| 92657 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
اگر فریقِ ثانی ان شرائط کو قبول نہ کرے، تو کیا ایسے مطالبات کی بنیاد پر نکاح سے انکار کرنا شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح باہمی رضامندی سے منعقد ہونے والا ایک شرعی عقد ہے، اس لیے اگر فریقین مہر یا دیگر جائز شرائط پر باہمی اتفاق نہ کر سکیں، تو ان کے لیے نکاح نہ کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ کسی بھی فریق کو اس عقد پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا اگر لڑکی کی جانب سے مقرر کردہ مہر، خواہ وہ نقد رقم، سونا، پلاٹ یا کوئی اور مالی چیز ہو، فریقِ ثانی کے لیے قابلِ قبول نہ ہو، تو محض اس وجہ سے نکاح سے انکار کرنا شرعاً جائز ہے۔
البتہ اگر اختلاف کی وجہ مہر کے علاوہ ناجائز مالی مطالبات ہوں، مثلاً لڑکی والوں کا اپنے لیے رقم، قیمتی تحائف یا دیگر غیر شرعی شرائط کا مطالبہ کرنا، تو ایسے مطالبات کو قبول نہ کرنا شرعاً درست ہے، بلکہ نکاح کو ان ناجائز مطالبات سے مشروط کرنا قابلِ مذمت ہے۔
حوالہ جات
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


