| 78895 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
تلخیص سوال:
1۔ مورث اعلیٰ شیوہ خان کی تین بیویاں تھی۔ (۱) مسماۃ پیتئی (متوفیہ قبل از وفات زوج) (۲) مسماۃ طاہرہ(متوفیہ قبل از وفات زوج) (۳) مسماۃ شمئی۔ مسماۃ پیتئی اور مسماۃ طاہرہ شیوہ خان کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھیں اور شیوہ خان کے وفات کے وقت مسماۃ شمئی زندہ تھی۔
2۔ (۱) شیوہ خان کے چار بیٹے پہلی بیوی (پیتئی) سے (۱) ناصر خان۔ (۲) جانس خان۔ (۳) علی خان ۔ (۴) مصری خان اور دو بیٹیاں (۱) روغانئی ( متوفیہ قبل از وفات والد) (۲) فر خندہ۔
(۲) شیوہ خان کے دوسری بیوی طاہرہ سے ایک بیٹا ظفر خان (متوفیٰ قبل از وفات والد) اور دو بیٹیاں (۱) سپینئی ( متوفیہ قبل ازوفات والد) (۲) مردانہ
(۳) شیوہ خان کی تیسری بیوی شمئی سے ایک بیٹا سیفور اور دو بیٹیاں (۱) گل نسا ء (۲) بخت نساء تھی۔
3۔ شیوہ خان مورخہ 23 اگست 1935 کو وفات پاگیا۔
شیوہ خان کی وراثت انتقال نمبر 64 مورخہ 5 مارچ 1937 ء میں مندرجہ ذیل وارثان کو اپنی حق (حصوں ) سے محروم کیا گیا اور انتقال میں صرف بیٹوں کے نام درج کئے گئے۔
(۱) گل نساء اور بخت نساء دختران شیوہ خان
(۲) گل نساء اور بخت نساء کی والدہ شمئی بیوہ شیوہ خان
(۳) گل نساء اور بخت نساء کی بہن مسماۃ مردانہ دختر شیوہ خان
(۴) مسماۃ فرخندہ دختر شیوہ خان۔
مطالبہ:۔ہماری یاداشت کے مطابق 1974 سے گل نساء وغیرہ نے بھائیوں سے اپنے حق کا مطالبہ کیا ہے۔2003 میں باقاعدہ پیغام بھجوایاتھا کہ ہمیں ہمارا حق دے دیں۔ اس کے علاوہ گل نساء، بخت نساء اور مردانہ دختران شیوہ خان نے بذریعہ جنت گل گاؤں ماما خیل بھی بھائیوں کو پیغا م بھیجا تھا کہ ہمیں اپنا حق دیا جائے۔دوسرا یہ کہ عجب خان ولدناصر خان ولد شیوہ خان جب بیمار ہوا تو انہوں نے گل نساء کو پیغام بھجوایا کہ میں بیمار ہو ں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دو۔ گل نساءدختر شیوہ خان نے واپسی پیغام بھجوایا کہ جب تک آپ لوگوں نے مجھے اپنا حصہ علیحدہ کرکے نہیں دوگے، اس وقت تک میں آپ لوگوں کو معاف نہیں کر وں گی۔
سوال نمبر 1۔ دوران مقدمہ گل نساء 2014 میں اور بخت نساء 2017 میں وفات پائی۔کیا اب گل نساء و بخت نساء کے بیٹوں کو یہ حق حاصل ہے کہ عدالت میں وہ مقدمہ جاری رکھیں اوراپنی والدہ کاحصہ حاصل کریں۔
سوال نمبر 2۔شرعی اعتبار سےمیت کی بیٹیوں اوربیوی(شمئی)کاجائیدادمیں کتناحصہ ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میت کےترکہ وجائیدادمیں جس طرح بیٹوں کاحصہ ہوتاہے،اسی طرح بیٹیوں کاحصہ بھی ہوتا ہے، بھائیوں کااپنی بہنوں کوحصہ سےمحروم کردیناشرعاًحرام اورناجائزہے۔بھائیوں پرلازم ہےاپنی بہنوں کوجائیداد میں سےشرعی حصہ فراہم کریں۔
جواب نمبر(1):بھانجوں ،بھانجیوں کےلیےماموں سےاپنی والدہ کےشرعی حصےکامطالبہ کرناجائزہےاورماموں (گل نساء وبخت نساء)کے بھائیوں پرلازم ہےکہ وہ میت(شیوہ خان)کی بیٹیوں اوربیوی کوان کاشرعی حصہ دیدیں۔
جواب نمبر(2):صورت مسؤلہ میں مرحوم شیوہ خان کی جائیدادکوکل 16حصوں میں تقسیم کیاجائےگااورپھر اس کو درج ذیل نقشے کےمطابق مرحوم کی وفات کےوقت زندہ ورثہ کےدرمیان تقسیم کیا جائےگا:
|
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
شمئی(بیوہ) |
2 |
12.50% |
|
ناصرخان(بیٹا) |
2 |
12.50% |
|
جانس خان(بیٹا) |
2 |
12.50% |
|
علی خان(بیٹا) |
2 |
12.50% |
|
مصری خان(بیٹا) |
2 |
12.50% |
|
سیفور(بیٹا) |
2 |
12.50% |
|
فر خندہ(بیٹی) |
1 |
6.25% |
|
مردانہ(بیٹی) |
1 |
6.25% |
|
گل نسا ء(بیٹی) |
1 |
6.25% |
|
بخت نساء(بیٹی) |
1 |
6.25% |
حوالہ جات
محمدعمربن حسین احمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
18جمادی الثانیۃ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر ولد حسین احمد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


