03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قیمتوں میں ناقابلِ ادائیگی اعشاری رقم مقرر کرنے اور حقوق العباد کی پامالی کا شرعی حکم
92666جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

اگر حکومت یا متعلقہ ادارے ایسی قیمتیں مقرر کریں جن میں پیسوں کی ادائیگی کا عملی نظام موجود نہ ہو، تو کیا یہ بدعنوانی یا لوگوں کے حقوق تلف کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟ اس بارے میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر حکومت یا متعلقہ ادارے ایسی قیمتیں مقرر کریں جن میں پیسوں (Decimals) کی ادائیگی یا واپسی کا عملی نظام موجود نہ ہو، مثلاً متعلقہ سکے رائج نہ ہوں یا بقایا رقم واپس کرنے کا کوئی مؤثر انتظام نہ ہو، تو ایسا نظام شرعی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو مقررہ قیمت سے زائد رقم ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جو ان کے مالی حقوق کے ضیاع اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے۔

شریعت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوامی معاملات میں عدل و انصاف کو یقینی بنائیں، لوگوں کے حقوق کی حفاظت کریں اور ایسا نظام اختیار کریں جس میں کسی فریق پر ظلم نہ ہو۔ لہٰذا متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ یا تو قیمتیں ایسے مکمل اعداد میں مقرر کریں جن کی ادائیگی آسانی سے ہو سکے، یا پھر بقایا رقم کی واپسی کا ایسا مؤثر نظام قائم کریں جس کے ذریعے ہر صارف کو اس کا پورا حق مل سکے۔

حوالہ جات

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب