ممنوعاتِ اِحرام اور ان کی جزا کی تفصیل:
جنایات جمع ہے جنایت کی، اِحرام کی پابندیوں کی خلاف ورزی کو ’’جنایت‘‘ کہتے ہیں اور جنایت پر جو کچھ واجب ہوتا ہے اس کو ’’جزا‘‘ کہتے ہیں۔
اِحرام کی جنایات دس (10) ہیں:
1:۔خوشبو استعمال کرنا۔
2:۔مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا۔
3:۔مرد کو سر اور چہرہ ڈھانکنا اور عورت کو صرف چہرہ ڈھانکنا۔
4:۔بدن کے کسی بھی حصے سے بال مونڈنا۔
5:۔ناخن کاٹنا
6:۔میاں بیوی والا خاص تعلق۔
7:۔واجباتِ حج میں سے کسی واجب کو چھوڑ دینا۔
8:۔خشکی کا جانور شکار کرنا۔
9:۔حرم کے درخت کاٹنا۔
10:۔زیتون یا تل کا تیل یا کوئی بھی خوشبو دار تیل استعمال کرنا۔
تنبیہ: مذکورہ بالا امور میں سے حرم میں شکار کرنا اور حرم کے درخت کاٹنا یہ حرم کی وجہ سے ممنوع ہے، باقی ساری چیزیں اِحرام کی وجہ سے ممنوع ہیں۔( الدرالمختار: ۳/ ۶۵۰)
جنایت پر جزا بہر حال لازم ہے:
جنایت جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے یا بھول کر، مسئلہ جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، خوشی سے کرے یا کسی کے مجبور کرنے سے، سوتے میں کرے یا جاگتے میں، نشہ میں ہو یا بے ہوش، مالدار ہو یا تنگدست، خود کرے یا کسی کو کہہ کر اس سے کرائے، کوئی عذر ہو یا نہ ہو، سب صورتوں میں جزا واجب ہوگی۔( الشامیة: ۳/ ۶۵۲)
عمداً جنایت کا ارتکاب:
جنایت جان بوجھ کر کرنا سخت گناہ ہے، اگر جنایت ہوجائے تو توبہ بھی کریں اور جزا بھی دیں۔ قصداً جنایت کا ارتکاب کرنے سے حج مبرور نہیں رہتا۔ بہت سے لوگ مال و دولت کے زعم میں قصداً جنایت کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ دَم دے دیں گے، یہ جہالت اور سخت گناہ کی بات ہے۔ حج کے مبرور ومقبول ہونے کے لیے ہر گناہ سے اور اِحرام کی ہر جنایت سے بچنے کا اہتمام کرنا لازم ہے۔( الشامیة: ۳/ ۶۵۲)
قارن کو دہری جزا کب لازم ہوتی ہے؟
اگر کسی نے قران کا اِحرام باندھا تھا اور عمرہ ادا کرنے سے پہلے پہلے کسی جنایت کا ارتکاب کر لیا تو دو جزائیں (جزا خواہ دَم کی صورت میں ہو یا صدقہ کی صورت میں ہو) واجب ہوتی ہیں کیونکہ اس کے دو اِحرام ہوتے ہیں اور مفرد پر ایک جزا واجب ہوتی ہے، البتہ قارِن اگر جنایاتِ اِحرام کی بجائے جنایت ِ حرم کا ارتکاب کرے یا حج کا کوئی واجب چھوڑ دے یا میقات سے اِحرام کے بغیر گزر جائے۔ تو ان سب صورتوں میں ایک ہی دَم واجب ہو گا، کیونکہ جب میقات سے بغیر اِحرام کے گزر رہا ہے تو اس وقت یہ قارن ہے ہی نہیں، لہٰذا اس سے یا حج کا کوئی واجب چھوڑ دینے سے اِحرام کی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، اس لیے بغیر اِحرام کے میقات سے گزرنے کا جو جرم سرزد ہوا ہے اس کی وجہ سے ایک ہی دَم واجب ہے۔ اگر واپس میقات پر آ کر دوبارہ اِحرام باندھے تو یہ دم بھی ساقط ہو جائے گا، اگر واپس نہ آئے تو پھر جیسا کہ ذکر ہوا ایک ہی دَم واجب ہے، اگر چہ دوبارہ میقات پر آ کر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھ کر حج قران ہی کر لے۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۷۰۱، ۷۰۲)
قارن نے شکار کر لیا:
حرم میں شکار کرنا اگرچہ حرم سے متعلق جنایت ہے، اسی لیے اگر کوئی حلال شخص حرم میں شکار کرے تو اس پر بھی جزا لازم ہوتی ہے، مگر جب کوئی محرم شکار کرے تو پھر یہ جنایت اِحرام سے متعلق ہو جائے گی، کیونکہ اِحرام کی حرمت حرم کی حرمت و تعظیم سے زیادہ قوی ہے، لہٰذا قارن اگر شکار کرنے کا جرم کرے گا تو اس پر دگنی قیمت دینی لازم ہے۔( الشامیة: ۳/ ۷۰۲)
دَم سے کیا مراد ہے؟
جس جگہ جزا میں ’’دَم‘‘ کا لفظ بولا جائے اس سے مراد ایک سال کی بکری یا بھیڑیا دنبہ ہوتا ہے اور گائے اور اونٹ کا ساتواں حصہ بھی اس کے قائم مقام ہوسکتا ہے اور دَم میں قربانی کے جانور کی تمام شرائط کا خیال رکھنا لازم ہے۔
اونٹ یا گائے کب لازم ہوتی ہے؟
پورا اونٹ یا پوری گائے صرف دو صورتوں میں واجب ہوتی ہے: ایک تو جنابت یا حیض یا نفاس کی حالت میں طوافِ زیارت کرنے سے، دوسرے وقوف عرفہ کے بعد سرمنڈوانے سے پہلے جماع یعنی ہم بستری کرنے سے۔
طوافِ زیارت سے پہلے ہم بستری کرلی:
وقوفِ عرفہ اور سر منڈانے کے بعد طوافِ زیارت سے پہلے ہم بستری کرنے کی صورت میں فقہائِ کرام کا اختلاف ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بڑا جانور ذبح کیا جائے، تاہم ایک چھوٹے جانور کے ذبح کرنے کی بھی گنجائش ہے۔( الشامیة: ۳/ ۶۵۱)
صدقہ سے کیا مراد ہے؟
جزا کے بیان میں جب صدقہ کا لفظ بولا جائے تو اس سے نصف صاع (سوا دو کلو) گندم یا ایک صاع (ساڑھے چار کلو) جو مراد ہوتا ہے(الشامیة: ۳/ ۶۵۱) اور جس جگہ صدقہ کی مقدار متعین کردی جائے وہاں وہی خاص مقدار ہی واجب ہوتی ہے۔ صاع ساڑھے چار کلو کا ہوتا ہے۔ صدقہ میں گندم یا گندم کے آٹے سے نصف صاع یعنی سوا دو کلو دیا جائے اور جو یا جو کا آٹا، کھجوراور کشمش سے پورا ایک صاع (ساڑھے چار کلو) دیا جائے اور صدقہ کی جو مقدار بتائی جاتی ہے اس کی قیمت دینا بھی جائز بلکہ افضل ہے۔
دَم یا صدقہ کی جگہ روزے؟
بلا عذر ممنوعاتِ اِحرام کے ارتکاب سے جو دَم یا صدقہ لازم ہو جائے اس کی جگہ روزے رکھنا جائز نہیں، بلکہ دَم یا صدقہ کی ادائیگی ہی بہر حال لازم ہے،( الشامیة: ۳/ ۶۷۱) البتہ اگر عذر سے اِحرام کے ممنوعات کا ارتکاب کرنا پڑے تو پھر اختیار ہے چاہے دَم دے دے، چاہے چھ مساکین کو گندم یا اس کی قیمت دے، ہر مسکین کو سوا دو کلو گندم یا قیمت دینا لازم ہے، چاہے تین دن روزے (جہاں چاہے) رکھ لے اور صدقہ لازم ہونے کی صورت میں چاہے صدقہ دے، چاہے ایک دن روزہ رکھے۔( الدر المختار: ۳/ ۶۷۱،۶۷۲)
دَم حرم ہی میں دینا لازم ہے:
کسی جنایت کی وجہ سے جو دَم واجب ہوگا وہ حدودِ حرم ہی میں ذبح کرنا لازم ہے اور جو صدقہ واجب ہو اس کی ادائیگی کے لیے حدودِ حرم شرط نہیں ہے، صرف بہتر ہے، لہٰذادوسری جگہ کے فقرا پر بھی خرچ کیا جاسکتا ہے۔
دَم سے خود کھانا یا غنی کو کھلانا:
دَم جنایت میں سے خود کھانا جائز نہیں ہے اور مال دار یعنی صاحب نصاب کو کھلانا بھی جائز نہیں۔ اگر کسی غنی کو کچھ دے دیا یا خود کھا لیا تو اتنی مقدار کی قیمت فقراء کو دینا لازم ہے،( الدرالمختار: ۴/ ۴۵) غیر صاحب ِنصاب جسے زکوٰة دینا جائز ہو اسے دیا جاسکتا ہے۔
دَم یا صدقہ میں تاخیر:
جنایت کی وجہ سے جو دَم یا صدقہ واجب ہو فوراً ادا کرنا واجب نہیں ہے،( الشامیة: ۳/ ۶۵۱) البتہ جلدی ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔
بلا وضو طواف، تفصیل وحکم:
اگر پورا یا اکثر طوافِ زیارت بے وضو کیا تو دَم واجب ہوگا اور اگر طوافِ قدوم یا طوافِ وَداع یا طوافِ نفل پورا یا طوافِ زیارت نصف سے کم بلا وضو کیا تو ہر پھیرے کے لیے آدھا صاع صدقہ دے اور اگر تمام پھیروں کا صدقہ دَم کے برابر ہوجائے تو کچھ تھوڑا سا کم کردے اور اگر ان تمام صورتوں میں وضو کرکے طواف کا اعادہ کرلیا(اور بہتر بھی یہی ہے) تو کفارہ اور دَم ساقط ہوجائے گا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۱،۶۶۲۔ الغنیة: صـ: ۲۷۲)
جنابت یا حیض کی حالت میں طواف، تفصیل و حکم:
اگر پورا یا اکثر طوافِ زیارت جنابت یا حیض ونفاس کی حالت میں کیا تو ’’بد نہ‘‘ یعنی پورا ایک اونٹ یا پوری ایک گائے واجب ہوگی اور اگر طوافِ قدوم یا طوافِ وَداع یا طوافِ نفل کل یا اکثر یا طواف ِ زیارت نصف سے کم، ان میں سے کسی حالت میں کیا تو ایک بکری واجب ہوگی۔ طوافِ زیارت کے علاوہ باقی طوافوں کا کم حصہ جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں کر لینے سے ہر پھیرے کے لیے آدھا صاع صدقہ دینا ہی لازم ہے۔ دَم لازم نہیں اور ان سب صورتوں میں طہارت کے ساتھ دوبارہ طواف کرلینے سے کفارہ ساقط ہوجائے گا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۱،۶۶۲۔ الغنیة: صـ: ۲۷۲)
جب تک حرم میں ہو اعادہ افضل ہے:
جب تک مکہ میں ہے تو دم دینے کی بجائے اعادہ ہی افضل ہے، البتہ اگر اعادہ نہیں کیا اور حرم سے چلا آیا تو پھر دَم بھیجنا اور اسے حرم میں ذبح کرانا بہتر ہے۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۱،۶۶۲۔ الغنیة: صـ: ۲۷۲)
کپڑے یا بدن پر نجاست لگی ہو تو طواف:
اگر بدن یا کپڑے پر فرض یا واجب یا نفل طواف کرتے وقت نجاست لگی ہوئی تھی تو کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۷۷)
طواف عمرہ کا ایک چکر بھی بے وضو کیا تو دَم لازم ہے:
طوافِ عمرہ پورا یا اکثر یا اقل اگر چہ ایک ہی چکر ہو، اگر جنابت یا حیض ونفاس کی حالت میں یا بے وضو کیا تو دَم واجب ہوگا کیونکہ طوافِ عمرہ میں حدث اصغر و جنابت (وضو یا غسل کے بغیر ہونا) اور قلیل و کثیر کے احکام میں کچھ فرق نہیں۔ ہر صورت میں دم ہی لازم ہوتا ہے۔ الا یہ کہ اس طواف کا اعادہ کرلے تو پھر دم ساقط ہو جائے گا۔( الغنیة: صـ: ۲۷۶)
طواف زیارت کے بغیر بیوی حلال نہ ہوگی:
اگر طوافِ زیارت کے چار چکر یا پورا طواف چھوڑ دیا تو بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا اس وقت تک حرام ہو گا جب تک مکہ معظمہ واپس آکر طواف کی ادائیگی نہ کرے، اس کے علاوہ کوئی بدل دینا کافی نہ ہوگا۔ جب طوافِ زیارت کرلے گا تب عورت حلال ہوگی۔
طوافِ زیارت سے پہلے ہر جماع پر دَم لازم ہوگا:
اگر طوافِ زیارت سے پہلے جماع کرلے گا تو ہر جماع کے بدلے (جبکہ الگ الگ مجلس میں کیا ہو)ایک ایک دَم واجب ہوگا اور طواف کو بارہ ذی الحجہ سے مؤخر کرنے کی وجہ سے ایک دَم مزید واجب ہوگا۔
اِحرام ختم کرنے کی نیت سے ہم بستری:
طوافِ زیارت چھوڑ کر حرم سے نکلنے کے بعد اگر بیوی سے اس خیال سے جماع کیا کہ اس سے اِحرام ختم ہو جائے گا اور آگے پھر اِحرام کو ختم تصور کرکے جماع کرتا رہا تو اس سے متعدد دَم لازم نہیں ہوں گے، بلکہ تاخیر کی وجہ سے ایک ہی دَم لازم ہوگا۔ مگر اس کا اِحرام ختم نہیں ہوگا اور بیوی حلال نہ ہوگی، دوبارہ جا کر طواف کرنا لازم ہے۔( الشامیة: ۲/ ۵۱۹)
طواف نا مکمل چھوڑ دیا، تفصیل و حکم:
اگر طوافِ نفل یا طوافِ قدوم یا طوافِ وَداع کا ایک یا دو یا تین چکر چھوڑدیے تو ہر چکر کے بدلے پورا صدقہ واجب ہوگا اور اگر چار چکر یا زیادہ چھوڑدیے تو دَم واجب ہوگا اور طوافِ قدوم بالکل چھوڑنے کی وجہ سے کچھ واجب نہ ہوگا لیکن چھوڑنا مکروہ اور برا ہے، جبکہ نفلی طواف نہ کرنے میں گناہ نہیں اور طوافِ زیارت کا ایک، دو یاتین چکر چھوڑنے سے دَم واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۷۶)
سعی نا مکمل چھوڑ دی:
اگر پوری سعی یا سعی کے اکثر چکربلاعذر چھوڑ دے یا بلاعذر سوار ہو کر کرے تو حج ہوگیا، لیکن دَم واجب ہوگا اور پیدل اعادہ کرنے سے (اگرچہ حلال ہونے کے بعد کسی بھی وقت ہو) دَم ساقط ہوجائے گا اور اگر عذر کی وجہ سے سوار ہوکر سعی کی تو کچھ واجب نہ ہوگا اور اگر کسی عذر کے بغیر سعی کے ایک یا دو یا تین چکر چھوڑ دیے یا سوار ہو کر کیے تو ہر چکر کے بدلے صدقہ لازم ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۷۷)
سعی طواف سے پہلے کر لی:
سعی ہمیشہ طواف کے بعد ہی ہوتی ہے، اگر کسی نے عمرہ کی سعی طواف سے پہلے کر لی تو طواف کے بعد اس کا اعادہ لازم ہے، اگر اعادہ نہ کیا جائے تو سعی ترک کرنے کی وجہ سے دَم لازم آئے گا۔( الغنیة: صـ: ۲۷۷)
حج کی سعی کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر کسی نے کوئی نفل طواف کرنے کے بعد حج کی نیت سے سعی نہیں کی تھی اور اب طواف ِ زیارت سے پہلے سعی کرلی تو طواف کے بعد دوبارہ سعی کرے، اگر دوبارہ نہیں کی تو دَم لازم ہو گا۔ طوافِ زیارت کے بعد کسی بھی وقت سعی کی جاسکتی ہے، اگر چہ حلال ہونے کے بعد ہو یا عید کے دن گزرنے کے بعد ہو،( الغنیة: ص: ۲۷۸) البتہ عید کے دنوں سے تاخیر کرنے سے گناہ ہوگا۔
غروب سے پہلے عرفات سے نکل آیا:
اگر عرفات کی حدود سے غروب سے پہلے نکل گیا تو دَم واجب ہوگا، البتہ اگر غروب سے پہلے عرفات میں واپس آگیا تو دَم ساقط ہوجائے گا اور اگر غروب کے بعد آیا تو دَم ساقط نہ ہوگا۔( الشامیة: ۳/ ۶۶۴)
بلا عذر وقوفِ مزدلفہ نہیں کیا:
مزدلفہ میں نویں اور دسویں تاریخ کی درمیانی رات گزارنا سنت ہے اور صبح صادق ہوجانے کے بعد مزدلفہ میں تھوڑی سی دیر رہنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص عرفات سے سیدھا منیٰ کو چلا جائے تو سنت اور واجب دونوں کا چھوڑنا لازم آئے گا اور اگر رات کو مزدلفہ میں رہ کر صبح صادق سے پہلے منیٰ چلا جائے تو واجب چھوڑنا لازم آئے گا، دونوں صورتوں میں واجب چھوڑنے کی وجہ سے دَم واجب ہوگا۔ بہت سے لوگ مزدلفہ کی رات میں صبح صادق ہونے سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے ہی نمازِ فجر پڑھ کر منیٰ کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں، ان لوگوں پر نمازِ فجر چھوڑنے کا گناہ بھی ہوتا ہے (کیونکہ وقت سے پہلے نماز نہیں ہوتی) اور صبح صادق کے بعد وقوفِ مزدلفہ چھوڑدینے کی وجہ سے دَم بھی واجب ہوتا ہے۔
عذر سے وقوف نہیں کیا:
اگر کوئی شخص کسی معقول عذر کی بناء پر (مثلاً کمزوری، بیماری یا خاتون رَش کے خوف سے) مزدلفہ کا وقوف ترک کردے تو اس میں کوئی گناہ یا جزا لازم نہیں۔( الغنیة: ص: ۲۷۹)
رَمی ترک کردی یا نا مکمل چھوڑ دی:
دسویں تاریخ کو صرف ایک ہی جمرہ کی رَمی ہوتی ہے جبکہ 11، 12، 13 اور 13 کو رات منی میں قیام کی صورت میں 14 تاریخ کو تینوں جمرات کی رَمی ہوتی ہے۔ اگر چاروں دن کی رَمی بالکل چھوڑ دے یا ایک روز کی ساری رَمی نہ کرے، خواہ 10/ ذی الحجہ کی رَمی ہو یا اَگلی تاریخوں میں سے کسی تاریخ کی یا ایک روز کی رَمی میں سے اکثر چھوڑ دے، مثلاً: دسویں کی رَمی سے چار کنکریاں یا گیارہ، بارہ، تیرہ، تاریخ کی رَمی سے گیارہ کنکریاںچھوڑ دے تو سب صورتوں میں ایک ہی دَم واجب ہوگا اور اگر ایک دن کی رَمی سے اکثر سے کم مثلاً دسویں کو تین کنکریاں یا اس سے کم اور دوسرے دنوں میں دس کنکریاں یا اس سے کم چھوڑ دے تو ہر کنکری کے بدلے پورا صدقہ واجب ہوگا، البتہ اگر مجموعہ ایک دَم کے برابر ہوجائے تو کچھ کم کردے۔
14/ ذی الحجہ غروب سے پہلے رَمی قضاء کرلی:
رَمی بالکل چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ 14ذی الحجہ کے غروب ہونے سے پہلے پہلے اس کی قضا نہ کی جائے، اگر کسی دن رَمی چھوڑ دی لیکن دوسرے دن (یعنی ان چار دنوں کے اندر اندر) اس کی قضا کر لی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے دَم لازم ہے، احتیاط اسی قول پر عمل کرنے میں ہے، صاحبین کے نزدیک دم لازم نہیں، بوقت ِ ضرورت صاحبین کے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے، البتہ اگر دن کی رَمی مؤخر کر کے متصل آنے والی رات میں کر لی جائے تو کسی کے نزدیک بھی دم واجب نہیں۔( الغنیة: صـ: ۲۷۹)
رَمی میں نائب کب بنا سکتا ہے؟
جو شخص ایسا مریض ہو کہ کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکتا ہو یا چلنے سے معذور ہو یا خود چل کر رَمی کرنے کی صورت میں مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو اور اس کے لیے سواری یا کسی ایسے شخص کا انتظام نہیں ہوسکتا جو اسے اٹھاکر لے جائے اور رَمی کرادے تو ایسا شخص کسی کو نائب بنا کر اس سے رَمی کروا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ بھیڑ دیکھ کر تن آسانی کی وجہ سے یا جلدی سفر کرنے کی غرض سے دوسروں کو نائب بنادیتے ہیں، اسی طرح یہ رواج ہوگیا ہے کہ عورتوں کی طرف سے مرد ہی رَمی کردیتے ہیں، حالانکہ عورتیں مریض یا اپاہج نہیں ہوتیں۔ ان سب صورتوں میں جس کی طرف سے بھی نیابةً رَمی کی گئی اس پر دَم واجب ہوگیا۔ دسویں، گیارہویں اور بارہویں کی رَمی ان دنوں میں سے ہر دن کے بعد آنے والی رات میں صبح صادق تک ہوسکتی ہے۔ عورتیں، ضعیف لوگ اور بھیڑ سے گھبرانے والے رات کو رَمی کرلیں۔ رَمی ہر گز نہ چھوڑیں، جس کے لیے نائب بنانا جائز نہیں وہ اگر نائب بنادے گا اور خود رَمی نہ کرے گا تو یہ رَمی نہ کرنے کے مترادف ہوگا جس سے دَم واجب ہوگا۔( الشامیة: صـ: ۱۸۷،۱۸۸)
حرم سے باہر یا ایامِ نحر کے بعد سر منڈایا تو:
اگر عمرہ کے اِحرام سے نکلنے کے لیے حرم سے باہر سر منڈوایا، یا حج کے اِحرام سے نکلنےکے لیے حرم سے باہر سر منڈوایا، یا ایامِ نحر کے بعد سر منڈوایا تو ہر صورت میں دَم واجب ہوگا اور اگر حج میں ایامِ نحر کے بعد حرم سے باہر سر منڈوایا تو دو دَم واجب ہوں گے، ایک حرم سے باہر سر منڈوانے کا اور دوسرا تاخیر کا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۶)
حرم سے نکل گیا پھر واپس آ کر سر منڈایا:
عمرہ کرنے والا یا حج کرنے والا اگر حدودِ حرم سے نکل جائے اور پھر حرم میں واپس آکر سر منڈوائے تو کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن اگر حاجی ایام نحر کے بعد حرم میں آکر سر منڈوائے گا تو ایک دَم تاخیر کا واجب ہوگا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۶)
رَمی، قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے:
اگر مفرد، قارِن یا متمتع نے رَمی سے پہلے سر منڈوایا یا قارِن اور متمتع نے ذبح سے پہلے سر منڈوایا یا قارِن اور متمتع نے رَمی سے پہلے ذبح کیا تو دَم واجب ہوگا کیونکہ ان چیزوں میں ترتیب واجب ہے۔ مفرد کے لیے صرف رَمی اور سر منڈوانے میں ترتیب واجب ہے کیونکہ ذبح اس پر واجب نہیں، صرف مستحب ہے اور قارِن و متمتع پر تینوں (یعنی رَمی، ذبح اور سر منڈوانے) میں ترتیب واجب ہے۔ اوّل رَمی کریں، اس کے بعد ذبح کریں اور اس کے بعد سر منڈوائیں، اگر آگے پیچھے کردیا تو دَم واجب ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے دسویں تاریخ کی رَمی مراد ہے۔
ترتیب کا یہ مسئلہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ ﷲ تعالیٰ کے قول کے مطابق ہے اور فقہ حنفی میں یہی مفتی بہ چلا آرہا ہے، اس لیے حتی الامکان اسی پر عمل کرنا چاہیے۔
مگر ائمہ ثلاثہ اور صاحبین رحمہم اللہ تعالیٰ کے ہاں ترتیب مذکورہ واجب نہیں، آج کل فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد حج کے لیے جاتے ہیں، صرف پاکستان سے جانے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہوتی ہے۔ ہر شخص کے لیے خود قربانی کرنا ممکن نہیں ہوتا اور بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانے کی صورت میں قربانی ذبح ہونے کے وقت کا پتہ چلانا ممکن نہیں ہوتا۔ بالخصوص جبکہ سعودی علماء اور حکومت کے ہاں ترتیب واجب نہیں اور حنیفہ کے لیے ان کی طرف سے الگ سے کوئی انتظام نہیں۔
ایسی صورت میں ترتیب کو ہر حال میں واجب قرار دینے میں حرجِ شدید ہے، اس لیے بوقت ِ ضرورت ِ شدیدہ صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ وﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ اعلم
البتہ چونکہ طواف زیارت اور ان چیزوں میں ترتیب واجب نہیں، اس لیے اگر طواف زیارت ان اعمال سے پہلے کر لیا تو کچھ واجب نہ ہوگا‘ ہاں ایسا کرنا مکروہ ہے۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۶۸)
سلے ہوئے کپڑے سے کیا مراد ہے؟
مرد کے لیے اِحرام میں جو سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے، اس سے مراد ہر وہ کپڑا ہے جو پورے بدن کی ساخت یا کسی عضو کی ساخت پر بنایا جائے اور پورے بدن یا کسی عضو کا احاطہ کرے، چاہے سلائی کے ذریعے سے یہ صورت پیدا ہو یا کسی چیز سے چپکا کر یا بُنائی کے ذریعہ یا اور کسی طریقے سے۔
اِحرام کی حالت میں کرتہ، پائجامہ، اچکن، صدری، بنیان، پینٹ، ہاف پینٹ، انڈروئیر، یہ سب مرد کے لیے پہننا منع ہے۔
سلا ہوا کپڑا پہننے سے وجوبِ دَم کی تفصیل:
مرد نے اِحرام کی حالت میں سِلا ہوا کپڑا اسی طرح پہنا جس طرح اس کو عام طور سے پہنا جاتا ہے تو اگر پورا ایک دن یا ایک رات پہنا ہے تو دَم واجب ہوگا اور اس سے کم میں اگر چہ ایک گھنٹہ پہنا ہو نصف صاع صدقہ واجب ہوگا اور ایک گھنٹہ سے کم پہنا ہو تو ایک مٹھی گندم (یا اس کی قیمت) صدقہ دے دے اور اگر ایک روز سے زیادہ پہنے رہاتب بھی ایک ہی دَم ہے، اگر چہ کئی دن پہنے رہا ہو۔( الغنیة: صـ: ۲۵۰،۲۵۱)
سلا ہوا کپڑا پہننے میں دن یا رات کی مقدار مراد ہے:
ایک دن یا ایک رات سے مراد ایک دن یا رات کی مقدار ہے، چاہے پورا دن یا پوری رات نہ ہو، مثلاً: اگر کسی نے آدھے دن سے آدھی رات تک یا آدھی رات سے آدھے دن تک پہنا تب بھی دَم واجب ہوگا۔2 خوشبو کے بیان میں جو ایک دن یا ایک رات کا ذکر آرہا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے۔
سلا ہوا کپڑا پہننے سے بہر حال جزا لازم ہے:
حالت ِ اِحرام میں سلا ہوا کپڑا پہننے کا مذکور بالا حکم بہر حال ہے، یعنی بھول کر پہنے یا جان بوجھ کر، اپنی مرضی سے پہنے یا کسی کے مجبور کرنے سے، عذر کی وجہ سے پہنے یا بلا عذر، نیز سلے ہوئے کپڑے اِحرام باندھنے کے بعد پہن لیے ہوں یا پہنے ہوئے تھے، اسی حالت میں اِحرام کی نیت کر لی ہو تو جتنی دیر پہنے رکھے اس کے مطابق دَم یا صدقہ لازم ہوگا۔
وجوبِ دَم میں ایک کپڑا اور کئی کپڑے پہننے کی تفصیل:
مذکور بالا حکم اس وقت بھی ہے جب بدن کے کسی ایک حصے کا لباس پہن لے اور اس وقت بھی ہے جب بدن کے ایک سے زائد حصو ںپر یا پورے بدن پر لباس پہن لے، مثلاً سر پر ٹوپی، پائوں میں جوتی، قمیص شلوار، پگڑی سب پہن لے اور پہننے کی وجہ ایک ہی ہو تو بھی وہی حکم ہے جو ایک لباس پہننے میں ہے، یعنی ایک ہی دَم یا صدقہ لازم ہے، البتہ اگر متعدد حصوں میں لباس پہننے کی وجوہات بھی الگ الگ ہوں مثلاً ایک لباس کسی عذر کی بناء پر پہن لے اور دوسرا لباس ویسے بلا ضرورت پہن لے تو پھر ایک کی بجائے دو کفارے لازم ہوں گے۔
اسی طرح ایک مرتبہ لباس پہنے، پھر اتار دے، پھر دوبارہ نہ پہنے تو ایک ہی دم یا صدقہ لازم ہوگا، اسی طرح اگر اتارتے وقت دوبارہ پہننے کا ارادہ ہو، پھر دوبارہ پہن لے تو دوبارہ پہننے سے الگ کفارہ لازم نہیں ہو گا اور اگر اتارتے وقت عزم ہو کہ پھر نہیں پہنوں گا اور پھر دوبارہ پہن لیا تو دو کفارے لازم ہوں گے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۱،۲۵۲)
سلا ہوا کپڑا پہن کر دَم دے دیا:
سارادن یا ساری رات کپڑا پہن کر دَم دے دیا اور کپڑا اتارا نہیں بلکہ پہنے ہی رہا تودوسرا دَم دینا ہوگا(الغنیة: ص: ۲۵۳) اور اگر دَم نہیں دیا اور کئی روز پہن کر اتارا تو ایک ہی دَم واجب ہوگا۔
خوشبودار کپڑے سے دو دَم:
مرد پر سلا ہوا خوشبو دار کپڑا پہننے سے بھی دو دَم لازم ہیں، کیونکہ جرم دو ہیں۔( الغنیة: ص: ۲۵۳)
سلا ہوا کپڑا لپیٹ لیا:
اگر کرتہ کو چادر کی طرح لپیٹ لیا یا لنگی کی طرح باندھ لیا یا شلوار کو لپیٹ لیا تو کچھ واجب نہ ہوگا۔ سلے ہوئے کپڑے پہننے کا جو طریقہ ہے اس طرح پہننے سے جزا واجب ہوتی ہے۔
چوغہ یا قباء مونڈھوں پر ڈال لی اور بٹن نہیں لگائے اور نہ ہاتھ آستینوں میں ڈالے تو کچھ واجب نہ ہوگا،لیکن اس طرح پہننا مکروہ ہے اور اگر بٹن لگائے یا ہاتھ آستینوں میں ڈال لیے تو ایک دن یا ایک رات پہننے کی صورت میں دَم اور اس سے کم میں صدقہ واجب ہوگا۔
چادر کو رسی وغیرہ سے باندھنے سے کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۳،۲۵۴)
چادر درمیان سے سلی ہو:
چادر یا لنگی اگر درمیان سے سلی ہوئی ہو تو جائز ہے، مگر افضل یہ ہے کہ اِحرام کا کپڑا بالکل سِلا ہوا نہ ہو۔
بیلٹ باندھنا:
پاسپورٹ یارقم کی حفاظت کے لیے بیلٹ باندھنا جائز ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۳،۲۵۴)
کمبل یا لحاف اوڑھنا:
اِحرام میں کمبل، لحاف اور چادر استعمال کرنا درست ہے، مگر سر اور چہرہ ڈھانپنا جائز نہیں۔
موزے اور جوتا:
موزے اور جوتا پہننا اِحرام میں منع ہے۔ اگر ہوائی چپل نہ ہوں تو ان کو قدم کے درمیان کی ابھری ہوئی ہڈی کے نیچے سے کاٹ کر پہننا جائز ہے، ایسا کرنے سے کوئی جزا واجب نہ ہوگی۔ اگر کاٹے بغیر ایسا جوتا یاموزہ پہنا جو بیچ قدم کی ہڈی تک کو ڈھانک لے تو ایک دن یا ایک رات پہننے سے دَم واجب ہوگا اور اس سے کم میں صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۵۳،۲۵۴)
عورت کو سلا ہوا کپڑا پہننا:
عورت کے لیے چونکہ سِلا ہوا کپڑا پہننا اِحرام میں جائز ہے، اس لیے اس کے پہننے سے اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا۔( الغنیة: صـ: ۲۵۳،۲۵۴)
ایک محرم نے دوسرے محرم کو کپڑا پہنا دیا:
اگر ایک محرم نے دوسرے محرم کو کپڑا پہنادیا، یا خوشبو لگادی تو پہنانے والے اور خوشبو لگانے والے پر جزا تو نہیں، مگر ایسا کرنا حرام ہے، اسے سخت گناہ ہوگا اور جزاء پہننے والے اور خوشبو جس کے بدن یا کپڑے پر لگی ہے اس پر واجب ہوگی۔ (الغنیة: صـ: ۲۵۰)
سر اور چہرہ ڈھانکنا:
مرد کو اِحرام میں سر اور منہ دونوں ڈھانکنا منع ہے اور عورت کے لیے صرف چہرہ ڈھانکنا منع ہے، اگر مرد نے اِحرام کی حالت میں سارا سر یا سارا چہرہ یا چوتھائی سر یا چوتھائی چہرہ کسی ایسی چیز سے ڈھانکا جس سے عادةً ڈھانکتے ہیں، جیسے: عمامہ، ٹوپی یا اور کوئی کپڑا سلا ہوا یا بغیر سلا سوتے میں یا جاگتے میں، قصداً ہو یا بھول کر، خوشی سے ہو یا زبردستی سے، خود ڈھانکا ہو یا کسی دوسرے نے ڈھانک دیا ہو، عذر سے ہو یا بلاعذر، بہر صورت جزا واجب ہوگی۔
اگر ایک دن یا ایک رات مکمل یا اس سے زیادہ سر یا چہرہ یا ان کا چوتھائی حصہ ڈھانکا یا عورت نے پورا چہرہ یا چوتھائی چہرہ ڈھانکا تو ایک دَم واجب ہوگا اور اگر چوتھائی حصہ سے کم ڈھانکا یا ایک دن یا ایک رات سے کم ڈھانکا تو صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۵۴)
کپڑے کے سوا کسی چیز سے سر ڈھانک لیا:
اگر سر کو ایسی چیز سے ڈھانکا جس سے ڈھانکنے کی عام عادت اور معمول نہیں ہے (جیسے: طشت، ٹوکرا، پتھر، ڈھیلا، لوہا، تانبا، پیتل، چاندی، سونا، لکڑی، شیشہ وغیرہ) تو اس سے کچھ واجب نہ ہوگا، پورا سر اور چہرہ چھپایا ہو یا اس سے کم، سردی یا گرمی سے بچائو کے لیے چھپایا ہو یا ویسے چھپایا ہو۔( الغنیة: صـ: ۲۵۵)
سر یا چہرے پر پٹی لگانے کا حکم:
سر اور چہرے پر دوا کی غرض سے پٹی لگانے کا حکم یہ ہے کہ چوتھائی حصہ سے کم پر ہو یا ایک دن یا رات کے دورانیے سے کم ہو تو صدقہ (سوا دو کلو گندم یا قیمت) لازم ہے، اگر ایک چوتھائی یا اس سے زائد حصے پر ہو اور ایک دن یا اس سے زائد وقت گزر جائے تو دَم لازم ہو گا۔
البتہ مرد کے لیے سر اور چہرے کے سوا اور عورت کے لیے چہرے کے سوا بدن کے کسی دوسرے حصے پر پٹی باندھنے کی گنجائش ہے، اگرچہ مکروہ ہونے کی وجہ سے حتی الوسع اس سے بھی اِجتناب کرنا چاہیے۔( الغنیة: ص: ۲۵۴)
کان، گردن ڈھانکنے کا حکم:
کان، گردن اور داڑھی کا وہ حصہ جو ٹھوڑی سے نیچے ہو چھپانے یا چہرے اور سر پر ہاتھ رکھنے میں نہ گناہ ہے نہ اس سے کوئی صدقہ وغیرہ لازم ہوتا ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۵)
غلافِ کعبہ سے سر چھپا لیا:
غلافِ کعبہ کے نیچے سر دینے کی صورت میں اگر غلاف سر یا چہرہ پر لگے تو ایسا کرنا مکروہ ہے، مگر اس میں کوئی جزاء لازم نہیں اور اگر سر اور چہرہ سے الگ رہے تو مکروہ بھی نہیں۔( الغنیة: ص: ۲۵۵)
بال مونڈنا اور کترنا:
اگر محرم نے اِحرام کھولنے کے وقت سے پہلے چوتھائی سریا چوتھائی ڈاڑھی یا اس سے زیادہ کے بال منڈوا یا کتروا لیے تو دَم واجب ہوگااور اس سے کم میں (جب تین بال یا اس سے زیادہ ہوں) صدقہ واجب ہوگا۔ صدقہ کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
عورت نے چوتھائی سر کے بال کتروالیے:
عورت نے اگر حلال ہونے کے وقت سے پہلے ایک انگل کے برابر چوتھائی سر یا اس سے زیادہ کے بال کتروائے یا منڈوائے تو دَم واجب ہوگا اور چوتھائی سے کم میں صدقہ۔( الغنیة: صـ: ۲۵۶)
گردن یا بغل وغیرہ کے بال صاف کر لیے:
تمام گردن یا ایک پوری بغل یا زیر ناف سے بال صاف کرنے سے دَم واجب ہوگا اور اس سے کم (اگرچہ چوتھائی حصہ سے زائد ہو) میں صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۵۷)
سینہ وغیرہ کے بالوں کا حکم:
پورا سینہ، پوری ران یا پوری پنڈلی یا بازو کے بال منڈوائے یا دونوں مونچھیں تو صرف صدقہ ہے۔( الغنیة: ص: ۲۵۷)
ایک مجلس اور متعدد مجالس کا فرق:
ایک مجلس میں سر، ڈاڑھی اور دونوں بغلوں یا تمام بدن کے بال منڈوائے تو ایک ہی دَم واجب ہوگا اور اگر ان حصوں کے بال مختلف مجلسوں میں منڈوائے تو ہر مجلس کا علیحدہ حکم ہوگا اور ہر ایک کی مستقل جزا ء لازم ہوگی۔( الغنیة: صـ: ۲۵۶)
ایک کا دَم دے کر پھر دوسرے حصے کے بال صاف کر دیے:
سر منڈوایا اور دَم دیدیا اور اس کے بعد خدانخواستہ ڈاڑھی منڈوائی تو دوسرا دَم واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۵۶)
چار مجلسوں میں سر کا ایک ایک حصہ منڈوایا:
اگر چار مجلسوں میں چوتھائی چوتھائی سر منڈوایا اور بیچ میں کفارہ نہیں دیا تو ایک ہی دَم واجب ہوگا۔اگر ہر دو کے بیچ میں کفارہ دیا یا الگ الگ دنوں میں ایک ایک حصہ منڈایا تو پھر چار دَم لازم ہوں گے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۶)
متفرق جگہوں سے سر منڈوایا:
متفرق جگہ سے تھوڑا تھوڑا سر منڈایا تو اگر سب جگہ کا مجموعہ چوتھائی سر کے برابر ہوجائے تو دَم ورنہ صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۵۷)
بال جل گئے یا گر گئے:
روٹی پکاتے ہوے تین بال جل گئے تو ایک مٹھی گیہوں صدقہ دیدے اور اگر مرض کی وجہ سے گر گئے یا سوتے ہوئے جل گئے تو کچھ واجب نہیں۔
اگر وضو کرتے ہوئے یا خلال کرتے ہوئے سر یا ڈاڑھی کے تین بال گر گئے تو ایک مٹھی گندم صدقہ دے دے اور اگر خود اکھاڑے تو ہر بال کے بدلے ایک مٹھی گندم صدقہ دے دے اور اگر تین بال سے زائد (چوتھائی سر یا ڈاڑھی سے کم) اکھاڑے تو آدھا صاع صدقہ کرنا واجب ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۵۸)
دوسرے محرم کا سر مونڈ دیا:
محرم نے اگر دوسرے محرم کا چوتھائی سر مونڈ دیا تو مونڈنے والے پر صدقہ اور منڈانے والے پر دَم واجب ہے۔
اگر مُحرم کسی غیر مُحرم کا سر مونڈے تو غیر مُحرم پر کچھ نہیں، محرم کو نصف صاع گندم صدقہ دینا چاہیے، اگر کچھ تھوڑا سا صدقہ دے دے تو بھی گنجائش ہے اور اگر غیر مُحرم نے مُحرم کا سر مونڈا تو مُحرم پر دَم واجب ہے اور غیر مُحرم پر مکمل صدقہ یعنی نصف صاع گندم واجب ہے۔( الغنیة: ص: ۲۵۸)
محرم یا حلال کی مونچھ مونڈ دی:
محرم نے اگر محرم یا غیر محرم کی مونچھ مونڈی یا کتری یا ناخن کاٹا تو کچھ (جتنا چاہے) صدقہ کردے۔( الغنیة: ص: ۲۵۹)
بال جیسے بھی صاف کیے جزا لازم ہے:
بال منڈوانا، کتروانا، اکھاڑنا، بال صفاکریم یا پائوڈر سے ختم کرنا، جلانا، ہاتھ لگانے کی وجہ سے بال گرنا سب کا ایک ہی حکم ہے، جزا میں کچھ فرق نہیں۔( الغنیة: ص: ۲۵۷)
محرم پر بہر حال جزا لازم ہے:
خود بال مونڈے یا دوسرے سے منڈوائے، زبردستی سے یا خوشی سے، قصداً یا بھول کر، سب صورتوں میں جزا واجب ہوگی۔( الغنیة: ص: ۲۵۵)
بال ہی چوتھائی سر سے کم ہوں تو؟
اگر کسی کے سر یا داڑھی کے سارے بال سر اور داڑھی کی جگہ کی چوتھائی سے کم ہوں تو ایسے شخص پر بال ہٹانے کی وجہ سے صرف سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ دینا لازم ہے، دَم نہیں، البتہ اگر چوتھائی یا اس سے زیادہ ہوں تو پھر دَم لازم ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۶)
مونچھیں مونڈنے سے صرف صدقہ:
مونچھیں، داڑھی کے ساتھ مل کر ایک عضو شمار ہوتی ہیں، لہٰذا پوری مونچھیں کاٹنے سے صرف صدقہ لازم ہوتا ہے کیونکہ یہ داڑھی اور مونچھوں کے مجموعہ کی ایک چوتھائی نہیں بنتیں۔( الغنیة: ص: ۲۵۷)
ناخن کاٹنا:
اگر ایک ہاتھ یا ایک پائوں یا دونوں ہاتھ یا دونوں پائوں یا چاروں ہاتھ پائوں کے ناخن ایک مجلس میں کاٹے تو ہر صورت میں ایک دَم لازم ہوگا اور اگر چاروں اعضاء کے ناخن چار مجلسوں میں کاٹے تو چاردَم لازم ہوں گے۔ اسی طرح اگر ایک مجلس میں ایک ہاتھ کے ناخن کاٹے اور دوسری مجلس میں دوسرے ہاتھ کے کاٹے تو دو دَم لازم ہوں گے۔( الغنیة: ص: ۲۵۹)
فائدہ:
جب متعدد مجالس میں مختلف اعضاء کے ناخن کاٹے تو بہر حال متعدد دَم لازم ہوں گے، درمیان میں دَم کی ادائیگی کرے یا سب سے آخر میں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔
ہر ہاتھ پاؤں کے چار چار ناخن کاٹ لئے:
اگر پانچ ناخن سے کم کاٹے یا پانچ ناخن متفرق کاٹے، مثلاً: دو ایک ہاتھ کے اور تین دوسرے کے یا سولہ ناخن اس طرح کاٹے کہ ہر ہاتھ اور ہر پائوں کے چار ناخن کاٹ دیے تو تینوں صورتوں میں ہر ناخن کے بدلے پورا صدقہ (نصف صاع گندم) واجب ہوگا، لیکن اگر سب ناخنوں کا صدقہ دَم کی قیمت کے برابر ہوجائے تو کچھ کم کردے تاکہ دَم کی قیمت سے کم ہوجائے اور قلیل وکثیر کا ایک حکم نہ ہو۔( الغنیة: ص: ۲۵۹،۲۶۰)
فائدہ:
کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دَم کی جو قیمت بنتی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ سوا دو کلو گندم کی قیمت تک کم کر سکتا ہے، اس سے زیادہ کم نہیں کر سکتا۔( الغنیة: ص: ۲۶۰)
ٹوٹا ہوا ناخن کاٹنا:
ٹوٹے ہوئے ناخن کو کاٹنے سے کچھ واجب نہ ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۶۰)
محرم یا غیر محرم نے دوسرے کے ناخن کاٹ دیے:
اگر کسی محرم نے دوسرے محرم یا غیر محرم کے ناخن کاٹ دیے تو کاٹنے والے محرم پر صرف صدقہ لازم ہے، اسی طرح اگر غیر محرم محرم کے ناخن کاٹ لے تو بھی یہی حکم ہے کہ کاٹنے والے غیر محرم پر صرف صدقہ لازم ہے، البتہ جس کے ناخن کاٹے گئے ہیں وہ اگرحالت ِ اِحرام میں ہے تو مذکور بالا تفصیل کے مطابق کفارہ (دم وغیرہ) لازم ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۶۰)
خوشبو سے مراد اور لگنے کا مطلب:
خوشبو ہر وہ چیز ہے جس سے اچھی بو آتی ہو اور اس کو خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو یا اس سے خوشبو تیار کی جاتی ہو اور اہل عقل اس کو خوشبو شمار کرتے ہوں، جیسے: مشک، کافور، عنبر، صندل، گلاب، زعفران، حنا، لوبان، بنفشہ، بیلا، نرگس، تل کا تیل، زیتون کا تیل، عود، ایسنس اور دیگر عطریات و خوشبو دار چیزیں۔ خوشبو لگانے سے مراد بدن یا کپڑے پر خوشبو کا اس طرح لگ جانا ہے کہ بدن اور کپڑے سے خوشبو آنے لگے، اگر چہ خوشبو کا کوئی جزء اس پر لگا ہوا نظر نہ آئے۔( الغنیة: ص: ۲۴۲،۲۴۳)
خوشبو سونگھنا:
خوشبو، پھول اور خوشبو دار پھل سونگھنے سے کوئی جزا واجب نہیں ہوتی، لیکن سونگھنا مکروہ ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۳)
خوشبو کا ہر استعمال ممنوع ہے:
محرم (مرد ہو یا عورت) کے لیے خوشبو کا استعمال بدن، لنگی، چادر، بستر اور سب کپڑوں میں ممنوع ہے۔ اسی طرح خوشبو دار خضاب یا دوا یاتیل لگانا یا کسی خوشبودار چیز سے بدن اور بالوں کو دھونا اور خوشبو کھانا پینا سب ممنوع ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۴۳)
بدن میں خوشبو کے استعمال اور جزا کی تفصیل:
عاقل بالغ محرم نے کسی بڑے عضو، جیسے: سر، پنڈلی، ڈاڑھی، ران، ہاتھ یا ہتھیلی پرخوشبو لگائی یا ایک عضو سے زیادہ پر لگائی تو دَم واجب ہوگا،( الغنیة: ص: ۲۴۳،۲۴۴) اگر چہ لگاتے ہی فوراً دھودی ہو اور اگر پورے بڑے عضو پر نہیں لگائی بلکہ تھوڑے پر یا اکثر حصے پر لگائی یا کسی چھوٹے عضو، جیسے: ناک، کان، آنکھ، انگلی یا مونچھ پر لگائی تو صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۴۳،۲۴۴)
زیادہ خوشبو لگادی:
عضو کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار اس وقت ہے جب خوشبو تھوڑی ہو۔ اگر خوشبو زیادہ ہو تو اگر بڑے عضو کے تھوڑے حصہ پر یا چھوٹے عضو پر لگائے گا تب بھی دَم واجب ہوگا اور تھوڑی یا زیادہ کے بارے میں عرف پر مدار ہوگا، جس کو عرف میں زیادہ سمجھا جائے وہ زیادہ ہوگی اور جس کو تھوڑا سمجھا جائے وہ تھوڑی ہوگی اور اگر کوئی عرف نہ ہو تو جس کو دیکھنے والا یا خود لگانے والا زیادہ سمجھے وہ زیادہ ہے اور جس کو وہ کم سمجھے وہ کم ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۵)
ایک ہی مجلس میں زیادہ اعضاء پر خوشبو لگائی:
اگر ایک ہی مجلس میں پورے بدن پر خوشبو لگائی، کم ہو یا زیادہ، تو ایک ہی دَم لازم ہوگا، اگر مختلف مجالس میں خوشبو لگائی تو ہر ہر مرتبہ کا حکم الگ الگ ہوگا۔ بڑے عضو پر لگانے سے دم اور چھوٹے عضو پر لگانے سے صدقہ لازم ہوگا۔ ایک مرتبہ خوشبو استعمال کرنے کے بعد مقررہ کفارہ کی ادائیگی کرنے کے بعد پھر کسی جگہ پر خوشبو لگائے تو اس کے لیے الگ کفارہ لازم ہوگا۔( الغنیة: ص: ۱۳۱)
متفرق مواضع پر خوشبو لگائی:
اگر بدن کے متفرق مواضع پر خوشبو لگائی تو اگر خوشبو زیادہ ہے تو پھر بہر حال ہر عضو کےبدلے دم لازم ہے اور اگر خوشبو کم ہے تو پھر جتنی جگہوں پر خوشبو لگائی ہے، سوچ کر ان جگہوں کو ذہن میں جمع کر لے، اگر مجموعہ کسی بڑے عضو مثلاً ہتھیلی کے برابر بنتا ہو تو پھر دَم دینا لازم ہے، اس سے کم بنتا ہو تو صدقہ دینا لازم ہے۔( الغنیة: ص: ۱۳۱)
خوشبو کی شیشی کو ہاتھ لگایا:
خوشبو دار بوتل یا کسی دوسری چیز کو محض ہاتھ لگانے سے کچھ لازم نہیں ہوتا، البتہ اگر اس سے بدن پر خوشبو لگے تو پھر اگر خوشبو کم ہے تو صدقہ، زیادہ ہے تو دَم لازم ہوگا۔( الغنیة: ص: ۱۳۱)
کپڑے میں خوشبو کے استعمال و جزا کی تفصیل:
کپڑے میں خوشبو لگائی یا خوشبو لگاہوا کپڑا پہن لیا تو اگر ایک مربع بالشت (یعنی ایک بالشت لمبائی چوڑائی) میں خوشبو لگی ہے اور پورا دن رات لگی رہی تو مکمل صدقہ واجب ہوگا اور ایک دن رات سے کم وقت لگی رہی تو ایک مٹھی گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے اور اگر ایک مربع بالشت سے زیادہ پر خوشبو لگی ہو اور اس کو ایک دن مکمل یا ایک رات مکمل پہنے رہا تودَم واجب ہوگا اور اگر پورا ایک دن یا ایک رات نہیں پہنا تو مکمل صدقہ واجب ہوگا۔ یہ اس وقت ہے جبکہ خوشبو زیادہ نہ ہو اور اگر خوشبو زیادہ ہوگی تو دَم واجب ہوگا، اگر چہ ایک بالشت سے کم ہو۔( الغنیة: ص: ۲۴۵)
سلا ہوا خوشبو دار کپڑا پہن لیا:
اگر خوشبو لگاہوا کپڑا ایسا سِلا ہوا تھا جو محرم کو پہننا منع ہے تو اس صورت میں دو جنایتیں شمار ہوں گی۔ ایک خوشبو کی اور ایک سلاہوا کپڑا پہننے کی، اس لیے دو جزائیں واجب ہوں گی۔( الغنیة: ص: ۲۵۳)
خوشبو دار بستر پر لیٹ گیا:
خوشبو دار بستر وغیرہ پر لیٹنے یا تکیہ پر ٹیک لگانے میں بھی بعض علماء نے یہی احکام لکھے ہیں جو اوپر ذکر ہوئے لیکن بعض دوسرے اہل علم نے اسے صرف مکروہ لکھا ہے،( الغنیة: ص: ۲۴۶) لہٰذا اگر دم دینے میں دِقت ہو تو اس دوسرے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
خوشبو کپڑے میں سما گئی:
کسی نے کمرے میں بخور جلا رکھی تھی، اس کمرے میں جانے یا خوشبو کی دکان پر جانے سے کپڑے میں خوشبو سما جائے لیکن خوشبو خود کپڑے پر نہ لگے تو اس سے کچھ لازم نہیں۔( الشامیة: ۳/ ۵۶۸)
کھانے میں خوشبو کا استعمال، تفصیل و حکم:
اگر بہت سی خوشبو کھائی، یعنی اتنی کہ منہ کے اکثر حصہ میں لگ گئی تو دَم واجب ہوگا اور اگر تھوڑی کھائی، یعنی منہ کے اکثر حصہ میں نہ لگی تو صدقہ واجب ہے۔ یہ اس وقت ہے جبکہ خالص خوشبو کھائے اور اگر اس کو کسی کھانے میں ڈال کر پکایا تو کچھ واجب نہیں، اگر چہ خوشبو کی چیز غالب ہو اور خوشبو بھی آئے اور اگر خوشبو کسی ایسی چیز میں ڈالی جو بغیر پکائے کھائی پی جاتی ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر خوشبو کی چیز غالب ہے تو دَم واجب ہے اگر چہ خوشبو بھی نہ آرہی ہو اور اگر مغلوب ہے تو دَم یا صدقہ نہیں، اگر چہ خوشبو خوب آرہی ہو لیکن مکروہ ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۶،۲۴۷)
لہٰذا دار چینی، گرم مصالحہ وغیرہ کھانے میں ڈال کر پکانا اور کھانا جائز ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۶)
مشروب میں خوشبو کا استعمال:
پینے کی چیز میں مثلاً: چائے وغیرہ میں خوشبو ملائی تو اگر خوشبو غالب ہے تو دَم ہے اور اگر مغلوب ہے تو صدقہ ہے لیکن اگر کئی مرتبہ پیا تو اگر ایک ہی مجلس میں پیا تو دَم واجب ہے۔ اگر متعدد مجلسوں میں پیے تو ہر بار کے لیے صدقہ دینا لازم ہے، دَم واجب نہ ہوگا۔ پینے کی چیز کو خوشبو ڈال کر پکائے، یا بغیر پکائے خوشبو ملادی گئی ہو، بہر صورت جزا واجب ہوتی ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۷)
لیمن سوڈا یا ایسا شربت جس میں خوشبو نہ ملائی گئی ہو اِحرام کی حالت میں پینا جائز ہے اور جس بوتل میں خوشبو ملی ہوئی ہو، اگر چہ برائے نام ہو وہ اگر پی لی جائے تو صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۴۷)
زیتون یا تل کا تیل:
زیتون یا تل کا خالص تیل اگر بڑے عضو یا اس سے زیادہ پر تیل یا خوشبو کے طور پر لگایا تو دَم واجب ہے اور اگر اس سے کم پر لگایا تو صدقہ واجب ہے اور اگر اس کو کھالیا یا دوا کے طور پر لگایا تو کچھ بھی واجب نہیں۔( الغنیة: ص: ۲۴۸)
بطورِ دواء تیل کا استعمال:
زیتون یا تل کا تیل زخم پر یا ہاتھ پاؤں کی پھٹی ہوئی جگہوں پر لگایا یا ناک کان میں ٹپکایا تو نہ دَم ہے نہ صدقہ۔( الغنیة: ص: ۲۴۸)
خوشبو دار تیل کا استعمال:
تِل یا زیتون کے تیل میں اگر خوشبو ملی ہوئی ہے جیسے: گلاب اور چنبیلی وغیرہ کے پھول ڈال دیے جاتے ہیں اور اس کو روغن گلاب یا چنبیلی کہتے ہیں یا کوئی اور خوشبو دار تیل اگر ایک بڑے عضو کامل پر لگایا جائے گا تو دَم اور اس سے کم میں صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: صـ: ۲۴۸،۲۴۹)
فائدہ:
زیتون اور تل کا تیل اگر خالص پکایا گیا ہو تو بھی مذکورہ بالا حکم ہے، نیز بادام اور زرد آلو کے تیل کا استعمال بھی ممنوع ہے، البتہ اس کے سوا دوسرے تیل کا استعمال بہر حال جائز ہے،( الغنیة: ص: ۲۴۹) بشرطیکہ خوشبودار نہ ہو۔
خوشبو دار سرمہ کا استعمال:
غیر خوشبودار سرمہ لگانا جائز ہے اور اگر خوشبو دار ہو تو اس کے لگانے سے صدقہ واجب ہوگا، لیکن اگر دو مرتبہ سے زیادہ لگایا تو دَم واجب ہوگا، خواہ سرمہ میں خوشبو کی مقدار کم ہو یا زیادہ۔( الغنیة: ص: ۲۴۹)
چوتھائی سر میں مہندی کا استعمال:
اگر سارے یا چوتھائی سر پر مہندی لگائی اور مہندی پانی کی طرح پتلی ہو، گاڑھی نہ ہو تو ایک دَم واجب ہوگا او راگر گاڑھی ہو تو دو دَم واجب ہوں گے، بشرطیکہ ایک دن یا ایک رات لگائے رکھا ہو۔ ایک دَم خوشبو لگانے کی وجہ سے اور دوسرا سر ڈھانکنے کی وجہ سے۔ یہ حکم مرد کے لیے ہے، عورت پر ایک ہی دَم واجب ہوگا کیونکہ اس کے لیے سر ڈھانکنا ممنوع نہیں ۔ (الغنیة: ص: ۲۵۰)
چوتھائی سر سے کم مہندی لگانا:
اگر چوتھائی سر سے کم پر گاڑھی مہندی لگائی جس سے بال چھپ گئے اور ایک دن یا رات کے بقدر وقت گزر گیا تو اس صورت میں خوشبو لگانے کی وجہ سے دم لازم ہے، جبکہ چوتھائی سے کم سر چھپانے کی وجہ سے صدقہ بھی لازم ہے۔( الغنیة: صـ: ۲۵۰)
ڈاڑھی یا ہتھیلی پر مہندی لگانا:
ساری ڈاڑھی یا ہتھیلی پر مہندی لگانے سے بھی دَم واجب ہوتا ہے، البتہ اس سے کم پر (اگر چہ اکثر حصہ ہو) مہندی لگانے سے صدقہ لازم ہوتا ہے۔( الغنیة: ص: ۲۵۰)
خضاب لگانا:
بالوں کو رنگنے کی غرض سے جو خضاب اور رنگ استعمال ہوتا ہے اگر اس میں خوشبو ہے تو اس کا حکم بھی یہی ہے جو مہندی کے مسئلہ میں ذکر ہوا، البتہ اگر اس میں خوشبو نہ ہو تو پھر گاڑھا (جس سے سر کے بال چھپ جائیں) جب پورے سر یا کم اَز کم ایک چوتھائی پر لگایا جائے اور ایک دن یا رات کے بقدر باقی رہے تو دَم لازم ہے، ورنہ کچھ بھی لازم نہیں۔( الغنیة: ص: ۲۵۰)
اگر درد سر کی وجہ سے خضاب لگایا تب بھی صدقہ واجب ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۵۰)
قصداً خوشبو سونگھنا:
عطر والے کی دکان پر بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ سونگھنے کی نیت سے بیٹھنا مکروہ ہے۔( الغنیة: ص: ۲۴۵)
ایک محرم کا دوسرے کو خوشبو لگانا:
اگر ایک محرم دوسرے محرم کو خوشبو لگائے تو لگانے والے پر کوئی جزا نہیں، لگوانے والے پر جزا ہے، لیکن لگانے والے کے لیے یہ حرام ہے کہ محرم کے بدن یا کپڑے کو خوشبو لگائے۔(غنیة: صـ ۲۵۰)
خوشبو لگ جائے تو ؟
محرم کے بدن یا کپڑے میں خوشبو لگ جائے تو اس کو فوراً بدن اور کپڑے سے زائل کرنا واجب ہے۔ اگر کفارہ دے دیا اور خوشبو زائل نہیں کی تو دوسری جزا واجب ہوجائے گی۔ یہ خوشبو اگر کوئی غیر محرم شخص موجود ہو تو اس سے دھلوائے، خود نہ دھوئے یا خود پانی بہادے اور اس کو ہاتھ نہ لگائے تاکہ دھوتے ہوئے خوشبو کا استعمال نہ ہو۔تاہم اگر کوئی اور موجود نہ ہو اور صرف پانی بہانے سے خوشبو زائل نہ ہوتی ہو تو ایسی صورت میں کم سے کم انگلیوں کا استعمال کرے اور اس کی وجہ سے صدقہ بھی دے۔
عذر سے اور بلا عذر جنایت کے حکم میں فرق:
کسی عذر اور مجبوری سے خوشبو استعمال کرلی یا مرد نے سلا ہوا کپڑا پہنا، یا سر یا چہرہ ڈھانکا یا بال کاٹے یا ناخن تراشے (مرد ہو یاعورت) تو بھی جزا واجب ہوگی، لیکن بغیر عذر ان میں سے کسی جنایت کے ارتکاب کرنے اور عذر کی وجہ سے کرنے میں فرق ہے۔ عذر کے بغیر کیا تو دَم یا صدقہ اس تفصیل کے ساتھ واجب ہے جو گزر چکی ہے اور اس صورت میں روزے نہیں رکھے جاسکتے، اگر مرتے دم تک نہ کر سکا تو وصیت کرنا لازم ہے اور حالت ِعذر میں یہ آسانی ہے کہ جن صورتوں میں دَم واجب ہوتا ہے ان میں یہ بھی اختیار ہے کہ دَم دیدے یا تین صاع گندم چھ مسکینوں کو دیدے یا تین روزے رکھ لے، اگر چہ مالدار ہو اور جن صورتوں میں صدقہ واجب ہے ان میں حالت ِعذر میں اختیار ہے کہ ایک دن روزہ رکھ لے یا صدقہ دے دے۔( الغنیة: ص: ۲۶۱،۲۶۲)
فائدہ: یہ تین صاع چھ مساکین کو دینا لازم ہے، کم زیادہ کو نہیں دیا جا سکتا، نیز ہر مسکین کو سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت دینا ضروری ہے۔یہ صدقہ کہیں بھی دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح یہ تین روزے کہیں بھی رکھے جا سکتے ہیں، نیز مسلسل اور وقفہ وقفہ سے رکھنا دونوں طرح درست ہے۔
