مساومة أو مرابحة ثم بیعها إلی غیر من اشتریت منه للحصول علی النقد بثمن حال. أما العینة: فهی شراء سلعة بثمن آجل و بیعها إلی من اشتریت منه بثمن حال أقل.
.4ضوابط صحة عملیة التورق:
4/5 وجوب أن یکون بیع السلعة (محل التورق) إلی غیر البائع الذی اشتریت منه بالأجل (طرف ثالث)؛ لتجنب العینة المحرمة، و ألا ترجع إلی البائع بشرط أو مواطأة أو عرف.
4/6 عدم الربط بین عقد شراء السلعة بالأجل و عقد بیعها بثمن حال، بطریقة تسلب العمیل حقه فی قبض السلعة، سواء کان الربط بالنص فی المستندات، أم بالعرف، أم بتصمیم الإجراءات.
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
10/جمادی الاولی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


