03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کونڈوں کی رسم کی تاریخی حقیقت اور شرعی حیثیت
92667سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

"کونڈو" (کُنڈہ) کی رسم کی اصل حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ اس رسم کا آغاز تقریباً 1935ء میں لکھنؤ کے کسی شخص نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے کیا تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رجب کے "کونڈوں" (کُنڈہ) کی مروجہ رسم کی کوئی اصل قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ، آثارِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تعاملِ تابعین یا ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں، بلکہ یہ بعد میں ایجاد کی جانے والی ایک رسم ہے۔ اس لیے اسے دینی عمل، باعثِ ثواب عبادت یا حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے منسوب مخصوص نیاز سمجھنا شرعاً درست نہیں۔

مستند کتبِ تاریخ و انساب کے مطابق حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت 8 رمضان 80ھ (بعض کے نزدیک 17 ربیع الاول 83ھ) میں مدینہ منورہ میں ہوئی، جبکہ آپ کی وفات بالاتفاق 15 شوال 148ھ میں ہوئی۔ لہٰذا 22 رجب کا نہ آپ کی ولادت سے کوئی تعلق ہے اور نہ وفات سے، اس لیے اس تاریخ کو آپ کی طرف منسوب کرنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔

بعض اکابر علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ 22 رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وفات ہے، اور "کونڈوں" کی رسم بعد کے زمانے میں اسی مناسبت سے ایجاد کی گئی، پھر بعد میں اسے حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا گیا۔

بہرحال اس قدر بات واضح ہے کہ یہ رسم خیر القرون میں موجود نہیں تھی، بلکہ بعد میں ایجاد ہوئی، اور حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے اس کا کوئی صحیح تاریخی یا شرعی تعلق ثابت نہیں۔

مزید یہ کہ اگر بالفرض حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے 22 رجب کا تعلق ثابت مان بھی لیا جائے، تب بھی مخصوص طریقے، مخصوص کھانے اور مخصوص برتن کے ساتھ کونڈوں کی مروجہ رسم ادا کرنا جائز نہیں ہوگی، کیونکہ ایصالِ ثواب کے لیے شریعت نے اس طرح کی مخصوص تاریخ، کھانے اور برتن کی پابندی مقرر نہیں کی۔ البتہ عام طور پر کسی بھی وقت، بغیر ایسی مخصوص پابندیوں کے، صدقہ، کھانا کھلانے، تلاوتِ قرآن یا دیگر نفلی عبادات کا ثواب حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ یا کسی بھی میت کو پہنچانا جائز ہے۔

حوالہ جات

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب