03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکومتی ہاؤسنگ اسکیم کے شرعی احکام
92252متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

حکومت نے 60سال سے اوپر حضرات کے لیے ’اپنا گھر اسکیم ‘کے تحت قدغن لگائی ہوئی ہے؛ جبکہ خود صدر اور وزیراعظم70 سال سے اوپر ہیں۔ یہ استثنا کیوں؟ علمائے کرام حکومت کو تحریراً باور کرائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فقہائے کرام کی تصریح کے مطابق حاکم وقت کو عوام کی مصلحت، ملکی معیشت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کچھ انتظامی قواعد اور عمر کی حدود مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ وہ شریعت کے بنیادی احکام سے متصادم نہ ہوں ، لیکن اسلامی نظام عدل کا بنیادی اصول نفاذقانون میں یکسانیت اور بلا امتیاز مساوات ہے، جہاں شاہ و گدا اور حاکم و محکوم سب قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں اور کسی معقول شرعی سبب کے بغیر حکمرانوں کے لیے الگ اور عوام کے لیے الگ دوہرا معیار قائم کرنا اسلامی مساوات کے خلاف ہے ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر حکومتی پالیسی کسی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہو ،تو ان میں برابری ہونی چاہئے تاکہ کسی کی حق تلفی لازم نہ ہو ۔لیکن اگر کسی کے حق تلفی کو مستلزم ہو تو پھر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت علمائے کرام اور ارباب حل و عقد کا یہ دینی فريضہ ہے کہ وہ حکومت اور پالیسی سازوں کو عوام کی ناانصافیوں اور حق تلفی پر تحریرا  و مشافہتا حکمت و نصحیت کے ساتھ متوجہ کرائیں تاکہ معاشرے میں عدل قائم ہو سکے ۔

حوالہ جات

وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ (1) " , فَقُلْنَا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لِلهِ (2) وَلِكِتَابِهِ (3) وَلِرَسُولِهِ (4) وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ (5) وَعَامَّتِهِمْ.

) الجامع الصحيح للسنن والمسانيد، 4/ 77)

عن عائشة، أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت، فقالوا: من يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالوا: ومن يجترئ عليه إلا أسامة، حب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكلمه أسامة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أتشفع في حد من حدود الله؟» ثم قام فاختطب، فقال: «أيها الناس، إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد، وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها».

(صحيح مسلم ،3/ 1315)

أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر.

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ،ص: 398)

صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى.

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،5/ 422)

عبدالرحیم بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی  

03 /ربیع الثانی /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب