| 92245 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
عام طور پر گٹکا، نسوار، سگریٹ، رجنی ، ماوا کا استعمال عام و خاص، حتی کہ دیندار حلقہ بھی کرتا ہیں۔ سگریٹ کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سگریٹ کی خرید و فروخت شرعا جائز ہے کیونکہ سگریٹ میں ایساکوئی نشہ نہیں ہوتا ،جس سے عقل مغلوب ہو جائے، بلکہ یہ محض ایک عادت کی قبیل سے ہے ۔ تاہم، سگریٹ میں موجود ناگوار بدبو اور مستقبل میں صحت کو لاحق ہونے والے نقصانات کے باعث اس کی تجارت میں کراہت پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے بجائے کسی دیگر پاکیزہ اور مباح کاروبار کو ترجیح دینا زیادہ بہترہے۔
دوسری جانب، گٹکا ،رجنی اور ماوا کا حکم سگریٹ سے مختلف ہے؛ اگرچہ ان میں بھی عقل کو مغلوب کرنے والا نشہ نہیں ہوتا ، لیکن یہ اشیاء شدید ترین مضر صحت ہیں اور انسانی جسم کو ہلاکت کی طرف دھکیلتی ہیں، جس سے قرآن کریم کی رو سے بچنا فرض ہے۔ مزید برآں، طبی مضرت کے پیش نظر حکومت نے ان کی خرید و فروخت پر سخت قانونی پابندی عائد کر رکھی ہے، لہذا حکومتی قوانین کی پاسداری اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گٹکا ،رجنی اور ماوا کو بیچنا اور استعمال کرنا شرعاً و قانوناً ممنوع اور قابل ترک ہے۔
حوالہ جات
{ ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } الآية : 195
التقدير لا تلقوا أنفسكم بأيديكم كما تقول : لا تفسد حالك برايك والتهلكة ( بضم اللام ) مصدر من هلك يهلك هلاكا وهلكا وتهلكة أي لا تأخذوا فيما یهلككم.
وقال الطبري : قوله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة عام في جميع ما ذكر لدخوله فيه إذ اللفظ يحتمله."
(تفسیر القرطبی ، 2/2 359)
"قلت: وألف في حله أيضًا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) ... فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف و جميع من في بيته أن يقول: هوهو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعًا إلى آخر ما أطال به - رحمه الله تعالى -.
(ردالمحتار علی الدرالمختار , 6 359/)
والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع".
) ردالمحتار علی الدرالمختار ، 5 / 69)
"لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة ؟ "
(بدائع الصنائع ، 9453/)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03 /ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


