| 78839 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے بھائی نے وراثت دی تو میں نے کہا میرا جو بھی حق ہے وہ سب بھائی کا ہے ، جبکہ میری کوئی اولا نہیں ہے ، اور ہم تین بہنیں ہیں اور ایک بھائی ہے ، مجھے کوئی گناہ تو نہیں ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں سے اپنا پورا حصہ دلی خوشی کے ساتھ بھائی کو دینے پر کوئی گناہ نہیں ، کیونکہ آدمی کو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار حاصل ہے ۔ لیکن اگر بھائی نے بہن کا حصہ الگ کر کے بہن کو دے دیا تھا اور پھر بہن نے اپنا وہ حصہ بھائی کو دیا تو یہ سارا بھائی کا ہو جائے گا ۔ اگر بھائی نے بہن کا حصہ الگ کر کے اس کے حوالے نہیں کیا تھا تو اس صورت میں بہن کا اپنا حصہ بھائی کو دینا درست نہیں ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے بہن اپنا حصہ الگ کر ے اور پھر بھائی کو دے ۔یا پھر کچھ رقم کے عوض وہ حصہ بھائی کو بیچ دے تو الگ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
حوالہ جات
فی الفتاوی الھندیۃ : ولو قال : جمیع مالی أو کل شیء أملکہ لفلان ، فھو ھبۃ . کذافی الاختیارشرح المختار.ولو قال جمیع ما أملکہ لفلان یکون ھذاالقول ھبۃ . (الفتاوی الھندیۃ:4/419)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل…(في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين ؛ لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل ،كما في عامة الكتب، فكان هو المذهب . (الدرالمختارمع تنويرالأبصار:8493/-496)
قال الکاسانی ر حمہ اللہ تعالی : و منھا : أن یکون محوزا ، فلا تجوز ھبۃ المشاع فیما یقسم ،و تجوز فیما لا یقسم .(بدائع الصنائع :8/96)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی 🙁 أخرجت الورثة أحدهم عن ) التركة وهي (عرض أو ) هي ( عقار بمال ) أعطاه له ( أو ) أخرجوه ( عن ) تركة هي (ذهب بفضة ) دفعوها له ( أو ) على العكس أو عن نقدين بهما ( صح ) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه ( قل ) ما أعطوه ( أو كثر )( الدر المختار :5/642)
محمد مدثر
دارالافتاء ، جامعۃ الرشید ، کراچی
09/ جمادی الثانیہ/۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مدثر بن محمد ظفر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


