| 92908 | گری ہوئی چیزوں اورگمشدہ بچے کے ملنے کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! ریسکیو 1122 میں دورانِ ڈیوٹی حادثات اور ہنگامی واقعات میں ایسا سامان ہمارے پاس آتا ہے جس کے مالک دورانِ ایمرجنسی وفات پا جاتے ہیں، یا بے ہوشی کی حالت میں ملتے ہیں، یا ان کی شناخت ممکن نہیں ہوتی۔ اس سامان میں نقد رقم، قیمتی اشیاء اور عام استعمال کی چیزیں مثلاً کپڑے وغیرہ شامل ہوتے ہیں، اور اس سب کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ قیمتی اشیاء اور بڑی رقم عموماً ورثاء آکر لے جاتے ہیں، مگر بعض اوقات طویل انتظار اور کوشش کے باوجود ورثاء نہیں آتے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پاتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس لاوارث نقد رقم کو چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت میں مصروف ایمبولینسوں کی ادویات اور مرمت پر خرچ کیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ حکومت کی طرف سے ملنے والا فنڈ سروس کی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حادثات میں ملنے والی نقد رقم اور سامان ان کے مالکان کی امانت ہے، اور مالک کی وفات کی صورت میں اس کے ورثہ کا حق ہے۔ ادارے پر لازم ہے کہ اسے حفاظت سے رکھے اور مالک یا ورثہ تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرے، مثلاً پولیس، ہسپتال، شناختی دستاویزات اور اعلانات کے ذریعے۔
اس مقصد کے لیے ادارے کے دفتر، متعلقہ ہسپتال، تھانے اور ادارے کی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر یہ اعلان لگا دینا کافی ہے کہ فلاں مدت تک مالک یا ورثہ اپنا سامان وصول کرلیں ورنہ اسے صدقہ کردیا جائے گا۔ اعلان میں سامان کی وضاحت ہوکہ مالک پہچان لے، اور مدت سامان کی مالیت کے مطابق اتنی رکھی جائے کہ غالب گمان ہوجائے کہ اب مالک نہیں آئے گا۔ البتہ جہاں مالک یا وارث کا نام، پتہ یا رابطہ نمبر معلوم ہو وہاں ان سے براہِ راست رابطہ کرنا ضروری ہے۔
اگر بھرپور کوشش کے بعد مالک یا ورثہ نہ مل سکیں اور غالب گمان ہو کہ اب وہ نہیں آئیں گے، تو یہ مال لقطہ (گمشدہ مال) کے حکم میں ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اسے مالک کی طرف سے فقراء پر صدقہ کردیا جائے یا کسی رفاہی کام میں خرچ کردیا جائے۔
چونکہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینس سروس عوام کی خدمت کا رفاہی کام ہے،اس لیے مالک اور ورثہ سے مایوسی کے بعد یہ رقم ادارے کے مجاز افسر کی اجازت اور باقاعدہ ریکارڈ کے ساتھ ایمبولینسوں کی مرمت اور ادویات پر خرچ کی جاسکتی ہے۔
صدقہ کرنے کے بعد اگر مالک یا اس کے ورثہ آجائیں تو انہیں اختیار ہوگا کہ صدقہ کو برقرار رکھیں یا اپنے مال کا عوض وصول کریں، اس لیے مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔ نیز اس سلسلے میں ادارے اور حکومت کے متعلقہ قواعد کی پابندی بھی ضروری ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 419):
"ولا يتصدق باللقطة على غني" لأن المأمور به هو التصدق لقوله عليه الصلاة والسلام: "فإن لم يأت" يعني صاحبها "فليتصدق به" والصدقة لا تكون على غني فأشبه الصدقة المفروضة "وإن كان الملتقط غنيا لم يجز له أن ينتفع بها" ... ولنا أنه مال الغير فلا يباح الانتفاع به إلا برضاه لإطلاق النصوص والإباحة للفقير لما رويناه أو بالإجماع فيبقى ما وراءه على الأصلي ... وانتفاع أبي رضي الله عنه كان بإذن الإمام وهو جائز بإذنه.
الدر المختار مع رد المحتار (4/ 278):
(وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة) ... (قوله: وفي المجامع) أي محلات الاجتماع كالأسواق وأبواب المساجد بحر، وكبيوت القهوات في زماننا (قوله: إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها) لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي فإنه بنى الحكم على غالب الرأي، فيعرف القليل والكثير إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبه لا يطلبه، وصححه في الهداية، وفي المضمرات والجوهرة وعليه الفتوى.
الدر المختار مع رد المحتار (4/ 279):
(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه ... (قوله: فينتفع الرافع) ... والمراد جواز الانتفاع بها والتصدق، وله إمساكها لصاحبها ... وله دفعها للقاضي فيتصدق بها أو يقرضها من مليء أو يدفعها مضاربة والظاهر أن له البيع أيضا.وفي الحاوي القدسي الدفع إلى القاضي أجود ليفعل الأصلح…أن حل الانتفاع للفقير بعد التعريف لا يتوقف على إذن القاضي، ويخالفه ما في الخانية من أنه لا يحل ذلك للفقير بلا أمره عند عامة العلماء. وقال بشر يحل. اهـ. بحر، ومثله في الشرنبلالية عن البرهان، نعم في الهداية والعناية جواز الانتفاع للغني بإذن الإمام؛ لأنه مجتهد فيه، ويأتي قريبا عن النهر.
الدر المختار مع رد المحتار (4/ 219):
وبقي رابع وهو لقطة وتركة بلا وارث، ودية مقتول بلا ولي، ومصرفها لقيط فقير وفقير بلا ولي ... (قوله وفقير بلا ولي) أي ليس له من تجب نفقته عليه قال في البحر: يعطون منه نفقتهم وأدويتهم ويكفن به موتاهم ويعقل به جنايتهم. اهـ.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
12/جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


