03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شہوت کا یقین نہ ہو توحرمت مصاہرت کا حکم
78692نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

زیدنےاپنی حقیقی نانی کوبلاحائل اس طورپرچھواتھا کہ نانی کی عمرتقریباً 80/90 سال تھی اوروہ گہری نیندمیں سورہی تھی،زید کی طرف پیٹھ کرکے،زیدنےنانی کی ساڑی پیچھےسےدھیرےدھیرےاوپر کی طرف ہٹائی اورساتھ ہی ساتھ زیدکویہ ڈربھی تھا کہ کہیں نانی اچانک نیندسےنہ بیدارہوجائے،اس لئےزیدنےبہت ہی ڈرتےڈرتےنانی کی ساڑی کچھ اس اندازمیں اوپرسرکائی کہ اگرخدانخواستہ نانی نیند سےبیدارہوبھی جائےتونانی کویوں لگےکہ زیدنیندمیں ہے(یہ واقعہ غالباً دو یا تین بار ہوبہو پیش آیا متعددرات میں جس میں ایک دفعہ نانی کی ساڑی گھٹنوں تک یاگھٹنوں کےذرااوپر تک ہٹ سکی اورنانی کی نیندکھل گئی،تونانی نےکپڑےدرست کرلیےاورزیدڈرکےمارےسوگیا،پھرکسی رات دوسری یاتیسری دفعہ ساڑی رانوں کےاوپر تک ہٹ سکی) اورساڑی ہٹانےکےبعدزیدنےاپنےپیرکوایسےرکھا کہ اگر نانی نیندمیں پیچھے کی طرف پلٹ جائےیاکروٹ لےتو نانی کاننگاپیرزیدکےپیر کےاوپر پڑجائے،زیدکوجہاں تک یادہے،وہ اُس وقت رات کوروزانہ برموداپینٹ(جسےتھری فور بھی کہتے ہیں جو گھٹنوں کے نیچے نصف پنڈلی تک ہوتاہے۔)پہن کرسوتاتھااوراندرانڈرویئربھی ہوتی تھی،زیدکےگندےارادےکےمطابق ایساہوابھی ایک بار کہ نانی نےکروٹ لی تونانی کاننگاپیرزیدکےننگےپیرپرپڑا،کیونکہ زیدنے اپنی پینٹ کے پہائنچے کو گھٹنوں کےاوپرتک چڑھایاہواتھااورپھرتھوڑی ہی دیرمیں نانی کی نیندکھل گئی اورنانی نےزیدکودھکیل کراپنےسےدورکیااوراپنےکپڑےدرست کرکےکروٹ تبدیل کرکےسوگئی اورزیدبھی سوگیااوردوبارہ پھرکبھی ایسانہیں کیا۔ اب زید کویہ یادنہیں ہے کہ اُس وقت زیدکی عمریقینی طورپرکتنی تھی یعنی زیدبالغ ہوگیاتھایاقریب البلوغ تھا؟دوسری بات یہ کہ زیدکے آلہء تناسل میں انتشارتھایا نہیں؟یہ بھی یادنہیں،کیونکہ وہ کیفیت اُس وقت جوتھی زید کی ڈرکی کیفیت تھی اورعام طور پر دیکھنےمیں آیاہےکہ ڈرکی کیفیت میں آلہءتناسل میں انتشارنہیں ہوتا،اس لیےغالب گمان ہےکہ انتشارنہیں ہواتھا،چونکہ یہ گناہ نادانی میں ہوااوراُس وقت زیدکودین کی اتنی معلومات نہیں تھی اورلاشعوری میں یہ گناہ کربیٹھا،لہٰذازید اپنی اس بچپن کی نادانی پربےحدنادم وشرمندہ ہے،اس لیےاس گناہ سےاللہ پاک سےبہت زیادہ رودھوکراورگڑگڑا کرمعافی تلافی کرلی ہے۔ اب زید اس تذبذب میں بہت ہی زیادہ پریشان ہے کہ زید کا نکاح زید کی خالہ زاد کی لڑکی سےہوچکا ہےتویہ نکاح درست ہےبھی یانہیں؟ آپ سےادباً درخواست ہے کہ بالتفصیل جواب مرحمت فرماکر مشکور فرمائیں۔ا ﷲ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس صورت میں شہوت کا یقین نہ ہونے کی وجہ سے حرمت مصاہرت کا  حکم  نہیں لگایا جاسکتا، اس لیے زید کا نکاح درست ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 36):

(وفي المس لا) تحرم (ما لم تعلم الشهوة) لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۸جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب