03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق اہم مسائل

زکوٰۃ کی ادائیگی علی الاعلان افضل ہے:

عام صدقاتِ نافلہ میں خفیہ دینا افضل ہے، البتہ زکوٰۃ میں لوگوں کے سامنے اور علی الاعلان دینا افضل ہے تاکہ فریضہ کی ادائیگی میں غفلت کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔

’’ إذا أراد الرجل أداء الزکاۃ الواجبۃ قالوا: الأفضل الإعلان والإظہار، وفي التطوعات الأفضل ھو الإخفاء والإسرار کذا في فتاویٰ قاضیخان۔‘‘        (ھندیۃ:۱/۱۷۱)  

عیدی کے نام سے زکوٰۃ دینا:

زکوٰۃ میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر اسے عیدی کہا جائے اور اسی نام سے مستحق رشتہ داروں کو دی جائے یا خوشخبری سنانے والے کو انعام کے نام سے دی جائے، اسی طرح باغ کا تازہ پھل ہدیہ کرنے والے کو قیمت کے نام سے نہیں بلکہ ویسے ہی اس کو خوش کر نے کے لیے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰہ اداء ہو جاتی ہے،بشرطیکہ جسے دی جا رہی ہے وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔

في الدر: ’’ دفع الزکاۃ إلی صبیان أقاربہ برسم عید أوإلی مبشرأومھدی الباکورۃ جاز إلاإذا نص علی التعویض۔‘‘ (۲/۳۵۶)

عشر و زکوٰۃ چوری ہوجانے کی صورت میں ادائیگی کا حکم:

کسی نے زکوٰۃ یا عشر اداء کرنے کی نیت سے رقم یا سامان الگ کر کے رکھ دیا اور اس کے سامنے مگر اس کے علم ورضا کے بغیر کسی نے اٹھا لیا تو اس صورت میں عشر و زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ دینا ضروری ہے، الا یہ کہ بعد میں لینے والے شخص کا علم ہو جائے اور صاحب ِ مال اسے پہچانتا ہواور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو اور وہ مال اس کی ملکیت میں موجود بھی ہو اور اس کے لینے پر زکوٰۃ دہندہ راضی بھی ہو جائے تو پھر زکوٰۃ اداء ہو جائے گی، کیونکہ جب مال موجود ہے، اُٹھانے والا معلوم اور فقیر ہے اور مالک اس کے اُٹھانے پر راضی ہوگیا تو یہ اس کی طرف سے تملیکِ فقیر ہے، اس لیے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اگر ان میںسے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، مثلاً اٹھانے والا مسکین نہیں تو تملیک فقیر نہیں پائی گئی، اٹھانے والا فقیر تو ہے، مگر مالک اسے جانتا نہیں تو یہاں مجہول و نامعلوم کو تملیک ہورہی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ مال موجود نہیں، بلکہ فقیر نے اسے استعمال کرکے ختم کردیا تو اب اس میں تملیک کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان تمام صورتوں میں زکوٰب ادا نہ ہوگی۔

في الدر: ’’ ولو وضعھا علی کفہ، فانتھبھا الفقراء جاز۔‘‘
وفي الحاشیۃ: ’’ وینبغی تقییدہ بما إذا کان الانتھاب برضاہ لاشتراط اختیار الدفع في الأموال الباطنۃ کما مر في مسئلۃ البغاۃ، ویدل علیہ المسألۃ الآتیۃ۔‘‘
والمسألۃ الآتیۃ قول صاحب الدر: ولوسقط مال، فرفعہ فقیر، فرضي بہ جاز إن کان یعرفہ أی یعرف شخصہ، لئلا یکون تملیکا لمجھول؛ لأنہ إذا لم یعرفہ بأن جاء إلی موضع المال، فلم یجدہ، وأخبرہ أحد بأنہ رفعہ فقیر، لا یعرفہ، ورضی المالک بذلک، لم یصح؛ لأنہ یکون إباحۃ، والشرط في الزکاۃ التملیک۔ قولہ: ’’والمال قائم۔‘‘ لأنہ لورضی بذلک بعد ما استھلک الفقیر المال لم تصح نیتہ کما مر۔‘‘ (ردالمحتار مع الدر: ۲/۳۵۶)

زکوٰۃ و عشر کو الگ کرتے وقت نیت کافی ہے، دیتے وقت ضروری نہیں:

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے نیت ِزکوٰۃ ہوناضروری ہے، اگر زکوٰۃ کی رقم جد ا کرتے وقت نیت کر لی جائے تو بھی کافی ہے۔ اگر چہ دیتے وقت نیت نہ ہو، ہاں دیتے وقت زکوٰۃ کے علاوہ کسی دوسری چیز کی نیت کرے مثلاً قرض وغیرہ تو پھر زکوٰۃ اداء نہیں ہوگی۔

’’وأما شرط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أولعزل ما وجب، ھکذا في الکنز۔‘‘        (ھندیۃ: ۱/۱۷۰)

البتہ اگر زکوٰۃ کی رقم علیحدہ نہیں کی گئی اور ویسے نیت کر لی کہ جو میں دوں گا وہ میری طرف سے زکوٰۃ ہو گی یا صدقہ کرتا رہا اور سال کے آخر میں نیت کرلی کہ جو صدقہ سال بھر کرتا رہا وہ میری طرف سے زکوٰۃ ہے تو یہ کافی نہیں،ایسی صورت میں دیتے وقت نیت ِ زکوٰۃ ضروری ہے، ورنہ زکوٰۃ اداء نہیں ہوتی۔

’’ولو قال ما تصدقت إلی آخر السنۃ فقد نویت عن الزکاۃ، لم یجز کذا في السراجیۃ۔‘‘ (ھندیۃ:۱/۱۷۱)

بینک کا زکوٰۃ کاٹنا:

سوال: حکومت بینک میں جمع شدہ اموال کی زکوٰۃ کاٹتی ہے، کیا زکوٰۃ اداء ہوجائے گی؟ دوبارہ اداء کرنا تو ضروری نہیں؟ (سید رؤف زر ولی۔ صوابی)

جواب: اگرچہ حکومت کا طریق کار غلط ہے، تاہم ’’ مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کراچی‘‘… جس میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحبؒ، حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ جیسے اکابر اساطین علم مسائل حاضرہ پر اجتماعی غور کرکے فیصلے فرماتے رہے… کے فیصلے کے مطابق زکوٰۃ اداء ہوجاتی ہے، دوبارہ ا داء کرنے کی ضرورت نہیں،البتہ احتیاط اس میں ہے کہ رقم کا مالک یکم رمضان (جس کو کٹوتی ہوتی ہے) آنے سے پہلے دل میں یہ نیت کر لے کہ میری رقم سے جو زکوٰۃ کٹے گی وہ میں اداء کرتا ہوں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے بھی درخواست دے کر زکوٰۃ کی کٹوتی سے استثناء کی رعایت دے دی گئی ہے، چونکہ تجارب سے ثابت ہوا ہے کہ حکومت زکوٰۃ کو مصارف زکوٰۃ میں صرف کرنے کے سلسلے میں احتیاط سے کام نہیں لیتی، اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دی گئی استثناء کی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درخواست دے کر استثناء حاصل کرلینا چاہئے اور زکوٰۃ صحیح مصرف میں خود خرچ کرنی چاہئے۔

زکوٰۃ کے لیے رقم نہ ہو توقرض لینے کا حکم:

اگر کسی کے ذمہ زکوٰۃ کی ادائیگی لاز م ہو لیکن اس کے پاس رقم یا ایسی کوئی چیزنہیں کہ اس سے زکوٰۃ ادا کرے تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت تک لازم نہیں جب تک رقم یا ایسی چیز ملکیت میں نہ آجائے، ہاں اگر قرض لینے کی صورت میں قرض کی ادائیگی کا غالب گمان ہو تو پھر قرض لے کر زکوٰۃ ادا کرنے میں حرج نہیں، بلکہ افضل ہے، البتہ اگر ادائیگی کی طاقت نہ ہو اور نہ غالب گمان ہو کہ قرض کی ادائیگی کے لیے رقم مہیا ہو جائے گی تو پھر قرض لینے سے اجتناب کرے، اس لیے کہ قرض خواہ بعض اوقات بہت سخت گیر ہوتا ہے، جھگڑے پر اُتر آتا ہے اور عزت دار آدمی کی رُسوائی ہوتی ہے۔ اس لیے قرض لینے کی بجائے جب رقم یا کوئی ایسی چیز حاصل ہو جائے جو زکوٰۃ میں دی جا سکتی ہو تو زکوٰۃ اداء کرے، اگر کئی سال اس طرح گزر گئے ہوں تو سب سالوں کی زکوٰۃ اداء کرے۔

في الشامیۃ: ولو لم یکن عندہ مال، فأراد أن یستقرض لأداء الزکاۃ، إن کان أکبر رأیہ أنہ یقدر علی قضائہ فالأفضل الاستقراض، وإلا فلا؛ لأن خصومۃ صاحب الدین أشد۔‘‘ (شامیۃ:۲/۲۷۲)

زکوٰۃ تھوڑی تھوڑی اداء کرنا، باقی کو تجارت میں لگانا:

بعض تاجر زکوٰۃ کا حساب لگاکر یکمشت اداء نہیں کرتے، بلکہ اس رقم کو قابل اداء کھاتے میں درج کردیتے ہیں، پھر تھوڑی تھوڑی کرکے خرچ کردیتے ہیں اور زکوٰۃ کی مکمل ادائیگی تک وہ رقم کاروبار میں لگی رہتی ہے، اس طریقے سے زکوٰۃ تو اداء ہوجائے گی لیکن بلا عذر اس تاخیر کا گناہ ہو گا، البتہ اس صورت میں زکوٰۃ کی رقم کا روبار میں لگا کر جو منافع کمایا ہے وہ جائز ہے کیونکہ یہ رقم اب تک اس کی ملکیت ہے اور اپنی ملکیت کا منافع جائز ہے۔

في الشامیۃ: ’’فتکون الزکاۃ فریضۃ، وفوریتھا واجبۃ، فیلزم بتأخیرھا من غیر ضرورۃ الإثم کما صرح بہ الکرخي والحاکم الشھید في الملتقی، وھو عین ما ذکرہ الإمام أبو جعفر عن أبي حنیفۃ أنہ یکرہ، فإن کراھۃ التحریم ھي المحمل عند إطلاق إسمھا …‘‘ (۲/۲۷۲)

حساب لگائے بغیر متفرق طور پر زکوٰۃ دینے کا حکم:

سوال:کسی نے مختلف اوقات میں مختلف مساکین کو زکوٰۃ کی رقم دی، لیکن اب اسے معلوم نہیں کہ واجب الاداء زکوٰۃ مکمل طور پر دی جا چکی ہے یا کچھ باقی ہے؟

جواب:ایسی صورت میں غالب گمان کا اعتبار ہے، سوچنے کے بعد جتنی رقم کی ادائیگی کا غالب گمان ہو اسے اداء شدہ تصور کیا جائے اور باقی ماندہ رقم مستحقین کو دی جائے، محض شک سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری سے بری نہ ہو گا، لہٰذا جتنی مقدار کے بارے میں غالب گمان ہو صرف اتنی مقدار کو اداء شدہ سمجھے، اگرکسی بھی مقدار کے متعلق غالب گمان نہ ہو تو از سر نوپوری زکوٰۃدینا لازم ہے۔

في الشامیۃ: ’’ قلت: وحاصلہ أنہ یتحریٰ في مقدار المؤدی کما لو شک في عدد الرکعات، فما غلب علی ظنہ أنہ أداہ سقط عنہ، وأدی الباقي، وإن لم یغلب علی ظنہ شئ أدی الکل۔‘‘ (۲/۲۹۵)

بنام ِقرض زکوٰۃ دی تو اداء ہوگئی:

سوال: زید نے بکر کو سو روپے زکوٰۃ کی نیت سے دے دئیے اور زکوٰۃ کا نام نہیں لیا اور کہا کہ ان پیسوں سے اپنا کام کرلے،جب تیرے پاس ہوں دے دینا۔ زکوٰ ۃ کا نام ا س لیے نہیں لیا کہ بکر زکوٰۃ لینے کو معیوب جانتا تھا،سال دوسال کے بعد بکر نے زید کو سو روپے واپس دے دئیے، اب زید وہ پیسے دوسرے مسکین کو دے دے یا کیا کرے؟ شرعًا اس طرح زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ (عبدالجبار۔ ساہیوال)

جواب: زکوٰۃ اداء کرتے وقت زکوٰۃ کا ذکر ضروری نہیں، اس لیے یہ زکوٰۃ اداء ہوگئی تھی، واپس لینا جائز نہیں تھا، بکر کو واپس دینا لازم ہے، اگر زکوٰۃ کا اظہار مناسب نہ ہو توبکر پر یوں ظاہر کرے کہ میںنے قرض معاف کردیا ہے یا ہدیہ کے نام سے واپس دیدے۔

البتہ اگر قرض ہی کی نیت سے زکوٰۃ کی رقم دی تو یہ قرض شمار ہو گی، اس کا واپس لینا اور کسی مستحق کو بنیت ِ زکوٰۃ دینا لازم ہے، اگر کسی فقیر کو اس قرض کی وصولی کا وکیل بنا کر اسے کہا جائے کہ آپ وصول کرنے کے بعد اسے بطورِ زکوٰۃ رکھ لیں تو بھی جائز ہے۔

’’نوی الزکاۃ إلا أنہ سماہ قرضا جاز في الأصح، لأن العبرۃ للقلب لا لللسان۔‘‘ (شامیۃ: ۶/۷۳۳)
وفیھا: ’’وفي صورتین لا یجوز: الأولی أداء الدین عن العین کجعلہ ما في ذمۃ مدیونہ زکاۃ لمالہ الحاضر، بخلاف ما إذا أمر فقیرا بقبض دین لہ علی آخر عن زکاۃ مال عندہ فإنہ یجوز۔‘‘ (۲/۲۷۱)

مسکین کو نصاب سے کم قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوتی:

سوال: ایک شخص کا کسی فقیر پر قرض ہے، اس نے مقروض فقیر سے کہا کہ میں نے تجھے اپنا قرض زکوٰۃ میں معاف کردیا، اس کے ایسا کہنے سے زکوٰۃ اداء ہوگئی یا نہیں؟ (اسلم۔ تراڑکھل، آزاد کشمیر)

جواب: اگر یہ قرض نصابِ زکوٰۃ سے کم ہو تو قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوتی کیونکہ قرض دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت نہیں ہوتی۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اس مسکین شخص کو اپنے پاس سے زکوٰۃ کی رقم دے کر اپنے قرض میں واپس لے لی جائے، اگر خوشی سے واپس نہ کرے تو جبراً بھی لے سکتے ہیں، اگر یہ خطرہ ہو کہ وہ واپس نہیں کرے گا تو یہ تدبیر کی جائے کہ اس سے کہا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو وکیل بنائے جو اس کی طرف سے زکوٰۃ کی رقم وصول کرکے پھر معطی (زکوٰۃ دینے والے قرض خواہ) کا قرض اداء کردے۔

’’وفي صورتین لا یجوز: الأولی أداء الدین عن العین کجعلہ مافي ذمۃ مدیونہ زکاۃ لمالہ الحاضر۔‘‘ (شامیۃ: ۲/۲۷۱)
’’وحیلۃ الجواز أن یعطی مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یأخذھا عن دینہ، ولو امتنع المدیون مد یدہ وأخذھا،لکونہ ظفر بجنس حقہ، فإن منعہ رفعہ للقاضی۔‘‘ (درمختار: ۲/۲۷۱)

بقدرِ نصاب قرض ہو تو اس کا حکم اگلے مسئلہ میں آرہا ہے۔

مسکین کو بقدر نصاب پورا قرض معاف کرنے سے اس کی قرض کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجاتی ہے:

اگر مستحق زکوٰۃ پر بقدرِ نصاب یا اس سے زائدقرض ہو توقرض خواہ کی طرف سے اسے پورا قرض معاف کرنے سے اس قرض کی زکوٰۃ بھی اداء ہو گئی، الگ دینے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ اس وقت ہے کہ پورا قرض معاف کردے، اگر قرض کا کچھ حصہ معاف کیا تو اس سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہو ئی، بلکہ معاف کردہ اور باقی سب کی زکوٰۃ دینا لازم ہے، صاحب ِ نصاب مقروض کوپورا قرض معاف کرنے سے بھی زکوٰۃ ساقط نہیں ہو گی۔

في الدر: ’’ لو أبرأ الفقیر عن النصاب صح وسقط عنہ۔‘‘
في الحاشیۃ: ’’ ولو أبرأ ہ عن البعض سقط زکاتہ دون الباقي ولو نویٰ بہ الأداء عن الباقی، بحر۔‘‘
وفي تحریرات الرافعی: ’’قولہ: ’’ولو أبرأہ‘‘: ھذا الفرع من موضوع الخلاف کمسألۃ التصدق التی ذکرھا الشارح أیضاً، فجزم صاحب البحر بسقوط الزکاۃ عن القدر المبرأ عنہ مبني علی قول محمد‘‘۔ وقال في الحاشیۃ في أرجحیۃ قول الإمام أبی یوسف: ’’قولہ: ’’خلافا للثالث،‘‘ أشاربذلک إلی اعتماد قول أبی یوسف؛ ولذا قدمہ قاضیخان، وأخرہ في الھدایۃ مع دلیلہ، وعادتہ تأخیر المختار عندہ علی عکس عادۃ قاضي خان و صاحب الملتقی۔‘‘ (ردالمحتار مع الدر: ۲/۲۷۰)

وقال في الدر: ’’ واعلم أن … أداء الدین عن العین وعن دین، سیقبض لا یجوز۔‘‘
وفي الحاشیۃ: ’’ الثانیۃ (من صورتي عدم الجواز) أداء دین عن دین، سیقبض لما تقدم عن البحر وھو ما لو أبرأ الفقیر عن بعض النصاب نا ویا بہ الأداء عن الباقی، وعللہ بأن الباقی یصیر عیناً بالقبض، فیصیر مؤدیا بالدین عن العین۔‘‘ (ردالمحتار مع الدر: ۲/۲۷۱)
وقال: ’’ وقید بالفقیر لأنہ لوکان غنیا فوہبہ بعد الحول ففیہ روایتان، أصحھما الضمان، بحر عن المحیط أی ضمان زکاۃ ما وھبہ، لأنہ استھلکہ بعد الوجوب۔‘‘ (شامیۃ: ۲/۲۷۰)
قبل ازوقت زکوٰۃ کی ادائیگی:

زکوٰۃ کی مقرر تاریخ آنے سے پہلے زکوٰۃ اداء کرنے سے اداء ہو جائے گی، لیکن اس میں تین شرائط ہیں:

۱۔قبل الوقت زکوٰۃ اداء کرتے وقت اداء کرنے والا صاحب نصاب ہو، اگر اداء کرتے وقت صاحب ِ نصاب نہیں تھا، بعد میں صاحب ِ نصاب بن گیا ہو تو دوبارہ زکوٰۃ اداء کرنا لازم ہے۔

۲۔جس نصاب کی زکوٰۃ دی ہے، مثلاً نقدی کی، یہ نصاب مکمل یا اس کا کچھ حصہ آخر سال تک باقی ہو، اگر درمیان میں یہ نصاب بالکل ختم ہوگیا ہوحتی کہ ایک روپیہ بھی نہ بچا ہو، اس کے بعد دوبارہ نیا نصاب حاصل ہوگیا تو زکوٰۃ کی مقرر تاریخ آنے پر اس نئے نصاب کی مستقل زکوٰۃ دینا لازم ہے۔

۳۔جس سال کی ابتداء میں زکوٰۃ دی ہے اس سال کی انتہاء میں مال کا نصاب مکمل ہو، اگر آخری تاریخ میں نصاب پورا نہ ہو تو آیندہ سال کے نصا ب سے یہ زکوٰہ ادا ء شمار نہ ہو گی بلکہ اس کے لیے مستقل زکوٰۃ دینا لازم ہے۔

 لیکن قبل الوقت زکوٰۃ کی ادائیگی کے معتبر ہونے میں اختلاف ہے، اس لیے یہ افضل نہیں ہے، بہتریہ ہے کہ سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ اداء کی جائے۔

في الشامیہ: (قولہ ولو عجل ذونصاب) قید بکونہ ذا نصاب؛ لأنہ لو ملک أقل منہ، فعجل خمسۃ عن مائتین، ثم تم الحول علی مأتین، لا یجوز۔ وفیہ شرطان آخران: أن لا ینقطع النصاب في أثناء الحول،فلوعجل خمسۃ عن مأتین جازماعجل بخلاف مالوھلک الکل، وأن یکون النصاب کاملا في آخر الحول۔‘‘ (۲/۲۹۳)
وفیھا: ’’قال في البحر:ولا یخفي أن الأفضل عدم التعجیل لاختلاف فیہ عند العلماء، ولم أرہ منقولا۔‘‘ (۲/۲۹۳)

زکوٰۃ کی بعض خاص صورتیں

بینک کی کمائی اور دوسرے حرام اموال میں زکوٰۃ لازم نہیں:

اگر کسی کے پا س بقدرِ نصاب مال موجود ہے لیکن وہ مال حرام ہے، غصب، چوری،سودیاجوا یا کسی بھی حرام ذریعۂ آمدن جیسے سودی بینک کی کمائی کی رقم ہے تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں، بلکہ یہ ساری رقم مالک کو پہنچانا لازم ہے، اگر مالک مر گیا ہو یا معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو اس کے وارثوں تک پہنچانا لازم ہے۔ اگر ان میںسے کوئی بھی نہ مل سکے تو بغیر نیت ِ ثواب کے فقراء کو دینالازم ہے۔اسی طرح بیمہ کی رقم پر ملنے والا منافع بھی واجب التصدق ہے اور اس میں زکوٰۃ نہیں، البتہ انشورنس کمپنی میں جمع کرائی قسطوں کی اصل جمع شدہ رقم (پریمیم) میں زکوٰۃ لازم ہے۔

في الشامیۃ: ’’ في القنیۃ: لو کان الخبیث نصابا لایلزم الزکاۃ، لأن الکل واجب التصدق علیہ، فلا یفید إیجاب التصدق ببعضہ، ومثلہ في البزازیۃ۔‘‘
وقال: ’’ إن المغصوب إن علمت أصحابہ أوورثتھم وجب ردہ علیھم، وإلا وجب التصدق بہ۔‘‘ (۲/۲۹۱)

پگڑی کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم:

مروجہ پگڑی لینا دینا چونکہ جائز نہیں ہے، شرعاً مالک مکان پر لازم ہے کہ وہ یہ رقم کرایہ دار کو واپس کر دے، اگر وہ یا اس کا کوئی وارث نہ ہو تو بلا نیت ِ ثواب ساری رقم فقراء کو دے، جب اس کی شرعی حقیقت یہی ہے تو اس کی زکوٰۃ کرایہ دار پر تو لازم نہیں کیونکہ مالک ِ مکان اسے یہ رقم واپس نہیں کرتا، لہٰذا یہ دین محجود(جس کا مقروض نے انکا رکر دیا ہو) کے حکم میں ہے یا مرہون کے حکم میں ہے جس پر زکوٰۃ لازم نہیں۔اسی طرح مالک مکان پر بھی اس کی زکوٰۃ لازم نہیں کیونکہ یہ اس رقم کا مالک ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ رقم اس کے پاس امانت ہے، یا کرایہ دار کی طرف سے رقم استعمال کرنے کی اجازت ہو تو مالک تو ہوگیا، مگر یہ اس پر قرض ہے جو واجب الادا ہے اور واجب الادا قرض پر زکوٰۃ لازم نہیں۔ اس پر لازم ہے کہ پگڑی کی ساری رقم مالک یا اس کے ورثہ کو لوٹا دے،یہ ممکن نہ ہو تو فقراء کو بلا نیت ِ ثواب دے، البتہ اگر کہیں پگڑی کی یہ رقم کرایہ دار کو واپس کر دینے کا رواج ہو یا کرایہ دار اور مالک کے درمیان واپسی طے پا جائے تو پھر کرایہ دار پر اس کی زکوٰۃ لازم ہو گی، جس میں وہی تفصیل ہو گی جو آگے عنوان: ’’ قرض پر زکوٰۃ کی تفصیل‘‘ کے تحت قسم ِ اوّل میں آرہی ہے۔

’’لأنہ لا زکاۃ في دین، لا یرجی حصولہ، ولا في المال الخبیث، ولا في المرھون۔‘‘

مشترکہ ترکے میں تقسیم سے پہلے زکوٰۃ کا حکم:

میت کے ترکہ میں زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ یہ چونکہ مرحوم کے مرتے ہی ورثہ کی ملکیت میں آگیا ہے، لہٰذاجو وارث اموالِ زکوٰۃ میں سے کسی مال کے جتنے حصہ کا حقدار ہو، تنہا وہ مال یا دوسرے قابلِ زکوٰۃ اموال کے ساتھ ملا کربقدرِ نصاب بن جاتا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہے ورنہ نہیں، کل ترکہ سے زکوۃ اداء کرنا صحیح نہیں، کیونکہ ورثہ میں سے بعض صاحبِ نصاب، بعض غیر صاحبِ نصاب بھی ہو سکتے ہیں، بعض کی زکوٰۃ کی مقدار کم، بعض کی زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔’’وھذا کلہ ظاھر من القواعد ومسائل الفقہ۔‘‘

مفتی محمد 

رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی