| 79151 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
السلام علیکم!گزارش ہے کہ اب سے تقریباً پانچ سال پہلے جب میں کالج میں پڑھتا تھا ،اس وقت اپنی ایک چچا ز ادکزن کے ساتھ مجھ سےبد فعلی ہو گئی اور یہ معاملہ ہم سے پانچ چھ مرتبہ ہوا۔بعد میں میرا ایک دوست بنا جو دین دار فیملی سے تعلق رکھتا ہے،اس کےسمجھانے سے جب ہمیں احساس ہوا تو ہم بہت شرمندہ ہوئے اور بہت توبہ استغفار کی اور ابھی تک کر رہے ہیں۔ہم دونوں اپنے گناہ پر بہت شرمندہ ہیں اور اللہ سے بہت ڈر رہے ہیں ۔لیکن اب ہمارے والدین خاندانی طور پر ہم دونوں کا آپس میں ہی رشتہ کرنا چاہتے ہیں،تو کیا ہمارا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کا اپنی اسی چچازاد کزن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: قوله :(أو زنا)، أي وحل تزوج الموطوءة بالزنا أي الزانية.(البحر الرائق:3/114)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وصح نكاح حبلى من زنى لا حبلى من غيره، أي الزنى..... لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا ،والولد له ولزمه النفقة.(الدر المختار:3/49)
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
24جمادی الآخرۃ،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


