| 92663 | حدود و تعزیرات کا بیان | تعزیر مالی کے احکام |
سوال
کے الیکٹرک، سوئی گیس، واٹر بورڈ اور دیگر مالیاتی ادارے بل کی مقررہ تاریخ گزر جانے پر لیٹ فیس یا جرمانہ وصول کرتے ہیں، جبکہ عموماً سرکاری و نجی اداروں میں ملازمین کو تنخواہیں یکم، پانچ، سات، دس یا پندرہ تاریخ تک ملتی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے بل کی ادائیگی یکم سے چار تاریخ کے اندر کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں لیٹ فیس یا جرمانہ وصول کرنا، جبکہ تاخیر کی ایک بڑی وجہ تنخواہ کا بروقت نہ ملنا ہو، شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں کے الیکٹرک، سوئی گیس، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں کی طرف سے مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد بل کی ادائیگی پر وصول کی جانے والی زائد رقم دراصل مالی جرمانہ ہے۔ عام حالات میں کسی شخص سے محض تاخیر کے بدلے اضافی رقم وصول کرکے مال حاصل کرنا جائز نہیں، تاہم حکومتِ وقت کو انتظامی مصلحت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مالی تغریر کی اجازت ہے۔
لہٰذا اجتماعی وسائل، خصوصاً بجلی، گیس اور پانی وغیرہ کے استعمال میں حق تلفی اور انتظامی مشکلات سے بچنے کے لیے صارفین کو چاہیے کہ حتی الامکان مقررہ وقت پر بل ادا کریں، تاکہ جرمانے سے بچا جا سکے۔ البتہ اگر کسی شخص کو تنخواہ مقررہ تاریخ پر نہ ملنے یا کسی دوسرے معتبر عذر کی وجہ سے بروقت بل ادا کرنے میں حقیقی دشواری پیش آئے اور اس تاخیر کے نتیجے میں جرمانہ عائد ہو جائے، تو مجبوری کی حالت میں وہ اضافی رقم ادا کرے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر(1/ 609 ):
وفي البحر: ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب".
البحرالرائق(5/ 68 ):
سمعت من ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز.
حاشیہ ابن عابدین:61\4
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


