03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کی طرف سے دیے ہوئے ڈیجیٹل وسائل کے ذاتی استعمال کا حکم
92279متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

میں ایک کمپنی میں ملازمت کر رہا ہوں، اور میرے معاہدے میں ڈیوٹی کا وقت صبح 10 بجے سے شام 7 بجے تک مقرر ہے۔ کمپنی نے مجھے ایک کلائنٹ کے ساتھ مکمل وقت کے لیے منسلک کیا ہوا ہے، جس کا کام میں پورا وقت انجام دیتا ہوں، جبکہ اس کلائنٹ کے دفتر اور کسٹمر سروس کے اوقات صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں۔ میں نے اپنے پروجیکٹ مینیجر سے بات کی ہے کہ چونکہ کلائنٹ کا کام شام 6 بجے ختم ہو جاتا ہے، اس لیے میں بھی صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کام کرنا چاہتا ہوں۔

:1اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں اپنے معاہدے کے مطابق صبح 10 بجے سے شام 7 بجے تک ڈیوٹی انجام دوں، یا کلائنٹ کے اوقات کے مطابق صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کام کروں، جبکہ اس بارے میں اپنے پروجیکٹ مینیجر کی رضامندی بھی حاصل کرچکا ہوں؟

:2دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کمپنی کی طرف سے Claude کا رسائی حاصل ہے، جس کی ماہانہ ادائیگی کمپنی کرتی ہے اور میں اسے کمپنی کے کاموں کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ کمپنی ہر ماہ ایک مخصوص مقدار میں ٹوکنز یا کریڈٹس فراہم کرتی ہے، خواہ میں انہیں مکمل استعمال کروں یا نہ کروں۔ کیا میرے لیے ان ٹوکنز یا کریڈٹس کو اپنے ذاتی کاموں کے لیے استعمال کرنے کی شرعی گنجائش ہے جبکہ اس استعمال سے کمپنی کے کام میں کوئی خلل نہیں آتا؟

تنقیح: ابھی کمپنی نے گھر سے ریموٹ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ مذکورہ صورت میں اگر کمپنی نے آپ کو گھر سے ریموٹ کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ایک کلائنٹ کے ساتھ مکمل وقت کے لیے منسلک کیا ہوا ہے تو آپ کے لیے کلائنٹ کے  وقت کے مطابق کام کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آپ اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں اور کمپنی کی طرف سے بھی ریموٹ کام کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

2۔ Claude کے بقایا ٹوکنز یا کریڈٹس کمپنی کی ملکیت ہیں لیکن اس نے حد بندی کرکے بظاہر ذاتی استعمال کی گنجائش دی ہے، لہٰذا اگر کمپنی کی آئی ٹی پالیسی یا عام عرف  میں ذاتی استعمال سے روکا نہ جاتا ہو تو اس حد تک استعمال کی گنجائش ہوگی جس سے کمپنی کے کام میں خلل نہ آئے ۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح (149/6):

"(لا يحل مال امرئ ) أي: مسلم أو ذمي (إلا بطيب نفس) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(رد المحتار: 6/70):

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: اعلم أن الأجير للخدمة أو لرعي الغنم إنما يكون أجيرا خاصا إذا شرط عليه أن لا يخدم غيره أو لا يرعى لغيره أو ذكر المدة أولا، نحو أن يستأجر راعيا شهرا، ليرعى له غنما مسماة بأجر معلوم، فإنه أجير خاص بأول الكلام. أقول: سره أنه أوقع الكلام على المدة في أوله، فتكون منافعه للمستأجر في تلك المدة، فيمتنع أن تكون لغيره فيها أيضا.

وقال أیضا: قوله: (وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل، ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي: وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة، ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة.                                                        

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 18 /ربیع الآخر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب