| 78674 | طلاق کے احکام | بیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل |
سوال
مفتی صاحب!اگرشوہرقسم اٹھائےبغیربیوی سےکہے کہ میں تم سےہمبستری نہیں کروں گاتوکیاایلاءمنعقدہوگا؟اوراگرہواتواگرمیاں بیوی اس کےبعداس طرح ملے کہ صرف دخول نہیں کیا،باقی بوس وکنارہوا،ایک دوسرےکی شرم گاہ بھی دیکھی ہو ۔میاں بیوی دونوں ڈسچارج بھی ہوئے ۔توکیاایلاءختم ہوگیا؟دخول اس لیےنہیں کیا کہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔رہنمائی درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سؤال میں مذکور صورت میں ایلاء منعقد نہیں ہوا ،اس لیےکہ اس جملے میں قسم نہیں،جبکہ ایلاء کےانعقاد کے لیے یمین کے ساتھ تاکیدکا کسی بھی درجہ میں پایا جاناضروری ہے۔واضح رہےکہ نکاح کے بعدرخصتی سے قبل ایسی ملاقاتیں عرف میں شرافت کےخلاف سمجھی جاتی ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 422):
(هو) لغة اليمين. وشرعا (الحلف على ترك قربانها)
(قوله: وشرعا الحلف إلخ) يشمل التعليق بما يشق فإنه يسمى يمينا كما قدمناه في باب التعليق، ولهذا قال في الفتح: وفي الشرع هو اليمين على ترك قربان الزوجة أربعة أشهر فصاعدا بالله تعالى، أو بتعليق ما يستشقه على القربان.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 425):
(ف) من الصريح (لو قال: والله) وكل ما ينعقد به اليمين
(قوله: لو قال والله إلخ) قيد بالقسم لأنه لو قال: لا أقربك ولم يقل والله لا يكون موليا ذكره الإسبيجابي بحر: أي لأنه لا بد من لزوم ما يشق.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۸جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


