| 78734 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
بندہ نےعدالت میں اپنی پھوپھوزادسےنکاح کیااورہمارےوالدین کواس کےمتعلق کچھ پتانہیں تھا،جن گواہوں کےنام لکھے،ان کوبھی پتانہیں اوروہ وہاںموجودبھی نہیں تھے،ہم نےایک دوسرے کوچھواہے،چومابھی ہے،لیکن زنانہیں کیاتوکچھ دن پہلےمیں نےغصہ میں ایک طلاق دی،اس کےبعد اس سےرجوع کیا،اس کےبعدکل میسج پرہم بات کررہےتھےتوہماری لڑائی ہوئی اورمیں نےمیسج پرلکھا"تجھے طلاق،تجھےطلاق۔"لکھنےکےبعدمیں اس میسج کومٹانےلگاتومجھ سےسینڈہوگیا۔کیاہمارانکاح ٹھیک ہےیانہیں؟ اگرہواہےتوطلاق واقع ہوئی؟برائےمہربانی اس بارےمیں معلومات دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح منعقد ہونےکے لیے شرعا دو مرد یا کم از کم ایک مرد اور دو عورتوں کاگواہ ہونا ضروری ہے، لہذااگر ایجاب وقبول کے وقت لڑکا اور لڑکی کے علاوہ کم از کم جج سمیت دو مردیاایک مرد اور دو عورتیں موجود تھیں جنہوں نے ایجاب وقبول کےالفاظ سنےبھی ہوں توایسانکاح شرعامعتبرہےاوراس کے بعددی گئی زبانی طلاق اور رجوع اوراس کے بعدموبائل میسج کے ذریعہ سےسینڈکی گئی طلاقیں بھی شرعا معتبر ہیں، اس لیے کہ اس مسیج کے حقیقی ہونے میں اختلاف رائے بھی نہیں اور عورت کےلیے ایسی صورت میں شوہر کی غلطی سے سینڈ ہونے کی بات کا اعتبار بھی درست نہیں،لہذا ایسی صورت میں اس لڑکی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،البتہ اگر ایجاب وقبول کے وقت گواہی کی تعداد مکمل نہ تھی، یعنی صرف اکیلے جج تھا تو ایسا نکاح شرعا معتبر نہیں ،لہذا اس کے بعددی گئی طلاقیں بھی شرعا معتبر نہیں۔
واضح رہے کہ نکاح شرعی کےبغیرکسی نامحرم سےخلوت میں ملنا،چھونا،چومناوغیرہ بالکل حرام اورناجائز ہے، جس سے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے ایسا نہ کرنے کا عزم ضروری ہے ،نیزنکاح چونکہ ایک خاندانی نظام کی تشکیل اور قیام کا ذریعہ ہے، لہذا اس کا انعقاد بھی خاندانی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے، محض دو طرفہ ذاتی تعلقات کی بنیادپر کئے گئے نکاح بہت سارے مسائل اور مشکلات کا باعث ہوتے ہیں، نیز مشاہدہ سے ثابت ہے کہ ایسے نکاح دیر پا نہیں ہوتے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246):
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246):
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط (قوله إن مستبينا) أي ولم يكن مرسوما أي معتادا وإنما لم يقيده به لفهمه من مقابلة وهو قوله: ولو كتب على وجه الرسالة إلخ فإنه المراد بالمرسوم (قوله مطلقا) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو وقوله ولو على نحو الماء مقابل قوله إن مستبينا (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي. ولو وصل إلى أبيها فمزقه ولم يدفعه إليها، فإنه كان متصرفا في جميع أمورها فوصل إليه في بلدها وقع، وإن لم يكن كذلك فلا ما لم يصل إليها. وإن أخبرها بوصوله إليه ودفعه إليها ممزقا، وإن أمكن فهمه وقراءته وقع وإلا فلا ط عن الهندية.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۸جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


