| 92904 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا ایک لڑکی سے نکاح ہوا تھا۔ ہم دونوں بالغ اور عاقل تھے، باہمی رضامندی سے نکاح ہوا، دو گواہ موجود تھے، مہر 5,000 روپے مقرر ہوا اور ادا بھی کیا گیا۔ لڑکی کے والد نکاح میں موجود نہیں تھے اور ان کی رضامندی شامل نہیں تھی، اگرچہ خاندان کے بعض دوسرے افراد ،اس رشتے کے حق میں تھے۔ بعد میں میرے گھر والوں کو نکاح کا علم ہوا اور انہوں نے مجھ پر رشتہ ختم کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ ساتھ ہی ہمیں یہ خوف تھا کہ اگر لڑکی کے گھر والوں کو نکاح کا علم ہوا تو لڑکی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم دونوں نے حالات کو دیکھ کر ٹھنڈے دماغ سے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت عزت اور سلامتی کے ساتھ علیحدگی ہی بہتر ہے۔ لڑکی نے بھی مجھے طلاق دینے کو کہا۔ چنانچہ میں نے ہوش و حواس میں وائس میسج کے ذریعے یہ الفاظ تین مرتبہ کہے: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"۔ تینوں الفاظ ایک ہی موقع پر کہے تھے۔ اس بارے میرے چند سوالات ہیں ۔
1۔ کیا ایک مجلس کی یہ تین طلاقیں شرعاً تین شمار ہوں گی یا ایک؟
2۔ اگر تین شمار ہوں تو تقریباً ایک ماہ بعد ہمارے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہونے کا کیا حکم ہے؟ کیا اس سے کسی صورت رجوع ہوا؟
3۔ طلاق کے وقت جو شدید خاندانی دباؤ اور لڑکی کو ممکنہ نقصان کا خوف تھا، کیا یہ شرعی اکراہ (جبر) میں شمار ہوتا ہے؟
4۔ اصل نکاح کی صحت بھی واضح فرما دیں، کیونکہ لڑکی کے والد نکاح میں موجود نہیں تھے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ لڑکی کی دوسری شادی ایک دو ماہ میں متوقع ہے، اس لیے براہِ کرم واضح حکم فرمائیں کہ موجودہ صورت میں وہ شرعاً میری بیوی ہے یا نہیں، اور کیا اس کی دوسری شادی سے پہلے ہمارے معاملے کا فیصلہ ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں :
1۔ اگر طلاق دینے سے پہلے صحبت(ہمبستری) یا خلوتِ صحیحہ ہو چکی تھی، تو اس صورت میں ایک ہی مجلس میں مسلسل تین مرتبہ "طلاق دیتا ہوں" کہنے سے تینوں طلاقیں فوراً واقع ہو گئیں اور آپ دونوں ایک دوسرے پر بالکلیہ حرام ہوگئے۔
اگر طلاق دینے تک آپ دونوں کے درمیان صحبت یاخلوت صحیحہ قائم نہیں ہوئی تھی، تو پہلے جملے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" سے فوراً ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر رشتہ ختم ہو گیا اور عورت اجنبیہ ہو گئی۔ اس کے بعد بولے گئے باقی دو جملے (طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں) لغو اور باطل ہو گئے، اور صرف ایک ہی طلاقِ بائن واقع ہوئی۔
شرعی و فقہی اصطلاح میں خلوتِ صحیحہ سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا کسی ایسی بند یا محفوظ جگہ پر اکٹھا ہونا جہاں دونوں کا باہم صحبت (ہمبستری /جماع) کرنا طبعاً، حسّاً اور شرعاً ممکن ہو، اور وہاں کوئی ایسی رکاوٹ موجود نہ ہو جو جماع سے روکتی ہو۔
2۔اگر طلاق سے پہلے آپ دونوں کے درمیان صحبت یا خلوتِ صحیحہ ہو چکی تھی اور اس بنا پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں تھیں، یا پھر صحبت اور خلوت صحیحہ کے بغیر ایک طلاق بائن واقع ہوئی تھی (اور پھر نیا نکاح بھی نہیں ہوا تھا ) تو بہر دو صورت ایک ماہ بعد قائم ہونے والا ازدواجی تعلق شرعاً سخت حرام و معصیت تھا، اور اس سے کسی بھی صورت میں رجوع نہیں ہوااور نہ ہی ہوسکتا تھا۔یاد رہے کہ طلاق بائن سے ، نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنے کے بعد عورت اور مرد ایک دوسرے کیلئے حلال ہوتے ہیں نہ کہ عام رجوع کے طریقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ رجوع کرنے سے ۔
3۔خاندانی دباؤ، لڑائی جھگڑے کی بات یا خاندانی نقصان کا عام خوف شرعی اصطلاح میں "اکراہ شرعی" نہیں کہلاتا۔ لیکن اگر بالفرض یہ جبر و اکراہ ہوتا بھی ، تب بھی فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق زبانی دی گئی طلاقِ مکرہ واقع ہو جاتی ہےاگرچہ تحریری صورت میں نہیں ہوتی (یعنی جبر و اکراہ میں دی گئی زبانی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہےجیسا کہ آپ نے بھی وائس میسیج کے ذریعے طلاق کے الفاظ کہےاور بھیجے )۔ لہٰذا دباؤ یا خوف کی وجہ سےزبانی طلاق کے وقوع میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
4۔ واضح رہے کہ اگر عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے اور کفو میں کرے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا و عرفًا سخت نا پسندیدہ ہے ۔کفو کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو۔چونکہ آپ دونوں عاقل و بالغ تھے، باہمی رضامندی سے ایجاب و قبول ہوا، دو شرعی گواہ موجود تھے اور مہر مقرر و ادا کیا گیا تھا، لہٰذا اگر یہ نکاح آپ دونوں کے کفو میں ہوا تھا، تو یہ نکاح شرعاً صحیح تھا اورمنعقد بھی ہوگیا تھا۔لڑکی کے والد کی غیر موجودگی یا ان کی عدم رضا سے اس نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔اب چونکہ طلاق واقع ہو چکی ہے، لہٰذا وہ خاتون اپنی شرعی عدت (تین حیض یا اگر حمل ہو تو وضعِ حمل) پوری کرنے کے بعد کسی بھی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے، عدت پوری کرنے سے پہلے نہیں کرسکتی ۔
حوالہ جات
«فتح باب العناية بشرح النقاية» (2/ 105):
(وفي أنت طالق ثلاثا لغيرِ المَدخولة يقعن) وهو قول عمر وعليّ وابن عباس وأبي هريرة وجمهور العلماء. وقال الحسن البصريّ وعطاء وجابر بن زيد: تقع واحدةً، لأنها تبين بقوله: أنتِ طالقٌ لا إلى عدّة، فيصادفها قوله ثلاثاً وهي بائنٌ فلا يقع به شيءٌ، وصار كقوله أنت طالقٌ وطالقٌ وطالقٌ. ولنا أنّ الثلاث صفة للطّلاق الذي أوقعه، والموصوف لا يوجد بدون صفته، فصار الكلام واحداً، وصار كقوله: أوقعت عليكِ ثلاث تطليقات.»
«مختصر القدوري» (ص159):
«وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها»
«الاختيار لتعليل المختار» (3/ 124):
« (وطلاق المكره واقع) لما روي: «أن امرأة اعتقلت زوجها وجلست على صدره ومعها شفرة وقالت: لتطلقني ثلاثا أو لأقتلنك، فناشدها الله أن لا تفعل فأبت فطلقها ثلاثا، ثم ذكر ذلك للنبي عليه الصلاة والسلام فقال: لا قيلولة في الطلاق» . ولأنه قصد الطلاق ولم يرض بالوقوع فصار كالهازل، ولأنه معنى تقع به الفرقة فيستوي فيه الإكراه والطوع كالرضاع، ثم عندنا كل ما صح فيه شرط ۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 236):
«وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية، ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه.»
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
14/جمادی الاولی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