البتہ دم صرف حرم میں دیا جا سکتا ہے، اس کا سارا گوشت بھی صرف فقراء ہی میں تقسیم کرنا لازم ہے۔( الغنیة: ص: ۲۶۱،۲۶۲)
کون سے اعذار معتبر ہیں؟
ہر قسم کا بخار، سخت سردی، سخت گرمی، زخم، پھوڑا پھنسی، پورے سر یا آدھے سر کا درد، سر میں جوئوں کی کثرت، زخم کے ارد گرد کے بال مونڈنے کی ضرورت، یہ سب عذر میں داخل ہیں۔( الغنیة: ص: ۲۶۱)
کون سے اعذار معتبر نہیں؟
بھول، غلطی، بے ہوشی، کسی انسان کی طرف سے مجبور کیا جانا، نیند، دَم یا صدقہ پر قادر نہ ہونا، یہ سب چیزیں عذر میں شامل نہیں ہیں، لہٰذا ان صورتوں میں اگر اِحرام کی کسی ممنوع چیز کا ارتکاب ہو جائے تو دَم یا صدقہ ہی لازم ہے،( الشامیة: ۳/ ۶۷۱) روزے وغیرہ کی اجازت نہیں۔
بوس وکنار یا جماع کرنا:
حج یا عمرہ کا اِحرام جب تک اصول شریعت کے مطابق ختم نہ ہوجائے اس وقت تک میاں بیوی والے تعلقات یعنی جماع کرنا، بوس و کنار کرنا، شہوت سے چھونا حرام ہے۔
جماع سے حج فاسد ہو گیا تو ؟
اگر کسی محرم نے جماع کیا، قصداً ہو یا بھول کر، انزال ہو یا نہ ہو اور وقوفِ عرفہ سے پہلے ایسا کرلیا تو حج فاسد ہوگیا اور دونوں میں سے جو بھی اِحرام میں تھا اس پر ایک دَم واجب ہوگیا اور اگر دونوں محرم تھے تو دونوں پر ایک ایک دَم واجب ہوگیا اور باوجود اس کے کہ حج فاسد ہوگیا پھر بھی افعالِ حج صحیح حج کی طرح ادا کرنے ہوں گے اور اِحرام کے ممنوعات سے بچنا بھی لازم ہوگا۔ اگر کوئی جنایت ہوجائے تو اس کی جزا حسب ِقانون واجب ہوگی، جس کی تفصیلات اوپر گزر چکی ہیں۔
اگر جماع کے سوا کوئی اور ایسی حرکت کی جس سے انزال ہوگیا تب بھی دَم واجب ہوگا، لیکن اس سے حج فاسد نہیں ہوگا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۷۲۔۶۷۴)
وقوفِ عرفات کے بعد جماع کرلیا:
اگر وقوفِ عرفات کے بعد سر منڈانے اور طوافِ زیارت کرنے سے پہلے جماع کر لیا تو پوری ایک گائے یا پورے ایک اونٹ کی قربانی واجب ہوگی، مگر حج فاسد نہ ہوگا، نیز اگر وقوفِ عرفات کے بعد اور سرمنڈانے کے بعد طوافِ زیارت سے پہلے جماع کیا تو چھوٹے جانور کی قربانی دینا لازم ہے۔ اس صورت میں بھی حج فاسد نہ ہوگا۔ (ردالمحتار: ۳/ ۶۷۵)
حجِ قران فاسد ہو گیا تو؟
جس شخص نے قران کا اِحرام باندھا تھا اگر وہ طوافِ عمرہ اور وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کرلے تو حج وعمرہ دونوں فاسد ہوگئے اور دَمِ قران ساقط ہوگیا اور دو دَم حج وعمرہ فاسد ہونے کی وجہ سے لازم ہوگئے اور حج وعمرہ دونوں کی قضا لازم ہوگئی۔ اب حج اور عمرہ دونوں کے افعال پورے کرکے اِحرام سے نکلے اور حج وعمرہ کی قضا بھی کرے۔( الغنیة: ص: ۲۷۰)
قارن نے طوافِ زیارت سے پہلے جماع کر لیا:
اگر قارِن نے طوافِ عمرہ اور وقوفِ عرفہ کے بعد سر منڈانے اور طوافِ زیارت سے پہلے جماع کیا تو نہ حج فاسد ہوا اور نہ عمرہ، لیکن اِحرامِ حج میں ایسا کرنے کی وجہ سے ایک بدنہ اور اِحرام عمرہ کی وجہ سے ایک بکری واجب ہوگی اور دَم قران بھی بدستور واجب رہے گا۔( الغنیة: ص: ۲۷۱)
قارن نے طوافِ عمرہ کے بعد جماع کر لیا:
اگر قارِن نے طواف عمرہ کے بعد وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کرلیا تو صرف حج فاسد ہوا، عمرہ فاسد نہ ہوا۔ حج کی قضا واجب ہوگی اور ایک بکری حج فاسد ہونے کی وجہ سے اور دوسری عمرہ کے اِحرام میں جماع کرنے کی وجہ سے واجب ہوگی اور دَم قران ساقط ہوجائے گا۔( الغنیة: ص: ۲۷۰،۲۷۱)
قارن نے طوافِ زیارت سے پہلے یا حلق سے پہلے جماع کرلیا:
اگر قارن نے طواف ِ عمرہ اور وقوفِ عرفات اور سر منڈوانے کے بعد طوافِ زیارت سے پہلے یا طوافِ زیارت کے بعد اور حلق سے پہلے جماع کر لیا تو دونوں صورتوں میں دو بکریاں بطورِ دَم لازم ہیں۔( الغنیة: ص: ۱۴۵)
متعدد بار جماع کر لیا:
مذکورہ بالا مسائل ایک مرتبہ جماع کرنے سے متعلق ہیں، اگر متعدد بار جماع کر لیا تو اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے ایسا کیا اور ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا، خواہ ایک بیوی سے یا متعدد بیویوں سے تو بھی مذکورہ بالا احکام ہیں، اگر متعدد مجالس میں ایسا ہوا تو پھر یہ تفصیل ہے کہ دوسری مرتبہ جماع اگر اِحرام سے نکلنے کی نیت سے کیا۔ تو پھر بھی مذکورہ بالا تفصیل سے احکام ہوں گے، البتہ اگر اپنے آپ کو حالت ِ اِحرام میں سمجھ کر (جیسا کہ ہے بھی ایسا ہی، کیونکہ جماع کرنے سے اِحرام ختم نہیں ہوتا) دوبارہ جماع کرلیا تو ہر مرتبہ جماع کے لیے الگ الگ دَم دینا پڑے گا، یعنی مذکور تفصیل کے مطابق جس صورت میں جو دَم لازم ہے اسے دگنا، تگنا کیا جائے گا۔
وقوفِ عرفہ کے بعد اگر متعدد بار متعدد مجالس میں جماع کیا تو اس میں پہلے جماع سے تو بڑے جانور کی قربانی لازم ہے، لیکن دوسری، تیسری مرتبہ جماع سے ہر جماع پر ایک بکری کی قربانی لازم ہوگی، بڑے جانور کی نہیں اور وہ بھی جب ہے کہ دوسری یا تیسری مرتبہ جماع کے وقت اِحرام کو باقی سمجھ کر ایسا کرے، اگر دوسری بار جماع کے ذریعے اِحرام سے نکلنے کی نیت ہو تو ایک ہی دَم لازم ہوگا۔( الغنیة: ص: ۲۶۹)
عمرہ میں طواف سے پہلے جماع کرلیا:
عمرہ کا اِحرام باندھنے کے بعد طواف شروع کرنے سے پہلے یا طواف کے چار پھیرے کرنے سے پہلے جماع کیا تو عمرہ فاسد ہوگیا اور ایک بکری واجب ہوگئی۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۷۶)عمرہ کے تمام افعال پورے کرکے حلال ہوجائے اور پھر عمرہ کی قضا بھی کرے۔
اکثر طوافِ عمرہ کرنے کے بعد جماع کرلیا:
اگر طواف کے کم اَز کم چار چکر مکمل ہونے کے بعد (یعنی حلق سے پہلے پہلے کسی بھی وقت) جماع کرے تو پھر بھی دم لازم ہے، لیکن عمرہ فاسد نہیں ہوگا، بلکہ عمرہ کے افعال پورے کر کے حلال ہو جائے گا اور اس کی قضاء لازم نہ ہوگی، البتہ ایک دم لازم ہوگا۔( التنویر وشرحہ: ۳/ ۶۷۶)
بوسہ وغیرہ سے بھی دَم لازم ہے:
اگر بیوی کا شہوت کے ساتھ بوسہ لے لیا یا شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا تو اس سے ایک دَم واجب ہوگا، اگر چہ انزال نہ ہو۔(الغنیة: ص: ۲۶۸)
احتلام سے دَم لازم نہیں:
احتلام ہوجائے یا محض شہوانی خیالات سے انزال ہو جائے تو اس سے کوئی دَم یا صدقہ واجب نہیں ہوتا،صرف غسل فرض ہوتا ہے۔( الغنیة: ص: ۲۶) اگر اِحرام کی چادر میں ناپاکی لگ جائے تو اسے دھو ڈالے یا اِحرام تبدیل کرلے۔\
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


