| 92662 | حکومت امارت اور سیاست | دارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل |
سوال
اگر ثابت ہو کہ رات کے مخصوص پیکجز معاشرے میں فحاشی، عریانی یا دیگر اخلاقی برائیوں کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں، تو کیا حکومت کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا یا ان کے اوقات محدود کرنا شرعاً درست ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مستند تحقیقات، ماہرین کی آراء یا قابلِ اعتماد شواہد سے یہ ثابت ہو جائے کہ رات کے مخصوص موبائل پیکجز فحاشی، عریانی، ناجائز تعلقات یا دیگر اخلاقی برائیوں کے فروغ کا نمایاں ذریعہ بن رہے ہیں، تو حکومت عمومی اصلاح کے پیشِ نظر ان پر مناسب پابندیاں عائد کرنے یا ان کے اوقات محدود کرنے کی مجاز ہے۔
اس کی بنیاد درج ذیل شرعی اصولوں پر ہے:
- مباح چیز اگر غالب طور پر حرام یا فساد کا ذریعہ بن جائے تو اس پر مناسب پابندی لگائی جاسکتی ہے۔
- حکمران کے فیصلے رعایا کی مصلحت کے تابع ہوتے ہیں۔
- حکومت معاشرے کو اخلاقی فساد سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات کرسکتی ہے۔
- عمومی نقصان اور فساد کو دور کرنے کے لیے مناسب پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
لہٰذا معتبر شواہد کی صورت میں حکومت ایسے پیکجز کو منظم، محدود یا ان کے اوقات مقرر کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية، 80:19\
تصرف الامام على الرعية منوط بالمصلحة، وهذه القاعدة تقتضي أن يكون نظره لهم نظر مصلحة، فما كان فيه مصلحتهم فعله، وما كان فيه مفسدتهم منعه.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


