| 92661 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
موبائل کمپنیاں، مثلاً زونگ، یوفون، ٹیلی نار اور جاز، رات کے اوقات میں خصوصی انٹرنیٹ یا کال پیکجز فراہم کرتی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پیکجز کی وجہ سے نوجوان نسل میں بے راہ روی اور اخلاقی خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موبائل فون، انٹرنیٹ اور کال پیکجز اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ذرائع ہیں، اس لیے محض رات کے اوقات میں خصوصی پیکجز فراہم کرنا بذاتِ خود ناجائز نہیں۔
البتہ ان پیکجز کا حکم ان کے استعمال کے اعتبار سے ہوگا:
- تعلیم، دینی و علمی استفادہ، کاروبار، اہلِ خانہ سے جائز رابطے اور دیگر مباح مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔
- نامحرم سے ناجائز تعلقات، فحاشی، عریانی، فحش مواد یا دیگر گناہوں کے لیے استعمال کرنا ناجائز ہوگا، اور اس کا گناہ استعمال کرنے والے پر ہوگا۔
- بلا ضرورت عشاء کے بعد فضول اور لغو گفتگو میں مشغول رہنا ناپسندیدہ ہے، کیونکہ اس سے فجر کی نماز، عبادات اور دیگر ذمہ داریوں میں کوتاہی کا اندیشہ ہوتا ہے۔
لہٰذا محض رات کے خصوصی موبائل پیکجز کو ناجائز قرار دینا درست نہیں، بلکہ ان کا حکم ان کے استعمال کے اعتبار سے ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية:5\377
السمر على ثلاثة اوجه احدها ان يكون في مذاكرة العلم فهو افضل من النوم والثاني ان يكون السمر في اساطير الاولين والاحاديث الكاذبة والسخرية والضحك فهو مكروه والثالث ان يتكلموا للمؤانسة ويجتنبوا الكذب وقول الباطل فلا بأس به والكف عنه افضل.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


