03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرط کےپائےجانےسےطلاق واقع ہونےکاحکم
76239طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

ایک شخص نےاپنی بیوی سےکہاکہ اگرتم ایک سال تک فلاں رشتہ دارکےگھرگئی توتجھےایک طلاق ہوجائےگی ۔اس دوران  اس کی بیوی حاملہ تھیں ،بچہ ہونےکےبعدایک بارعورت نےاپنےمردسےممنوعہ گھرجانےکی اجازت بھی مانگی مگر بندےنےاجازت نہ دی ،پھربیوی بھول گئی اوروہ اس گھرچلی گئی ،مردنےدوبارہ عورت سےسوال کیاتوعورت نےبتایاکہ وہ بھول کرگئی ہےاگریادرہتاتومیں ہرگزنہ جاتی۔بچہ ہونےکےبعدبیوی سےملاپ بھی ہوتارہا۔ان حالات کےپیش نظرکیا ایک طلاق واقع ہوچکی ہےیانہیں ؟کیارشتہ قائم ہے؟اورکیامردکواب باقی دوطلاق کاختیاررہ گیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

                 جب  شوہرنےطلاق کوفلاں شخص کے گھرمیں داخل ہونےسےمشروط کردیاتھاتوبعدمیں جیسےہی بیوی ممنوعہ گھرمیں داخل ہوئی توبیوی پرایک"طلاق رجعی" واقع ہوگئی۔طلاق رجعی واقع ہونےکےبعدشوہرکوعدت کےاندراندررجوع کرنےکاحق تھا،لہذااگرشوہرنے عدت کےدوران قول یاعمل( جورجوع پردلالت کرے) سےرجوع کرلیاہے۔جیساکہ سوال سےظاہرہوتاہےتوایک طلاق واقع ہونےکےباوجودعورت شوہرکےنکاح میں ہےاوراس کے پاس دوطلاقیں دینےکااختیارباقی ہے۔

حوالہ جات

 «التجريد للقدوري» (10/ 4911):

وقد وافقنا أبو يوسف ومحمد أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق أنها إذا دخلت وقع الطلاق في الحال والطلاق ‌المعلق ‌بالشرط كالموقع بعد الشرط، وإذا كان لا يتأجل بعد دخول الدار فلذلك لا يتأجل في الحال.

«المبسوط للسرخسي» (6/ 232):

وأن المعلق بالشرط عند وجود الشرط كالمنجز.

عبدالقدوس

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

۲شعبان ۱۴۴۳

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقدوس بن محمد حنیف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب