03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کونڈوں کی رسم میں شرکت، اس کی پابندی اور عدم شرکت پر برا سمجھنے کا شرعی حکم
92668جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

آج کل لوگ اس رسم کا بڑے اہتمام سے انعقاد کرتے ہیں، اور جو اس میں شریک نہ ہوں یا اسے نہ مانیں، انہیں برا سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات سسرالی اور دیگر رشتہ دار بھی اس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس رسم کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

22رجب کے "کونڈوں" کی رسم قرآن و سنت، آثارِ صحابہ، تعاملِ تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں، بلکہ بعد میں ایجاد ہونے والی بدعت ہے۔ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے اس کا کوئی صحیح تاریخی یا شرعی تعلق ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے دینی حیثیت سے منانا، اس کی ترویج کرنا یا اس میں شرکت کو باعثِ ثواب سمجھنا درست نہیں، اور نہ ہی اس میں شرکت نہ کرنے والوں کو ملامت کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب