03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فجر و عشاء میں مقتدیوں کی رعایت سے قراءت کی مقدار
92674نماز کا بیانقراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان

سوال

احادیث میں امام کو مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حکم کی روشنی میں فجر اور عشاء کی نماز میں مناسب قراءت کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کی ذمہ داری صرف نماز پڑھانا نہیں، بلکہ مقتدیوں کے حالات اور ان کی سہولت کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو عشاء کی نماز میں طویل قراءت کرنے پر تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والے ہو؟"

پھر آپ ﷺ نے انہیں نسبتاً مختصر سورتیں پڑھنے کی تلقین فرمائی۔

اس بنا پر قراءت کے بارے میں درج ذیل ترتیب مناسب ہے:

عام حالات میں فجر کی نماز میں طوالِ مفصل کی سورتیں پڑھنا سنت ہے۔عشاء کی نماز میں اوساطِ مفصل کی سورتیں پڑھنا سنت ہے۔

ضرورت، وقت کی قلت یا مقتدیوں کی مشقت کی صورت میں:فجر میں نسبتاً مختصر سورتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

اگر کوئی غیر معمولی عذر یا شدید ضرورت ہو، تو سورۂ فاتحہ کے بعد تین مختصر آیات یا ایک ایسی آیت پڑھنے پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے جو مقدار میں تین مختصر آیات کے برابر ہو، کیونکہ اس سے واجب قراءت ادا ہو جاتی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار مع ردا لمحتار:1/457،458:

قوله( ذكره الحلبي): أي في شرحه الكبير عن المنية: وإن قرأ ثلاث آيات قصارا أو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصار، خرج عن حد الكراهة المذكورة ،يعني كراهة التحريم. (

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب